03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
بیوی کا خاوند سے جھوٹ بولنا کہ شرط پوری ہوگئی سے کیا طلاق واقع ہو جاتی ہے
89538طلاق کے احکامطلاق کو کسی شرط پر معلق کرنے کا بیان

سوال

بیوی اپنے رشتے داروں کے گھر گئی تھی ،جس کے سبب اسے وہاں 5 دن گزارنے پڑے ۔ شوہر  اس بات پر غصہ تھے کہ تم  نے وہاں چار راتیں  میری اجازت کے بغیر کیوں گزاری، بیوی نے کہا کہ میں نے کوئی برا کام تو نہیں کیا اپنے والد کے ساتھ گئی تھی، تو اسی بات پر  تین ماہ تک شوہربیوی کے ساتھ لڑتے رہے اور آخر بیوی کو کال کر کے کہا کہ اب میری اجازت کے بغیر نکلی تو ( پما بہ طلا قہ ای ) تمہیں طلاق ہو ۔اس کے بعد کئی مرتبہ کہا کہ اگر باہر نکلی تو آزاد ہو گی  اور بات مکمل ختم ہو گی  اور تمھارے بھائیوں سے بھی کہتا ہوں کہ اگر باہر نکلی تو طلاق ہو گی ۔تو بیوی نے شوہر سے کہا آپ نے صرف ایک مرتبہ اجازت کا کہا ہے، باقی جملوں میں آپ نے اجازت کا ذکر نہیں کیا ،تو اب میں اجازت کے ساتھ بھی نکلی تو طلاق ہو جائے گی ، شوہر نے کہا میرا مطلب اجازت کے بغیر نکلنا ہی ہے ،اور جب بھی میں ایسی بات کہوں تو میرا مقصد اجازت کے بغیر نکلنا ہی ہو گا۔ اس کے بعد بیوی نے شوہر سے دو تین مرتبہ کہیں جانے کی اجازت مانگی، تو شوہر نے کہا میری طرف سے اجازت نہیں ، اگر جانا چاہتی ہو تو تمہاری مرضی طلاق ہو جائے گی ، اب تم چالیس سال تک اسی طرح  یا تو قید میں رہو یا باہر نکل کر ہمیشہ کے لیے آزاد ہو جاؤ۔ میں نے فیصلہ تم پر چھوڑ دیا ہے ۔اگر تمہارا باپ مر جائے تب بھی اجازت نہیں جانے کی۔ اور اگر  تم  وفات پاگئی  تب بھی اگر تمہارے گھر والے کہے تو پھر بھی میں اجازت  دینے کے بارے میں سوچوں گا ۔پھر ایک دن بیوی نے شوہر سے اجازت مانگی تو شوہر نے کہا کہ میری طرف سے اجازت نہیں ،اپنی مرضی سے جانا چاہتی ہو توجاؤ، بیوی نے شوہر سے جھوٹ کہا کہ میں باہر چلی گئی ہوں، طلاق ہو گئی ہے، تو شوہر نے میسج پر کہا  کہ (تمہیں تمہارے فیصلے کے مطابق آزادی مبارک) اور پھر بیوی  سے کال کر کے پوچھا کہ تم باہر گئی تھی، بیوی نے پھر جھوٹ کہاکہ ہاں، تو شوہر نے کہا کہ تین طلاقیں ہو گئی ہیں ؟ تو بیوی نےجواب میں کہا ہاں ۔تو  کیا میاں بیوی کے کلام سے نکاح پر کوئی اثر پڑا ؟ اور بیوی ابھی تک باہر بھی نہیں نکلی ۔ ان تمام مسائل کے بعد بھی شوہر بیوی سے میسج پر بات کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ میرا مقصد تمہیں 4 ماہ سزا دینا تھا کہ تم نے 4 راتیں میری اجازت کے بغیرباہر گزاری، تو میں تمہیں  چار ماہ  تک قید کر کے اس کی سزا دینا چاہتا تھا  اور اس کے بعد پھر مزید بھی سزا بڑھ سکتی تھی،  لیکن تم پہلے ہی نکل گئی ،اچھا ہوا تم نے خود فیصلہ کر لیا ۔

تو کیا ان تمام مکالمہ میں کسی لفظ سے طلاق تو نہیں ہوئی؟ اور اب اگر بیوی شوہر کی اجازت سے نکلے یا شوہر مکمل اجازت دے کہ اب تم جا سکتی ہو اور پھر بیوی بغیر اجازت نکلے تو طلاق ہو گی؟ اور جو شوہر نے کہا کہ میں 40 سال تک اجازت نہیں دوں گا یہ تمہاری سزا ہے اور پھر اجازت بھی دے دیں تو کیا حکم ہو گا؟

 ( شوہر نے پہلے ایک طلاق رجعی کے بعد رجوع کر لیاہے اور اس طلاق معلق کو 2 طلاقوں کے ساتھ معلق کیاہے) بیوی کو یہ وہم تھا کہ وہ اگر باہر بھی چلی جائے تو دوسری طلاق ہو جائے گی اور ایک  طلاق کا حق شوہر کے پاس باقی رہے گا، لیکن شوہر نے کسی مفتی سے مسئلہ معلوم کیا اور بیوی نے بھی اسی مفتی سے بات کی تھی تو مفتی نے بتایا کہ آپ کے شوہر نے  تین  طلاقوں کو معلق کیا ہے تو بیوی نے کہا کہ ایک طلاق تو وہ دے چکے ہے ،مفتی صاحب  نے کہا  کہ جتنی بھی طلاقیں باقی ہیں ،شوہرنے اس کو معلق کیا ہے، بیوی نے شوہر سے پوچھاہے کہ  واقع ایسا ہے ؟ شوہر نے کہاکہ تمہیں نہیں پتہ؟ تمہیں عثمان ( کزن) نے نہیں بتایا  کہ میں نے اسے کہا تھا کہ اگر نکلی تو بات مکمل ختم ہو گی، بیوی نے کہا کہ نہیں، تو شوہر ہنسنے لگے اور کہا  کہ اب بھی تمہیں لگتا تھا کہ ایک طلاق ہو گی ۔ بیوی ابھی تک باہر نہیں نکلی ہے لیکن بیوی کو لگتا تھا اگر نکل بھی گئی تو دو طلاقیں واقع ہو گی اور ایک باقی رہے گی، اس وجہ سے شوہر سے معلوم کیا۔ اور اب بھی شوہر لوگوں سے پوچھتے رہتے ہیں کہ میری بیوی نکلی بھی ہے یا نہیں ،لیکن بیوی نےسب سے کہا ہے کہ میں نہیں نکلی لیکن آپ نے میرے شوہر کو نہیں بتانا۔  شوہر نے بیوی کی بہن سے پو چھا تو اس نے بتایا کہ تمہاری بیوی نہیں نکلی، تمہیں تنگ کرنے کے لیے ایسا کہتی ہے۔بیوی نے پھر کال کر کے شوہر سے کہا کہ میری بہن کو میں بتاؤں گی کہ میں نکلی یا نہیں؟ میں اپنی باتیں کسی سے نہیں کرتی، تمہیں خود پتہ چل جائے گا۔ بیوی کا مقصد شوہر کو سزا دینا اور تنگ کرنا ہے کہ انھوں نے طلاق کا لفظ کیوں استعمال کیا اور تاکہ آئندہ وہ ایسا نہ کرے اور بیوی کو باہر جانے کی اجازت دے دیں ۔ تو ان تمام مسائل پر غور کرنے کے بعد کیا نتیجہ نکلے گا ؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

صورت مسئولہ میں اگر واقعی بیوی گھر سے اپنے شوہر کی اجازت کے بغیر نہیں نکلی تو شرط نہ پائے جانے کی وجہ سے طلاق واقع نہیں ہوئی  بشرطیکہ مذکورہ کلام میں  شوہر کا   (تمہیں تمہارے فیصلے کے مطابق آزادی مبارک)  ان الفاظ سے مستقل طلاق دینے کی نیت نہ ہو۔  لہذا  بیوی  کا خاوند سے  جھوٹ کہنے کی وجہ سے طلاق واقع نہیں ہوئی اور نکاح پر کوئی اثر نہیں پڑا۔ تاہم آئندہ جب بھی بیوی اپنے  خاوند کی اجازت کے بغیر گھر سے نکلےگی  تو دو طلاقیں واقع ہوجائیں گی اور چونکہ خاوند نے ماضی میں بھی بیوی کو ایک طلاق دی تھی  تو اس وجہ سے مجموعی طور پر تین طلاقیں واقع ہوکر  بیوی  شوہر کے لیے حرام ہوجائے گی ۔

تا ہم بار بار خاوند سے اجازت لینے اور وقوع  طلاق سے بچنے کے لیے خاوند بیوی کوایک بار  اس طرح اجازت دیں کہ تم جب بھی گھر سے نکلنا چاہو   تو تمہیں اجازت ہے تو اس سے خاوند سے بار بار اجازت لینے کی ضرورت پیش نہیں آئے گی۔

واضح رہے کہ طلاق کےمعاملے میں سنجیدگی اور غیر سنجیدگی برابرہے۔ طلاق جیسے سنگین اور نازک معاملے میں اس قسم کی غیر سنجیدگی کا مظاہرہ کرنا سمجھ سے بالاتر ہے۔ میاں بیوی کو چاہیے کہ  آئندہ اس طرح کی نادانی سے اجتناب کریں۔

حوالہ جات

سنن الترمذي ط: دار الرسالة العالمية (3/ 45):

عن أبي هريرة قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: "‌ثلاث ‌جدهن جد وهزلهن جد: النكاح، والطلاق، والرجعة".

الفتاوى الهندية   ط: دار الفكر بيروت (1/ 420):

"وإذا أضافه إلى الشرط وقع ‌عقيب ‌الشرط اتفاقا، مثل أن يقول لامرأته: إن دخلت الدار فأنت طالق."

بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع ط: دار الكتب العلمية (3/ 126):

"والتعليق في الملك نوعان: حقيقي، وحكمي أما الحقيقي: فنحو أن يقول لامرأته: إن دخلت هذه الدار فأنت طالق أو إن كلمت فلانا أو إن قدم فلان ونحو ذلك وإنه صحيح بلا خلاف؛ لأن الملك موجود في الحال، فالظاهر بقاؤه إلى وقت وجود الشرط، فكان الجزاء غالب الوجود عند وجود الشرط فيحصل ما هو المقصود من اليمين وهو التقوي على الامتناع من تحصيل الشرط، فصحت اليمين، ثم إذا وجد الشرط، والمرأة في ملكه أو في العدة يقع الطلاق وإلا فلا يقع الطلاق."

الفتاوى التتارخاتية  ط: مكتبة زكريا بديوبند الهند (5/58)

إذا قال لامرأته : أنت طالق إن خرجت من هذه الدار إلا بإذني أو قال: إلا برضائي أو قال إلا بعلمي أو قال لها:  أنت طالق إن خرجت من هذه الدار بغير إذني فهذا سواء، وهو نظير ما لو قال لها: إن خرجت من هذه الدارإلا بملحفة فأنت طالق، فخرجت بغير ملحفة  ،طلقت .

والحيله للزوج في ذلك أن يقول لها: كلما شئت الخروج فقد أذنت لك، فإن أذن لها بالخروج في كل مرة، ثم نهاها عن الخروج،قال محمد: يعمل نهیه، وقال أبو يوسف: لا يعمل،وأجمعوا على أنه لو أذن لها بالخروج مرة، ثم نهاها أنه يعمل نهيه.

الفتاوى التتارخاتية  ط: مكتبة زكريا بديوبند الهند (5/62)

إذا قال لامرأته: إن خرجت من هذه الدار إلا باذني فأنت طالق، ثم قال: لها إن فعلت كذا فقد أذنت لك، لا يكون إذنا. ولو قال لها: أذنت لك أبداً ، أو الدهر، أو كلما شئت، فهو إذن لها في كل مرة.ولو قال: أذنت لك في الخروج كلما أردت، فخرجت مرة بعد أخرى لا يحنث.

الفتاوى التتارخاتية  ط: مكتبة زكريا بديوبند الهند( 5/60)

قال لها :"لا تخرجي  إلا باذ ني"، تحتاج في كل خروجها إلى الإذن ،ولو قال: عنيت مرة واحدة دين قضاء في قول أبي حنيفة وأبي يوسف ومحمد ،وروي عن أبي  يوسف في رواية لا يدين في القضاء؛ لأنه خلاف الظاهر،فلا يصدق وعليه الفتوى .

الفتاوى الهندية (1/ 375):

ولو قال في حال مذاكرة الطلاق باينتك أو أبنتك أو أبنت منك أو لا سلطان لي عليك أو سرحتك أو وهبتك لنفسك أو خليت سبيلك أو أنت سائبة أو أنت حرة أو أنت أعلم بشأنك. فقالت: اخترت نفسي. يقع الطلاق وإن قال لم أنو الطلاق لا يصدق قضاء.

الدر المختار مع رد المحتار ط:  الحلبي (3/ 300):

ونحو اعتدي واستبرئي رحمك، أنت واحدة، أنت حرة، اختاري أمرك بيدك سرحتك، فارقتك لا يحتمل السب والرد، ففي حالة الرضا أي غير الغضب والمذاكرة (تتوقف الأقسام) الثلاثة تأثيرا (على نية) للاحتمال ...(وفي الغضب) توقف (الأولان) إن نوى وقع وإلا لا (وفي مذاكرة الطلاق) يتوقف (الأول فقط) ويقع بالأخيرين وإن لم ينو لأن مع الدلالة لا يصدق قضاء في نفي النية ؛لأنها أقوى لكونها ظاهرة،

قال العلامة ابن عابدين: (قوله :لا يحتمل السب والرد) أي بل معناه الجواب فقط ح، أي جواب طلب الطلاق ،أي التطليق فتح (قوله: تأثيرا) تمييز محول عن الفاعل: أي يتوقف تأثير الأقسام الثلاثة على نية ط

 (قوله :أنت حرة) أي لبراءتك من الرق أو من رق النكاح وأعتقتك مثل أنت حرة كما في الفتح، وكذا كوني حرة أو اعتقي كما في البدائع نهر.

رد المحتار ط :الحلبي (3/ 358):

(فإن اختلفا في وجود الشرط) أي ثبوته ليعم العدمي (فالقول له مع اليمين) لإنكاره الطلاق، ...(وما لا يعلم) وجوده (إلا منها صدقت في حق نفسها خاصة) استحسانا بلا يمين.

قال العلامة ابن عابدين: (قوله :وما لا يعلم إلا منها) قيد به ؛لأنه لو كان يعلم من غيرها توقف الوقوع على تصديقه أو البينة كالدخول والكلام اتفاقا.

محمد جمال

دار الافتاء  جامعۃ الرشیدکراچی

3/رجب المرجب 1447ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمد جمال بن جان ولی خان

مفتیان

فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب