03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
شوہر،ایک بیٹی اور والدین کے درمیان میراث کی تقسیم
89581میراث کے مسائلمیراث کے متفرق مسائل

سوال

ہمارے ایک دوست کی بیوی پہلی ڈیلیوری کیس میں وفات پاگئی، بچی پیدا ہوئی اور وہ زندہ ہے۔ ہمارے دوست نے 5 تولے سونے کے زیورات نکاح کے وقت ہی بطور مہر دئے تھے۔ مرحومہ کے والدین اور تین بھائی بھی حیات ہیں۔ اور دوست کے والدین بھی حیات ہیں۔ اب مرحومہ کے ورثہ میں سے کون کون ہیں؟ اور جہیز کا سامان اور 5 تولے زیورات کی تقسیم کس طرح ہوگی یا یہ چیزیں کس حساب سے کس کس کو ملیں گی؟

اگر دونوں خاندان اس بات پر راضی ہوں کہ مرحومہ کے والدین اپنا سارا جہیز کا سامان لے لیں اور لڑکے والے اپنا پورا مہر لے لیں، تو ایسا کرنا شرعاً جائز ہے یا نہیں؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

  یاد رہے کہ جو کچھ زیورات اور گھریلو سامان وغیرہ لڑکی کو جہیز میں دیا گیا ہے وہ اسی کی ملکیت ہے، جومرحومہ کے ورثہ  کے درمیان تقسیم ہوگی۔ چنانچہ مال ترکہ تقسیم کرتے وقت سب سے پہلے مرحومہ کے ذمہ اگر قرض ہو تو وہ ادا کیا جائے گا۔ پھر اگر مرحومہ نے کوئی جائز وصیت کی ہو تو ایک تہائی مال میں سے وصیت نافذ کی جائے گی۔ اس کے بعد بقیہ مال ترکہ ورثہ کے درمیان تقسیم ہوگا۔

   بیان کردہ صورت کے مطابق ورثہ میں شوہر، ایک بیٹی اور  مرحومہ کے والدین   شامل ہوں گے۔چنانچہ  زیورات اور جہیز کے سامان کی  مالیت معلوم کرکےکل مال کے 13 حصے کیے جائیں گے۔ پھراس میں سے  شوہر کو 3 حصے (23.076%)، بیٹی کو 6 حصے (46.153%)، والد کو 2 حصے (15.384%)اور والدہ کو بھی 2 حصے (15.384%) ملیں گے۔  باقی تینوں بھائی  باپ   کے ہوتے ہوئے محروم ہوں گے۔

ورثہ

شوہر

بیٹی

باپ

ماں

عددی حصہ

3

6

2

2

فیصدی حصہ

23.076%

 46.153%

 15.384%

 15.384%

حوالہ جات

البحر الرائق:(3/200)

قال العلامة  ابن نجیم المصري رحمه الله :"ولو جهز ابنته وسلمه إليها ليس له في الاستحسان استرداده منها وعليه الفتوى."

 حاشية ابن عابدين:(3/155)

 قال الامام الحصکفی رحمہ اللہ: "(‌جهز ‌ابنته ‌بجهاز ‌وسلمها ‌ذلك ‌ليس ‌له ‌الاسترداد ‌منها ‌ولا ‌لورثته ‌بعد ‌أن ‌سلمها ‌ذلك ‌وفي ‌صحته) ‌بل ‌تختص ‌به (وبه يفتى)."

 السراجي في الميراث:(ص: 5)

  "قال علماؤنا رحمهم الله: تتعلق بتركة الميت حقوق أربعة مرتبتة: الأول: يبدأ بتكفينه وتجهيزه من غير تبذير ولاتقتير، ثم تقضى ديونه من جميع ما بقي من ماله، ثم تنفذ وصاياه من ثلث مابقي بعد الدين، ثم يقسم الباقي بين ورثته بالكتاب والسنة وإجماع الأمة."

سید سمیع اللہ شاہ  

دارالافتاءجامعۃ الرشید ،کراچی

07/ رجب المرجب 1447ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

سید سمیع اللہ شاہ بن سید جلیل شاہ

مفتیان

فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب