03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
عربی زبان کے علاوہ دوسری زبان میں خطبۂ جمعہ کا حکم
89583نماز کا بیانجمعہ و عیدین کے مسائل

سوال

خطبہ جمعہ کی زبان کے سلسلے میں ائمہ اربعہ کی مستند کتب، قرآن و حدیث کی روشنی درج ذیل امور کے بارے  میں دلائل کے ساتھ رہنمائی فرمائیں۔ چونکہ ہمیں عربی زبان پر مکمل عبور حاصل نہیں، نہ ہی اصول و ضوابط، احادیث کی اصطلاحات سے واقفیت ہے تو گمراہ فرق

ے اسی مسئلے کو بنیاد بنا کر ہمیں بہکانے کی کوشش کرتے ہیں۔

  1.  کیا خطبہ عربی کے علاوہ کسی اور زبان میں بھی ہو سکتا ہے یا نہیں؟ نیز کم از کم کن امور کے ادا کرنے سے خطبہ شرعاً درست ہو جاتا ہے؟
  2. یہ بھی واضح کریں کہ عربی کے علاوہ خطبہ دینا مکروہِ تحریمی ہے یا مکروہِ تنزیہی؟
  3. ان دونوں اصطلاحات کا شرعی اثر اور مطلب کیا ہے؟
  4. کیا عربی کے علاوہ خطبہ دینا بدعت کے زمرے میں آتا ہے یا نہیں؟

یہ بات بھی سنی جاتی ہے کہ بعض لوگ عام دینی بیان اور خطبۂ جمعہ کو خلط ملط کر دیتے ہیں، اس کی بھی وضاحت فرمائیں ۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

1نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم  اور صحابہ وتابعین رضوان اللہ علیہم اجمعین  سے باجود یکہ ان میں غیر عرب بھی تھے اور انہوں نے عرب کے علاوہ دوسرے ممالک میں بھی خطبات دیے، ان میں سے کسی سے بھی غیر عربی میں خطبہ دینا منقول نہیں، اس لیے خطبۂ جمعہ اوّل سے لے کر آخر تک عربی میں پڑھنا ضروری ہے اور غیر عربی میں خطبہ دینا سنتِ متوارثہ کے خلاف ہونے کی وجہ سے مکروہِ تحریمی ہے۔

مسنون  خطبہ میں اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا، کلمۂ شہادتین، نبی کریم ﷺ پر درود، وعظ و نصیحت، قرآنِ کریم کی تلاوت، دونوں خطبوں کے درمیان مختصر بیٹھنا، تمام مسلمانوں کے لیے دعا، اور دوسرے خطبے میں دوبارہ حمد و درود شامل ہیں۔

خطبہ ميں کم از کم اللہ تعالیٰ کا ذکر ہونا ضروری ہے۔لیکن  اگر خطبہ اس حد تک مختصر ہو کہ صرف ذکرِ الٰہی پر مشتمل ہو تو شرعی وجوب ادا ہو جاتا ہے، تاہم بلا عذر مسنون امورچھوڑنا مکروہ ہے۔

.2جب یہ بات واضح ہوگئی کہ نماز جمعہ کا خطبہ  عربی زبان میں دینا سنت مؤکدہ ہے اور سنت مؤکدہ کو چھوڑنا گناہ ہے،بلکہ بعض جگہ تو فسق لکھا ہےتو غیر عربی میں خطبہ دینا سنتِ متوارثہ کے خلاف اورسنت مؤکدہ ترک کرنا ہے جو کہ مکروہِ تحریمی ہے۔

.3مکروہِ تنزیہی اس فعل کو کہتے ہیں جو طبعی اور فطری طور  پر ناگوار محسوس ہو۔ اس کے ارتکاب پر شرعاً گناہ لازم نہیں آتا، تاہم اس سے اجتناب کرنا بہتر اور باعثِ فضیلت ہے، جیسے وضو میں چہرے پرزور سے  پانی مارنا یا صرف جمعہ کے دن روزہ رکھنا۔

مکروہِ تحریمی وہ فعل ہے جو شرعاً ناپسندیدہ، ناجائز اور حرام کے قریب تر ہو۔ اسی بنا پر اس پر مداومت کرنے والا شخص فاسق شمار ہوتا ہے، اور ایسے افعال سے بچنا شرعاً لازم اور ضروری ہے۔ مثال کے طور پر جمعہ کی نماز کے وقت خریدو فروخت کرنا۔

.4خطبہ جمعہ کا عربی میں ہونا سنت اور اس کے خلاف دوسری زبانوں میں پڑھنا بدعت کے زمرے میں آتا  ہے۔تاہم دوسری زبان میں خطبہ دیا تو اگر اس میں اللہ تعالیٰ کی حمد وثناء موجود ہو تو خطبہ جمعہ کی شرائط  پوری ہوجائیں گی۔

.5جمعہ کا خطبہ اور عام بیان میں فرق ہے ۔اردو میں کی ہوئی تقریر کو سنت خطبہ نہیں کہا جاسکتا ہے۔ خطبہ جمعہ مخصوص  وقت اور زبان میں دیا جاتا ہے ، جبکہ عام بیان کسی بھی زبان  اور وقت میں دیا جاسکتا ہے ۔نیز خطبہ نماز جمعہ کے شرائط میں ہے ۔

حوالہ جات

عمدة الرعایة (324/2): لا شك فی أن الخطبة بغیر العربیة خلاف السنة المتوارثة من النبی صلی اللہ علیه وسلم والصحابة فیکون مکروها تحریما.

المجموع شرح المهذب (4/ 521 ط المنيرية):

هل يشترط كون الخطبة بالعربية فيه طريقان (أصحهما) وبه قطع الجمهور يشترط لأنه ذكر مفروض فشرط فيه العربية كالتشهد وتكبيرة الإحرام مع قوله صلى الله عليه وسلم " صلوا كما رأيتموني أصلي " وكان يخطب بالعربية.

حاشية الصاوي على الشرح الصغير = بلغة السالك لأقرب المسالك (1/ 499):

وسادسها... وأن يكونا بالعربية ولو لأعجميين.

كشاف القناع عن متن الإقناع(511/1):

ولا تصح الخطبة بغير العربية مع القدرة عليها بالعربية .

المبسوط للسرخسي (2/ 30):

قال) وإذا ‌خطب ‌بتسبيحة واحدة أو بتهليل أو بتحميد أجزأه في قول أبي حنيفة وقال أبو يوسف ومحمد رحمهما الله تعالى: لا يجزئه حتى يكون كلاما يسمى خطبة وقال الشافعي رضي الله عنه: لا يجزئه حتى يخطب خطبتين يقرأ فيهما شيئا من القرآن ويجلس بينهما جلسة واستدل بالتوارث من لدن رسول الله صلى الله عليه وسلم إلى يومنا هذا والتوارث كالتواتر ولكنا قد روينا «أن النبي صلى الله عليه وسلم في الابتداء كان يخطب خطبة واحدة فلما أسن جعلها خطبتين وجلس بينهما» فدل على أنه إنما فعل ذلك ليكون أروح عليه لا لأنه شرط وأبو يوسف ومحمد قالا: الشرط الخطبة ومن قال: الحمد لله أو قال: لا إله إلا الله فهذه الكلمة لا تسمى خطبة وقائلها لا يسمى خطيبا فما لم يأت بما يسمى خطبة لا يتم شرط الجمعة.

الخلافيات - البيهقي (4/ 50):

‌قال ‌الشافعي: ‌وأقل ‌ما ‌يقع ‌عليه ‌اسم ‌خطبة من الخطبتين أن يحمد الله ويصلي على النبي صلى الله عليه وسلم[ويقرأ شيئا من القرآن في الأولى، ويحمد الله عز ذكره ويصلي على النبي صلى الله عليه وسلم] (4) ويوصي بتقوى الله، ويدعو في الآخرة؛ لأن معقولا أن الخطبة جمع بعض الكلام من وجوه إلى بعض، وهذا أوجز ما يجمع من الكلام .

الكافي في فقه أهل المدينة المالكي: (71)

‌وأقل ‌ما ‌يقع ‌عليه ‌اسم ‌الخطبة.

حاشية الصاوي على الشرح الصغير = بلغة السالك لأقرب المسالك (1/ 499):

وثالثها: أن يكونا (مما تسميه العرب خطبة) ولو سجعتين نحو: اتقوا الله فيما أمر، وانتهوا عما عنه نهى وزجر.

البحر الرائق شرح كنز الدقائق  (2/ 20):

والمكروه في هذا الباب نوعان أحدهما ما كره تحريما وهو المحمل عند إطلاقهم الكراهة كما ذكره في فتح القدير من كتاب الزكاة وذكر أنه في رتبة الواجب لا يثبت إلا بما يثبت به الواجب يعني بالنهي الظني الثبوت وأن الواجب يثبت بالأمر الظني الثبوت ثانيهما المكروه تنزيها ومرجعه إلى ما تركه أولى وكثيرا ما يطلقونه كما ذكره العلامة الحلبي في مسألة مسح العرق فحينئذ إذا ذكروا مكروها فلا بد من النظر في دليله فإن كان نهيا ظنيا يحكم بكراهة التحريم إلا لصارف للنهي عن التحريم إلى الندب فإن لم يكن الدليل نهيا ‌بل ‌كان ‌مفيدا ‌للترك ‌الغير ‌الجازم ‌فهي ‌تنزيهية.

حاشية ابن عابدين = رد المحتار ط الحلبي (1/ 456):

 (‌قوله ‌يكون ‌فاسقا) أقول: صرح العلامة ابن نجيم في رسالته المؤلفة في بيان المعاصي: بأن كل مكروه تحريما من الصغائر.

الجواهر الفقه ( 524/2):

قد ذكر العلامة المفتي شفيع العثماني رحمه الله تعالى: خطبة الجمعة والعيدين أن تكون بالعربية سنة ،وقراءتها بغير العربية بدعة.

یاسر علی گل بہادر

دارالافتاء جامعۃ الرشید ،کراچی    

08 /رجب /1447ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

یاسر علی بن گل بہادر

مفتیان

فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب