03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
“سفینہ”،”عاداب” چھالیہ اور”ماوا” کے کاروبار اورآمدنی کاحکم
89480جائز و ناجائزامور کا بیانجائز و ناجائز کے متفرق مسائل

سوال

کیافرماتے ہیں علماء کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ

ایک تاجر ہے جو کچھ ایسی چیزوں کی تجارت کرتا ہے، جیسے سفینہ، عاداب جو کہ جھالیا کی ایک قسم ہے لیکن چھالیا سے زیادہ خطرناک ہے، اور اسی طرح ماوا جو کہ کراچی میں مشہور ہے اور منشیات کی قسم میں آتی ہے۔ یہ سب چیزیں نشہ آور ہیں، مگر بعض اوقات یہ کہا جاتا ہے کہ یہ نشہ آور نہیں ہیں،  گوگل پر سرچ کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ چیزیں کیا ہیں۔

یہ دونوں، سفینہ اور عاداب، منشیات میں آتی ہیں، یہ انڈیاسے آتی ہیں لیکن بالکل حکومت کی اجازت سے نہیں آتیں۔ کچھ راستے ایسے ہیں جہاں پولیس وغیرہ روکتی ہے اور ان کو کچھ پیسے دے دیے جاتے ہیں۔یہ چیزیں صحت کے اعتبار سے مضر ہیں، لیکن جب زیادہ مقدار میں استعمال کرے۔

١۔ جو شخص ان کا کاروبارخود کرتا ہے،اس کےلیے کیاحکم ہے؟

۲۔جولوگ اسی کام کا صرف حساب و کتاب کا کام کرتے ہیں اورخود مالک نہیں ہوتے ان کےلیے کیاحکم ہے؟

۳۔ کچھ مزدور جو اس میں کام کرتے ہیں، ان  کے بارے میں کیا حکم ہے؟

 کیا ان حساب و کتاب کرنے والوں کی تنخواہ لینا یا جو مزدور کام کرتے ہیں، ان کی اجرت لینا جائز ہے یانہیں ؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

"سفینہ" اور "عاداب" دراصل چھالیہ ہی کی تیار شدہ اور زیادہ تیز اثر رکھنے والی اقسام ہیں، جن میں بعض اوقات کیمیائی اجزاء شامل کیے جاتے ہیں، اسی وجہ سے یہ عام چھالیہ کے مقابلے میں زیادہ مضرِ صحت سمجھی جاتی ہیں۔

"ماوا"  گٹکے کی اقسام میں سےہے، ماہرین کے مطابق یہ ایک قسم کامصالحہ ہے جس میں جوزتری ،پستہ،لونگ، الائیچی، سرخ مٹی، تیزاب، چونا اور دیگر کیمائی نشہ آور مادےاستعمال  کیے جاتےہیں،اور اس کےاستعمال سے جبڑے ،مسوڑےاور معدہ متاثر ہوتاہےاور منہ کے کینسر کا باعث بنتا ہے،ممکن ہے بعض جگہ یہ اجزاء استعمال نہ کیے جاتے ہوں)، مضرِّ صحت ہونے کی وجہ سے قانونی طور پر  اس کا کھانا اور بیچنا سخت ممنوع ہے جس پر قانوناً سزا بھی دی جاتی ہے۔

 چونکہ یہ چیزیں شراب یا خالص منشیات کی طرح قطعی نشہ آور  نہیں ہوتیں بلکہ ان کا ضرر استعمال کی مقدار اور عادت پر موقوف ہوتا ہے؛ اس بنا پر فقہی اعتبارسے ان کی خرید و فروخت اور آمدنی کو فی نفسہ بالکل حرام تو نہیں کہا جاسکتا،البتہ حکومتی قانون کی پاسداری اور حفظانِ صحت کا لحاظ کرتے ہوئے ان چیزوں کےکھانے اور اس کے بیچنے سے احتراز کرنا چاہیے تاکہ صحت بھی محفوظ رہے اور قانونی خلاف ورزی بھی نہ ہو۔کیونکہ مباح امور میں حکومت کے جائز قوانین کی پابندی شرعاً لازم ہوتی ہے ۔

بہرحال اصل مدار مضر صحت ہونے یا نہ ہونے اور قانونا ممانعت اوراجازت پر ہے اور چوں کہ سوال میں مذکوراشیاء کا مضر صحت ہونا معروف ہےا ور قانونا بھی اس کی ممانعت ہے اس لیے گریز لازم ہے۔

حوالہ جات

مسند احمد: (350/4، ط: دار الحدیث)

عن النبي صلي الله عليه وسلم قال: "السمع والطاعة على المرء فيما أحب أو كره، إلا أن يؤمر بمعصية، فإن أمر بمعصية فلا سمع ولا طاعة".

موسوعة الفقه الاسلامی:(293/2، ط: بیت الافکار الدولیۃ)

فكل ما خلق الله الأصل فيه الحل والإباحة ما لم يرد دليل يحرمه. وكل ما صنع الإنسان من الآلات والأجهزة فالأصل فيه الحل والإباحة ما لم يرد فيه دليل يحرمه.

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (6/ 460)

"وفي الأشباه في قاعدة: الأصل الإباحة أو التوقف، ويظهر أثره فيما أشكل حاله كالحيوان المشكل أمره والنبات المجهول سمته اهـ.

رد المحتار: (باب البيع الفاسد، 69/5، ط: سعید)

"والحاصل أن جواز البیع یدور مع حل الانتفاع".

و فیه ایضاً: (كتاب الأشربة، 460/6، ط: سعید)

"وفي الأشباه في قاعدة: الأصل الإباحة أو التوقف، ويظهر أثره فيما أشكل حاله كالحيوان المشكل أمره والنبات المجهول.قلت: فيفهم منه حكم النبات الذي شاع في زماننا المسمى بالتتن فتنبه.(قوله: ربما أضر بالبدن) الواقع أنه يختلف باختلاف المستعملين ط (قوله: الأصل الإباحة أو التوقف) المختار الأول عند الجمهور من الحنفية والشافعية كما صرح به المحقق ابن الهمام في تحرير الأصول (قوله: فيفهم منه حكم النبات) وهو الإباحة على المختار أو التوقف. وفيه إشارة إلى عدم تسليم إسكاره وتفتيره وإضراره، وإلا لم يصح إدخاله تحت القاعدة المذكورة ولذا أمر بالتنبه."

''قلت،وألف في حلہ أیضا سیدنا العارف عبد الغني النابلسي رسالۃ سماھا. ( الصلح بین الإخوان في إباحۃ شرب الدخان)۔۔۔۔فإنہ لم یثبت إسکارہ ولا تفتیرہ، ولا إضرارہ،بل یثبت لہ منافع، فھو داخل تحت قاعدہ الأصل في الأشیاء الإباحۃ، وإن فرض إضرارہ للبعض لا یلزم منہ تحریمہ علی کل أحد، فإن العسل یضر بأصحاب الصفرآء الغالبۃ، وربما أمرضھم مع أنہ شفاء بالنص القطعی ولیس الاحتیاط في الافتراء علی اﷲ تعالیٰ بإثبات الحرمۃ أو الکراھۃ اللذین لا بد لہما من دلیل بل في القول بالإباحۃ التي ہي الأصل، وقد توقف النبي - صلی اﷲ علیہ وسلم- مع أنہ ھو المشرع في تحریم الخمر أم الخبائث حتی تزل علیہ النص القطعي، فالذي ینبغي للإنسان إذا سئل عنہ۔۔۔أن یقول ھو مباح،لکن رائحتہ تستکرھھا الطباع فھو مکروہ طبعا الشرعا إلی آخرما أطال بہ رحمہ اﷲ تعالی.(ردالمحتار، کتاب الأشربۃ: ٦/٤٥٩، سعید)                                      

سیدحکیم شاہ عفی عنہ

دارالافتاء جامعۃ الرشید

03/7/1447ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

سید حکیم شاہ

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب