03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
بیوی کا نان نفقہ اور والدین کی طرف سے ملنے والے زیورات کا حکم
89526نان نفقہ کے مسائلبیوی کا نان نفقہ اور سکنہ ) رہائش (کے مسائل

سوال

مفتیانِ کرام کی خدمت میں گزارش ہے کہ میری بیٹی کی شادی میرے بھتیجے سے ہوئی  جو کہ عالم بھی ہے،اور پانچ سال کے عرصے میں اس نے مسلسل اس پر ظلم کیا، جیسے مارپیٹ، گالی گلوچ، بیوی سے بات تک نہ کرنا، گھر والوں کا ساتھ دینا، اور غالب گمان ہے کہ ازدواجی تعلقات بھی قائم نہیں کیے۔ میں اس دوران کراچی میں رہائش پذیر تھا اور بچی نے کچھ نہیں بتایا، پھر جب میں آیا تو انہوں نے اسے میرے گھر بھیج دیا، اور اب ایک سال دو ماہ سے وہ میرے پاس ہے، لیکن شوہر یا اس کے گھر والوں نے صلح یا واپسی کی کوئی کوشش نہیں کی، جبکہ لڑکی میں کوئی ایسا عیب بھی نہیں جس کی بنیاد پر گھر سے نکالا جائے۔ میں نے انہیں بتایا ہے کہ فیصلہ قرآن کے مطابق ہوگا؛ لہٰذا میری سمجھ کے مطابق جتنا عرصہ بیٹی میرے گھر میں رہی ہے اس کا نان و نفقہ شوہر کے ذمہ ہوگا، اور جو زیور میں نے اپنی بیٹی کو دیا تھا اور جس میں سے کچھ انہوں نے بیچ کر کمرہ بنایا ہے وہ زیور چونکہ لڑکی کی ملکیت تھا، اس لیے اسے واپس کرنا بھی لازم ہوگا۔ مزید یہ کہ دونوں طرف سے   لگائے  گئے الزامات کے بارے میں میں نے قسم کی شرط رکھی ہے کیونکہ لڑکے والے جھوٹ میں بہت آگے ہیں۔ براہ کرم قرآن و سنت کی روشنی میں رہنمائی فرمائیں کہ اس معاملے کا شرعی حل کیا ہے، زیور کا حق کس کو ملے گا، اور نان و نفقہ کس کے ذمہ ہوگا۔

تنقیح:شوہر نے بیوی کو یہ پیش کش کی کہ وہ اس کے زیورات کی قیمت کے عوض اس کے لیے ایک  کمرہ تعمیر کرے گا، جس پر بیوی نے رضامندی ظاہر کر دی۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

واضح رہے کہ نکاح کے بعد بیوی کی رہائش اور نان نفقہ کا انتظام کرنا  شوہر پر لازم ہے،اور جہاں شوہر اپنی رہائش رکھے  اپنی بیوی کو بھی  ساتھ   رکھے۔لہذا صورتِ مسئولہ میں خاوند کا  اپنی  اہلیہ کو اُس کے  باپ کے گھر   اس کی رضامندی کے بغیر چھوڑ دینا شرعاً جائز نہیں ،نان نفقہ اور رہائش بیوی کا حق ہے اگر خاوند اپنی اہلیہ کی حق تلفی کررہا ہو تو اہلیہ بذریعہ عدالت اپنے حق کا مطالبہ کرنے کا حق رکھتی ہے۔ لہذا شوہر کے لیےنان نفقہ وغیرہ  ادا کرنا ضروری تھا۔ اگر اس نے وقت پر ادا نہ کیا ہو لیکن مطالبے پر سابقہ بھی ادا کرنے کا وعدہ کر لے تو آہستہ آہستہ وصول کر لیا جائے۔ اگر وہ انکار کر دے تو عدالتی کاروائی کے ذریعے اسے طلب کیا جائے۔ عدالتی فیصلے کی روشنی میں مطالبے کے وقت سے شوہر خرچہ دینے کا پابند ہوگا۔

 لڑکی کو والدین کی طرف سے دیا جانے والا سونا وغیرہ، یا مہر کے طور پر ملنے والا سامان، سب لڑکی  کی ذاتی ملکیت اور اس  کا حق  ہے۔لہذا   صورتِ مسئولہ میں  اگر بیوی نے شوہر کو وہ زیورات بطور ہدیہ نہیں دیے تھے بلکہ بطور قرض دیے یا انہوں نے بلا اجازت بیچے ہیں تو شوہر کے ذمہ لازم ہے کہ وہ  ان زیورات کی مثل یا ان کی قیمت بیوی کو واپس کرے۔

حوالہ جات

حاشية ابن عابدين = رد المحتار (3/ 153):

‌قلت: ‌ومن ‌ذلك ‌ما ‌يبعثه ‌إليها ‌قبل ‌الزفاف ‌في ‌الأعياد والمواسم من نحو ثياب وحلي، وكذا ما يعطيها من ذلك أو من دراهم أو دنانير صبيحة ليلة العرس ويسمى في العرف صبحة، فإن كل ذلك تعورف في زماننا كونه هدية لا من المهر ولا سيما المسمى صبحة، فإن الزوجة تعوضه عنها ثيابها ونحوها صبيحة العرس أيضا .

الفتاوى العالمكيرية = الفتاوى الهندية (1/ 327):

‌وإذا ‌بعث ‌الزوج ‌إلى ‌أهل ‌زوجته ‌أشياء ‌عند ‌زفافها منها ديباج فلما زفت إليه أراد أن يسترد من المرأة الديباج ليس له ذلك إذا بعث إليها على جهة التمليك، كذا في الفصول العمادية.

الفتاوى العالمكيرية = الفتاوى الهندية (1/ 556):

تجب ‌السكنى ‌لها ‌عليه ‌في ‌بيت ‌خال عن أهله وأهلها إلا أن تختار ذلك.

الفتاوى العالمكيرية = الفتاوى الهندية (1/ 544):

تجب على الرجل نفقة امرأته المسلمة والذمية والفقيرة والغنية دخل بها أو لم يدخل كبيرة كانت المرأة أو صغيرة يجامع مثلها كذا في فتاوى قاضي خان سواء كانت حرة أو مكاتبة كذا في الجوهرة النيرة.

حاشية ابن عابدين = رد المحتار (3/ 572):

وشرعا: (هي الطعام والكسوة والسكنى) وعرفا هي: الطعام (ونفقة الغير تجب على الغير بأسباب ثلاثة: زوجية، وقرابة، وملك) بدأ بالأول لمناسبة ما مر أو؛ لأنها أصل الولد (فتجب للزوجة) بنكاح صحيح، فلو بان فساده أو بطلانه رجع بما أخذته من النفقة بحر (على زوجها) ؛ لأنها جزاء الاحتباس.

حاشية ابن عابدين = رد المحتار (3/ 594):

والنفقة ‌لا ‌تصير ‌دينا إلا بالقضاء أو الرضا) أي اصطلاحهما على قدر معين أصنافا أو دراهم، فقبل ذلك لا يلزم شيء۔۔۔۔(قوله ‌والنفقة ‌لا ‌تصير ‌دينا إلخ) أي إذا لم ينفق عليها بأن غاب عنها أو كان حاضرا فامتنع فلا يطالب بها بل تسقط بمضي المدة.

درر الحكام في شرح مجلة الأحكام (3/ 92):

المسألة الخامسة والعشرون - ‌لا ‌يسقط ‌الدين ‌الصحيح ‌إلا ‌بالأداء أو الإبراء

مجیب الرحمان بن محمد لائق

دارالافتاء جامعۃ الرشید کراچی

06  /رجب المرجب  /1447ھ

 

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

مجیب الرحمٰن بن محمد لائق

مفتیان

فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب