| 89579 | میراث کے مسائل | مناسخہ کے احکام |
سوال
ہماری ایک بہن انتقال کرگئی ۔ انتقال کے بعد وراثت فوراً تقسیم نہیں کی گئی بلکہ کافی وقت گزر گیا۔
- ان کےانتقال کےوقت والد صاحب ،والدہ صاحبہ ، زوج،دو بیٹے اور دویٹیاں موجود تھے۔
اس کے بعد ہمارے والد صاحب انتقال کر گئے۔ والد صاحب کے انتقال کے بعد بھی وراثت فوراً تقسیم نہیں کی گئی بلکہ کافی وقت گزر گیا۔
- ان کے انتقال کے وقت ایک زوجہ ،تین بیٹیاں اور دو بیٹے موجود تھے۔
اس کے بعد والدہ (یعنی والد صاحب کی بیوی) کا بھی انتقال ہو گیا۔
- ان کے انتقال کے وقت یہی تین بیٹیاں اور دو بیٹے موجودتھے۔
سوال یہ ہے کہ:کیا ہماری بہن کی اولاد (2 بیٹے اور 2 بیٹیاں) نانا، نانی کے ترکے میں حصہ پائیں گے یا نہیں؟
اور میراث ورثہ میں کس طرح تقسیم ہوگی؟کتنا کتنا ملتاہے؟
تنقیح:سائل سے فون کرکےبتایاکہ سوال میں ذکرکردہ تمام ورثہ کےحصوں کی تقسیم چاہیے۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
شرعی ضابطہ یہ کہ جو شخص فوت ہوتا ہے اس کے ورثہ وہ ہوتے ہیں جو اس کے انتقال کے وقت زندہ ہوں۔نیزفوت شدہ شخص کی موت کے وقت جو مال اس کی ملکیت میں ہوتا ہے وہ اس کا ترکہ سمجھا جاتا ہے۔ وہی مال اس کےورثہ میں تقسیم ہوتاہیے۔
صورت مسئلہ میں آپ کی بہن کے انتقال کے وقت آپ کے والدین زندہ تھے، لہذا بہن کے ورثہ میں آپ کے والدین شمارہوں گے، لیکن آپ کے والد یا والدہ کے انتقال کے وقت بہن زندہ نہیں تھی اس لیے وہ آپ کے والدین کے ورثہ میں نہیں شمارہوں گی۔نیزمرحومہ بہن کی اولاد بھی ماموں اورخالہ کی موجودگی میں نانا،نانی کے ورثہ شمار نہیں ہوگی۔
صورت مسئولہ میں چونکہ آپ کےوالدین کےانتقال کےوقت صرف آپ دونوں بھائی اورتین بہنیں موجودتھیں،اس لیے آپ کے والدین کے ترکہ سے ہربیٹے کو % 28.5714اور ہر بیٹی کو%14.2857 فیصدحصہ ملےگا۔
ورثہ کےحصےدرج ذیل نقشہ کےمطابق بنتےہیں۔
|
نمبرشمار |
ورثہ |
عددی حصہ |
فیصدی حصہ |
|
1 |
بیٹااول |
2 |
% 28.57142 |
|
2 |
بیٹاثانی |
2 |
% 28.57142 |
|
3 |
بیٹی اول |
1 |
%14.28571 |
|
4 |
بیٹی ثانی |
1 |
%14.28571 |
|
5 |
بیٹی ثالث |
1 |
%14.28571 |
|
|
کل مجموعہ: |
7 |
99.99997 |
حوالہ جات
قال اللَّه تعالى في القرأن الكريم:
{يُوصِيكُمُ اللَّهُ فِي أَوْلَادِكُمْ لِلذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ الْأُنْثَيَيْنِ ......... وَ لِاَبَوَیہِ لِکُلِّ وَاحِدٍ مِّنہُمَا السُّدُسُ مِمَّا تَرَکَ اِن کَانَ لَہٗ وَلَدٌ ۚ..۔[النساء: 11,]
حاشية ابن عابدين = رد المحتار ط الحلبي: (6/ 791)
(هو كل قريب ليس بذي سهم ولا عصبة) فهو قسم ثالث حينئذ (ولا يرث مع ذي سهم ولا عصبة سوى الزوجين) لعدم الرد عليهما (فيأخذ المنفرد جميع المال) بالقرابة (ويحجب أقربهم الأبعد) كترتيب العصبات فهم أربعة أصناف جزء الميت….
رشيدخان
دارالافتاء جامعۃ الرشید ،کراچی
07/رجب المرجب/1447ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | رشید خان بن جلات خان | مفتیان | فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب |


