03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
تکافل کمپنی کا حصہ بننےکا حکم
89601سود اور جوے کے مسائلمختلف بینکوں اور جدید مالیاتی اداروں کے سود سے متعلق مسائل کا بیان

سوال

ہمارے ملک میں تکافل اور انشورنس کے مختلف ادارے کام کر رہے ہیں، مگر ہماری تحقیق کے مطابق بیمہ، انشورنس اور تکافل وغیرہ سب نا جائز ہیں۔ ان میں متعدد شرعی قباحتیں پائی جاتی ہیں، مثلا ان میں قمار (جوا)، سود اور مجہول کاروبار کی صورتیں شامل ہیں۔ اسی طرح وقف علی النفس، وقف میں رجوع، ایک ہی شخص کا بیک وقت رب المال اور مضارب ہونا، اور عوض کے بدلے صدقہ و ہبہ جیسے مفاسد بھی موجود ہیں۔ البتہ بعض علماء اسے جائز قرار دیتے ہیں، مثلاً کراچی کے ایک عالم طیب ” تکافل“   نامی ادارے کے ساتھ وابستہ ہیں اور وہ اسے جائز کہتے ہیں۔ میں نے خود ان کی تکافل کے جواز کے متعلق تقریر بھی سنی ہے۔ میرا اصل سوال ’’طیب تکافل‘‘کے بارے میں ہی ہے کہ آیا اس کا ممبر بننا شرعاً جائز ہے یا نہیں؟ ان کے نظام کا مختصر تعارف یہ ہے، جیسا کہ  ان کے نمائندوں سےمعلوم ہوتا ہے: وہ سب سے پہلے ممبران کا اندراج کرتے ہیں اور تقریباً بیس سال کی مدت مقرر کی جاتی ہے۔ ہر سال ایک سے دو لاکھ روپے قسطوں کی صورت میں وصول کیے جاتے ہیں، لیکن منافع پورے بیس سال کی متوقع رقم یعنی چالیس لاکھ پر شمار کیا جاتا ہے، خواہ ابھی تمام رقم جمع نہ کرائی گئی ہو۔ پھر اس منافع کی بعض رقم ممبران کے ساتھ شامل کی جاتی ہے اور بعض وقف فنڈ میں منتقل کردی جاتی ہے۔ اگر کوئی شخص آج ممبر بنے اور صرف دو لاکھ روپے جمع کرائے اور حادثے میں فوت ہوجائے تو اسے (یعنی اس کے ورثاء کو) چالیس لاکھ روپے ادا کیے جاتے ہیں، حالانکہ اس نے صرف دو لاکھ روپے جمع کرائے ہوتے ہیں۔ کیا اس کا ممبر بننا جائز ہے یا نہیں۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

بنیادی طور پر تکافل کو سود پر مبنی انشورنس اور بیمہ کے متبادل کے طور پر متعارف کرایا  گیا ہے۔  ہمارے دار الافتاء میں اس حوالے سے تحقیق جاری ہے۔تاہم دار الافتاء جامعہ دار العلوم کراچی کی رائے جواز کی ہے  ۔

آپ کرنا چاہیں تو اس بارے میں تفصیلی  معلومات کے لیے دارالافتاء جامعہ دارالعلوم کراچی سے رجوع کیا جاسکتا ہے۔

حوالہ جات

اسفندیارخان بن عابد الرحمان

دارالافتاء جامعۃ الرشید ،کراچی

4/رجب المرجب /1447ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

اسفندیار خان بن عابد الرحمان

مفتیان

فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب