| 89487 | اجارہ یعنی کرایہ داری اور ملازمت کے احکام و مسائل | کرایہ داری کے جدید مسائل |
سوال
حکومتِ پاکستان کی ’’میرا گھر میرا آشیاں‘‘ ہاؤسنگ اسکیم میں گھر خریدنے یا تعمیر کرنے کے لیے کم شرحِ منافع (5%یا8% فکسڈ) پر قرض دیا جاتا ہے۔ یہ سہولت خاص طور پر پہلی بار گھر لینے والوں کے لیے ہے۔
ٹرم (Loan Term)
قرض 10 سال یا 20 سال میں واپس کیا جا سکتا ہے،پہلے 10 سال تک حکومت سبسڈی دیتی ہے جس سے مارک اپ کم رہتا ہے۔
ادائیگی کا طریقہ (Payment Method)
بینک پیسے براہِ راست گھر کے مالک/بیچنے والے کے اکاؤنٹ میں بھیجتا ہے۔گھر مکمل طور پر آپ کے نام ہوتا ہے لیکن فروخت نہیں کر سکتے جب تک بینک کی پوری رقم واپس نہ ہو جائے۔
رقم کی واپسی کا طریقہ (Repayment Method)
آپ ہر مہینے فکسڈ قسط (installment) ادا کرتے ہیں ،تاخیر پر کوئی جرمانہ نہیں۔
جب پوری رقم ادا ہو جائے تو بینک اپنا حقِ ملکیت ہٹا دیتا ہے اور گھر آپ کا مکمل حق بن جاتا ہے۔اسلامی نقطۂ نظر سے کیا یہ اسکیم حلال ہے یا حرام؟بینک کا کہنا ہے کہ یہ اسکیم سود پر مبنی نہیں ہے بلکہ کرائے کی بنیاد (Rental Income) پر چلتی ہے۔ ان کے مطابق بینک گھر آپ کو نہیں بیچتا بلکہ آپ کو گھر استعمال کرنے کا حق دیتا ہے، اور آپ اس کے بدلے کرایہ (rent) ادا کرتے ہیں، اسی وجہ سے وہ اسے حلال قرار دیتے ہیں۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
عام کنونشنل بینکوں سے ’’ میرا گھر میرا آشیاں ‘‘کا قرضہ لینا جائز نہیں ہے کیونکہ یہ سودی قرضہ ہے جو کہ حرام وناجائز ہے ، البتہ غیر سودی بینک مفتیانِ کرام کی نگرانی میں سود کے بجائے اسلامی طریقہ ہائے تمویل( اسلامک موڈ آف فائنانس) جیسےشرکت ِ متناقصہ (ڈمنشنگ مشارکہ ) کو استعمال کرتے ہوئے یہ اسکیم فراہم کر رہے ہیں لہذا اسلامی بینک کے واسطہ سے اس اسکیم کو لینا جائز ہے۔
حوالہ جات
بحوث في قضايا فقهية معاصرة(ص250)
والطريق الثاني للتمويل العقاري يبتنى على أساس الشركة المتناقصة. وإن هذا الطريق يتلخص في نقاط تالية: إن الممول والعميل يشتريان البيت على أساس شركة الملك، فيكون البيت مشاعا بينهما بنسبة حصة الثمن التي دفعها كل واحد منهما، فإن دفع كل منهما نصف الثمن، يكون البيت مشاعا بينهما بالنصف، وإن دفع أحدهما الثلث والآخر الثلثين، كان البيت بينهما أثلاثا، وهكذا. ثم يؤجر الممول حصته من البيت إلى العميل بأجرة شهرية أو سنوية معلومة بينهما.
ج- وتقسم حصة الممول على سهام متعددة معلومة، كالعشرة مثلا.
د- وبعد كل فترة دورية متفق عليها بين الفريقين )كستة أشهر مثلا( يشتري العميل سهما من هذه السهام بحصة من الثمن، فإن كانت حصة الممول مثلا تساوي ستة أشهر يشتري العميل سهما بعشرين ألف ربية هـ - وبعد شراء سهم من حصة الممول تنتقص ملكيته في البيت، وتزداد ملكية العميل.... وأما إجارة حصة الممول من العميل، فهذه إجارة جائزة أيضا.
مجلة مجمع الفقه الإسلامي (13/ 873)
الشركة المتناقصة إحدى أدوات الاستثمار القصيرة الأجل كـ المرابحة والسلم والاستصناع والإجارة المنتهية بالتمليك، وهي أداة ناجحة تنقذ المتعاملين من التورط في الربا وغيره من المحرمات شرعا.وهي التي يتفق فيها الشريكان على إمكان التنازل من أحد الطرفين عن حصته في المشاركة للطرف الآخر، إما دفعة واحدة، أو على دفعات بحسب شروط متفق عليها. ويظل فيها كل شريك متمتعا بحقوقه، ملتزما بجميع التزاماته، إلى أن يتم الخروج من الشركة.ومشروعيتها واضحة، لأنها لا تتصادم مع أصول الشريعة أو نصوصها، ولا تتعارض مع مقتضى العقد، وتحقق مصلحة للمتعاقدين دون إضرار، ما دامت قائمة على التراضي، دون معارضة لشيء من أحكام الشرع.
تفسير الألوسی (2/ 52)
وكان النبي صلى الله تعالى عليه وسلم صالح ثقيفا فطلبوا رباهم إلى بني المغيرة ۔۔۔ فأنزل الله تعالى: يا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إلخ، فكتب رسول الله صلى الله تعالى عليه وسلم إلى معاذ بن جبل أن أعرض عليهم هذه الآية فإن فعلوا فلهم رؤوس أموالهم وإن أبوا فآذنهم بحرب من الله تعالى ورسوله وذلك قوله تعالى: فَإِنْ لَمْ تَفْعَلُوا أي ما أمرتم به من الاتقاءفَأْذَنُوا أي فأيقنوا وهو التفسير المأثور عن ابن عباس رضي الله تعالى عنهما بِحَرْبٍ مِنَ اللَّهِ وَرَسُولِهِ وهو كحرب المرتدين على الأول وكحرب البغاة على الثانيَ.
ابن امین صاحب دین
دارالافتاءجامعۃالرشیدکراچی
04/رجب المرجب 1447ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | ابن امین بن صاحب دین | مفتیان | فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب |


