03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
بیوی ،چار بیٹے اور دو بیٹیوں کے درمیان میراث کی تقسیم
89545میراث کے مسائلمیراث کے متفرق مسائل

سوال

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ ، ایک مسئلہ پوچھنا تھا مسئلہ کی نوعیت یہ ہے کہ ہم چار بھائی ، دو  بہنیں اور ایک والدہ ہے ۔ والد صاحب فوت ہو چکے ہیں اور ان کو فوت ہوئے تقریبا کوئی 24 سے  25 سال گزرے  ہیں۔  ان کے نام ڈھائی مرلہ کا  ایک مکان تھا ،  اس کو فروخت کرکے ہم بھائیوں نے کہیں اور  پانچ مرلے کا  پلاٹ خریدا  جس کی قیمت چالیس لاکھ ہے اور بھائیوں نے اپنےذاتی خرچہ سے  45 لاکھ لگا کر  اس کو تعمیر کیااب سوال یہ ہے کہ کیا ہم ورثہ (بہن، بھائی اور والدہ) صرف پلاٹ کی قیمت جو کہ   40 لاکھ ہے آپس میں تقسیم کریں  یا  پھر  جو تعمیر کا خرچہ ہے وہ بھی ہم سب بہن بھائی اور والدہ میں تقسیم کریں؟او ر اس کو کیسے تقسیم کیا جائے رہنمائی فرمائیں۔

نیز یاد رہے کہ نئے گھر کے تعمیر میں بہنوں اور والدہ نے  کچھ بھی   خرچ  نہیں کیا۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

میراث وہ مال کہلاتا ہے جو بوقت وفات میت کی ملکیت میں موجود ہو، چونکہ صورت مسؤلہ میں بوقت وفات  میت کی ملکیت میں صرف   ایک مکان تھا، جسے بعد میں  فروخت کر کے ایک نیا  پانچ مرلہ کا پلاٹ خریداجس کی موجودہ  قیمت چالیس لاکھ ہے ۔لہذا میت کے ورثہ کے درمیان جب بھی میراث کی تقسیم ہوگی تو   یہی    پانچ مرلہ کا پلاٹ  اس وقت کی موجودہ  قیمت کے اعتبار سے  تقسیم ہو گا۔ چونکہ تعمیر بھائیوں نے اپنی رقم سے کی ہےبہنوں یا والدہ نے کوئی حصہ نہیں ملایا تو شرعا یہ بھائیوں کی ملکیت ہے ۔لہذا تعمیر کی قیمت بھائیوں کے درمیان اپنے اپنے حصہ کے بقدر تقسیم ہوگی۔

اگر ابھی میراث تقسیم کرنا چاہتے ہیں تو میت کے ورثہ     میں اگر صرف بیوی ،چار بیٹے اور دو بیٹیاں ہیں  تو موجودہ قیمت (چالیس لاکھ ) کے اعتبار سے ان کے درمیان   تقسیم ذیل میں درج کی جاتی ہے:

مر حوم کی بیوی ( آپ کی والدہ) کو آٹھواں حصہ (500000)روپے  ، ہر ایک بیٹی کو (350000)روپے اور ہر ایک بیٹے کو(700000) روپے ملیں گے۔

اور اگر بعد میں تقسیم کرنا   چاہیں تو تقسیم کے  وقت پانچ مرلہ کے پلاٹ کی جو بھی قیمت ہوگی  وہ ورثہ میں ان کے حصوں کے  اعتبار سے  تقسیم ہوگی۔اور اس صورت میں حصص کی مذکورہ  مقدار کالعدم ہوگی۔

 

بیوی

بیٹی

بیٹی

بیٹا

بیٹا

بیٹا

بیٹا

مجموعہ

عددی حصہ

10

7

7

14

14

14

14

100

فیصدی حصہ

12.50

8.75

8.75

17.50

17.50

17.50

17.50

100

حوالہ جات

ولهن ‌الربع ‌مما ‌تركتم إن لم يكن لكم ولد فإن كان لكم ولد فلهن الثمن ‌مما ‌تركتم من بعد وصية توصون بها أو دين} [النساء: 12

النساء: 11]

‌يوصيكم الله في أولادكم للذكر مثل حظ الأنثيين فإن كن نساء فوق اثنتين فلهن ثلثا ما ترك وإن كانت واحدة فلها النصف.

تكملة حاشية ابن عابدين = قرة عيون الأخيار تكملة رد المحتار ط الفكر (7/ 350):

لان التركة في الاصطلاح ‌ما ‌تركه ‌الميت من الأموال ‌صافيا ‌عن ‌تعلق ‌حق الغير بعين من الأموال كما في شروح السراجية.

عادل ارشاد علی

دارالافتاء جامعۃ الرشید کراچی

3 /رجب المرجب / 1447ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

عادل ولد ارشاد علی

مفتیان

فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب