03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
بینک میں رکھی ہوئی پینشن پرسال پورا ہونے کےبعدزکوۃ کا حکم
89572زکوة کابیانان چیزوں کا بیان جن میں زکوة لازم ہوتی ہے اور جن میں نہیں ہوتی

سوال

سوال یہ ہے کہ جون 2024 میں میرے والد صاحب نے اپنی پینشن بینک میں رکھوائی اور جولائی 2025 کو ساری رقم نکال کر اس کا گھر بنا لیا۔ یہ پورا ایک سال بینک میں پڑی رہی لیکن سال کے درمیان میرے والد صاحب کچھ پیسے  اکاؤنٹ سےنکالتے بھی رہے اور کچھ پیسے ڈالتے بھی رہے۔ لہذا میں یہ پوچھنا  چاہتا ہوں کہ چونکہ وہ رقم اس وقت تو موجود نہیں ہے ،اس کا گھر بنا لیا گیا  ہے، البتہ اس رقم پر سال گزر چکا تھا ،تو کیا زکوۃ واجب ہوئی تھی یا نہیں ؟اور اگر واجب ہوئی تھی تو کتنی واجب ہوئی  تھی ؟برائے کرم میری رہنمائی فرمائیں ۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

واضح رہے کہ مالک ِنصاب ہونے کے بعدقمری   سال پورے ہو نے پر  زکوۃ کے احکام متوجہ ہو جاتے ہیں ، نیز  زکوۃ کے وجوب کے لیے سال کے ابتداء اور انتہاء میں  نصاب کا کامل ہونا کافی ہے۔درمیان سال  میں  مال  کا(چاہے وہ  سامانِ تجارت کی صورت میں ہو  یا نقدی  )  نصاب سے کم ہونے کا اعتبار نہیں  ۔لہذاآپ کے والد  کی پینشن اگر ساڑھے باون تولہ چاندی کی مالیت تک پہنچتی تھی    تواس  پرزکوۃ لازم ہوگی۔

  لہذا صورت مسئولہ میں جس دن والد کی ادائیگی زکوۃ کی تاریخ ہے ،اس دن اگر وہ رقم موجودتھی تواس رقم میں سے  چالیسواں  حصہ  نکال کر زکوۃ ادا کرنا لازم ہے۔

حوالہ جات

البحر الرائق شرح كنز الدقائق:(2/243

وإنما وجب ربع العشر لحديث مسلم «ليس فيما دون خمس أواق من الورق صدقة» والأوقية أربعون درهما كما رواه الدارقطني ولحديث علي وغيره في الذهب وعبر المصنف بالوجوب تبعا للقدوري في قوله الزكاة واجبة .

المبسوط للسرخسي:2/172

(قال) وإذا كان النصاب كاملا في أول الحول وآخره فالزكاة واجبة، وإن انتقص فيما بين ذلك وقتا طويلا ما لم ينقطع أصله من يده ومال السائمة والتجارة فيه سواء عندنا.

مراقی الفلاح:271

وشرط وجوب أدائها حولان الحول على النصاب الأصلي "المستفاد في أثناء الحول، فيضم إلى مجانسة، ويزكى بتمام الحول الأصلي".

(بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع:(2/15

أما الأول فكمال النصاب شرط وجوب الزكاة فلا تجب الزكاة فيما دون النصاب؛ لأنها لا تجب إلا على الغني والغنى لا يحصل إلا بالمال الفاضل عن الحاجة الأصلية وما دون النصاب لا يفضل عن الحاجة الأصلية فلا يصير الشخص غنيا به؛ ولأنها وجبت شكر النعمة المال.

ولكن هذا الشرط يعتبر في أول الحول وفي آخره لا في خلاله حتى لو انتقص النصاب في أثناء الحول ثم كمل في آخره تجب الزكاة سواء كان من السوائم أو من الذهب والفضة أو مال التجارة، وهذا قول أصحابنا الثلاثة.

حنبل اکرم

دارالافتاء جامعۃ الرشید ،کراچی

06 /رجب المرجب /1447ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

حنبل اکرم بن محمد اکرم

مفتیان

شہبازعلی صاحب