03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
زکوۃ ،صدقات و مالی تعاون کےمخلوط اکاؤنٹ سے خاندان کے افراد کا تعاون کرنے کا حکم
89544زکوة کابیانصدقات واجبہ و نافلہ کا بیان

سوال

ہم اپنے خاندان والے یعنی چچا زاد مامو زاد سب نےمل کے ایک اکاؤنٹ بنایا ہوا ہے اس میں اپنے زکوۃ صدقات اور مالی تعاون کے پیسے جمع کرتے ہیں پھر بوقت ضرورت کسی مستحق بندے کی مدد کرتے ہیں جو ہمارے اپنے خاندان سے ہو اب پوچھنا یہ ہے کہ ہم ان پیسوں کو جو مخلوط ہوتے ہیں زکوۃ بھی ہوتا ہے صدقہ بھی ہوتا ہے اور ویسے تعاون بھی ہوتا ہے جو کہ ایک اکاؤنٹ میں جمع ہوتا ہے خاندان میں کن کن افراد پر خرچ کر سکتے ہیں۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

زکوة ، صدقہ فطر اور عشر اپنے اصول ( والدین ، دادا، دادی، نانا، نانی وغیرہ اوپر تک) اور فروع ( بیٹا، بیٹی ، پوتا، پوتی، نواسہ، نواسی وغیرہ نیچے تک) کو نہیں دے سکتے  ، اسی طرح بیوی اپنے شوہر کو اور شوہر اپنی بیوی کو نہیں دے سکتا ،اس کے علاوہ کسی مال دارصاحب نصاب یا سید ہاشمی کوبھی نہیں دے سکتے ، اسی طرح کا فر کو بھی دیناجائز نہیں ہے ۔

صورت مسئولہ میں   جو افراد  زکوۃ دھندگان کے اصول وفروع  میں سے ہیں  مشترک ا  کاؤنٹ سے ان  کی مدد کرنامناسب  نہیں، کیونکہ اس صورت میں  زکوۃ کی ادائیگی کے حوالے سے بہت سی پیچیدگیاں پید ا ہو سکتی ہیں۔ لہذا زکوۃ اور صدقہ کے   اکاؤنٹ الگ رکھنے چاہیے ۔تاہم اگر ہر وقت کچھ متعین مصارف  ہوتے ہوں اوران سے لکھوا بھی لیا جائےکہ ہم آپ کے لیے زکوۃ وصول کر کے زکوۃ کے مصارف میں خرچ کر یں گےتو ایک ا  کاؤنٹ میں رکھنے کی گنجائش ہوگی۔اس صورت میں بھی زکوۃ کی  رقم کا حساب الگ  سے رکھنا ہوگااوراس کو  یقینی بنانا ہوگا کہ وہ رقم  مصرف  پر ہی خرچ ہو رہی ہے۔

حوالہ جات

بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع (2/ 50):

ويجوز ‌دفع الزكاة إلى من سوى الوالدين والمولودين من الأقارب ومن الإخوة والأخوات وغيرهم؛ لانقطاع منافع الأملاك بينهم.

الفتاوى العالمكيرية = الفتاوى الهندية (1/ 189):

يجوز ‌دفع الزكاة إلى من يملك نصابا أي مال كان دنانير أو دراهم أو سوائم أو عروضا للتجارة أو لغير التجارة فاضلا عن حاجته في جميع السنة هكذا في الزاهدي والشرط أن يكون فاضلا عن حاجته الأصلية، وهي مسكنه، وأثاث مسكنه وثيابه وخادمه، ومركبه وسلاحه، ولا يشترط النماء إذ هو شرط وجوب الزكاة لا الحرمان كذا في الكافي. ويجوز دفعها إلى من يملك أقل من النصاب.

بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع (2/ 49):

فلا ‌يجوز صرف الزكاة إلى الكافر بلا خلاف.

بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع (2/ 47):

لا ‌يجوز صرف الزكاة إلى الغني لا ‌يجوز صرف جميع الصدقات المفروضة والواجبة إليه كالعشور والكفارات والنذور وصدقة الفطر لعموم قوله تعالى {إنما الصدقات للفقراء} [التوبة: 60].

الفتاوى العالمكيرية = الفتاوى الهندية (1/ 171):

إذا ‌وكل ‌في ‌أداء الزكاة أجزأته النية عند الدفع إلى الوكيل فإن لم ينو عند التوكيل ونوى عند دفع الوكيل جاز كذا في الجوهرة النيرة وتعتبر نية الموكل في الزكاة دون الوكيل كذا في معراج الدراية فلو دفع الزكاة إلى رجل وأمره أن يدفع إلى الفقراء فدفع، ولم ينو عند الدفع جاز.

عادل ارشاد

دارالافتاء جامعۃ الرشید کراچی

۳/رجب المرجب  /۱۴۴۷ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

عادل ولد ارشاد علی

مفتیان

فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب