03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
والد کا بعض اولاد کے نام جائیداد کرنے کا شرعی حکم
89603ہبہ اور صدقہ کے مسائلہبہ کےمتفرق مسائل

سوال

ہم کل 4بھائی اور 6بہنیں ہیں۔ میرے والد کا انتقال تقریبا 20/22سال قبل ہوا تھا۔ چار بھائیوں میں میرا تیسرا نمبر ہے، جبکہ مجھ سے چھوٹا بھائی ذہنی طور پر پوری طرح ٹھیک نہیں، اسی وجہ سے زیادہ تر بے روزگار رہتا ہے اور سخت محنت والا کام نہیں کرسکتا۔ والد صاحب کی زندگی میں وہ کبھی کبھار ہلکے پھلکے کام کر لیتا تھا، جیسے چنے وغیرہ بیچ لینا، مگر اب تو وہ بالکل بیمار ہوچکا ہے اور میں ہی اس کا سرپرست ہوں۔ والد صاحب جب حیات تھے تو اس وقت بھی میں کماتا تھا، جبکہ والد صاحب ریٹائرمنٹ کی زندگی گزار رہے تھے۔ وہ شپ یارڈ میں بطور لیبر کام کرتے تھے اور ریٹائرمنٹ کے بعد انہیں تھوڑی بہت پنشن ملتی تھی جو اس وقت تین چار ہزار روپے کے قریب بنتی تھی، لیکن گھر کا اصل بوجھ میں ہی اٹھاتا تھا۔

مجھ سے دو بڑے بھائی والد صاحب کی زندگی ہی میں اپنی بیویوں کو ساتھ لے کر الگ ہو گئے تھے اور ان کا والدین کے ساتھ رویہ بھی مناسب نہ تھا اور نہ ہی بہنوں کے ساتھ معاملہ درست تھا۔ ہماری دو بڑی بہنوں کی شادیاں والد صاحب نے اپنی زندگی میں کردی تھیں، البتہ باقی چار بہنوں کی شادیوں کے اخراجات کے ساتھ ساتھ والد صاحب کے علاج معالجے کے اخراجات بھی میں نے برداشت کیے۔ انہی بڑے بھائیوں کے نامناسب رویے کی وجہ سے والد صاحب نے اپنی صحت و تندرستی کے زمانے میں تمام جائیداد، یعنی ہمارے موجودہ گھر کا گراؤنڈ فلور، فرسٹ فلور اور ایک خالی پلاٹ، ہم دونوں چھوٹے بھائیوں کے نام منتقل کرادی تھی۔ انہیں یہ خدشہ تھا کہ اگر وہ نہ رہے تو بڑے بھائی ہمیں ضرور تنگ کریں گے۔ اس مقصد کے لیے باقاعدہ قانونی و عدالتی کارروائی کے ذریعے یہ جائیداد ہمارے نام کی گئی اور ہم نے بھی گواہوں کے سامنے دستاویزات پر دستخط کیے۔ اُس وقت میرا چھوٹا بھائی بھی سمجھدار تھا اور بات کو سمجھتا تھا۔اس کے کچھ عرصے بعد والد صاحب بیمار ہوگئے اور ان کے علاج و معالجے کا خرچ بھی میں ہی اٹھاتا رہا، لیکن تقدیرِ الٰہی سے 2005ء میں تقریباً 70 سال کی عمر میں ان کا انتقال ہوگیا۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ دونوں بڑے بھائی جنازے اور تدفین میں بھی شریک نہیں ہوئے۔ بعد ازاں میں نے پرانے مکان کو گرا کر نئی طرز پر دوبارہ تعمیر کروایا، جس میں اب گراؤنڈ فلور کے ساتھ دو مزید فلور بھی شامل ہیں۔ اس تعمیر کے لیے میں نے وہ خالی پلاٹ فروخت کیا اور اس کے ساتھ مزید پندرہ بیس لاکھ روپے اپنے پاس سے لگا کر پورا کام مکمل کیا۔ کچھ عرصہ قبل ہماری والدہ کا بھی انتقال ہوگیا۔ اب جبکہ سال 2025  اپنے اختتام کی طرف ہے، میں یہ جگہ بیچنا چاہتا ہوں۔ اس وقت میرے دونوں بڑے بھائی مجھ سے شرعی لحاظ سے جائیداد میں حصہ کا مطالبہ کر رہے ہیں، حالانکہ والد صاحب نے اپنی مکمل صحت اور ہوش و حواس میں قانونی کارروائی کے ذریعے جائیداد ہمارے نام منتقل کی تھی۔ اب سوال یہ ہے کہ اگر میں یہ جگہ فروخت کرتا ہوں یا والد صاحب کی زندگی میں دی گئی گھر کی تجوری کی چابی اور مالی معاملات کے حوالے سے موجود رقم کے بارے میں سوچوں، تو کیا اس میں میرے ان دونوں بڑے بھائیوں اور بہنوں کا کوئی شرعی حصہ بنتا ہے یا نہیں؟

تنقیح: سائل سے استفسار  پر معلوم ہوا کہ والدین اس کے پاس رہنے کی وجہ سے اس نے مستقل طور پر قبضہ حاصل نہیں کیا تھا۔ اور ضعیف  العمر ہونے کی وجہ سے وہ کسی دوسرے جگہ شفٹ نہیں ہوئے تھے۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

ہبہ کے تام ہونے کے لیے لازم ہے کہ موہوب لہ (جس کو ہبہ کیا جارہا ہے) خود ہبہ شدہ چیز پر قبضہ کرے۔

صورت مسئولہ میں جن دو بھائیوں کو جائیداد ہبہ کی گئی تھی، اگرچہ قانونی طور پر وہ ان کے نام منتقل ہوگئی لیکن رہائشی مکان میں تخلیہ حاصل نہ ہونے کی وجہ سے ہبہ تام نہیں ہوا، البتہ خالی پلاٹ میں تخلیہ پایا جانے کی وجہ سے ہبہ تام ہوگیا۔ تجوری کی چابی اور دیگر مالی اختیارات  اگر بطور امانت دیے گئے ہوں تو وہ مکان کے ساتھ ترکہ میں شامل  ہوں گےاور اس میں میراث جاری ہوگی۔اور اگر وہ بطور ہبہ دیے گئے ہوں تو قبضہ پایا جانے کی وجہ سے اس میں بھی ہبہ تام ہوگا۔ اور وہ دو بھائیوں کی ملکیت ہوگی۔لہذا مکان تو شرعا تمام ورثہ کی مشترکہ جایئداد ہے ،البتہ پلاٹ صرف دو بھائیوں کی ملکیت ہوگی۔پلاٹ بیچ کر جو رقم مکان کی تعمیر میں لگائی گئی تھی وہ رقم آپ واپس لے سکتے ہیں۔

حوالہ جات

الفتاوى العالمكيرية = الفتاوى الهندية (4/ 380):

وفي المنتقى عن أبي يوسف - رحمه الله تعالى - لا يجوز للرجل أن يهب لامرأته ولا أن تهب لزوجها أو لأجنبي دارا وهما فيها ساكنان، وكذلك للولد الكبير، كذا في الذخيرة.

حاشية ابن عابدين = رد المحتار ط الحلبي (5/ 690۔692):

وتتم الهبة بالقبض الكامل ولو الموهوب شاغلا لملك الواهب لا مشغولا به والأصل أن الموهوب إن مشغولا بملك الواهب منع تمامها………. وحيلة ‌هبة ‌المشغول أن يودع الشاغل أولا عند الموهوب له ثم يسلمه الدار مثلا فتصح لشغلها بمتاع في يده .

الفتاوى العالمكيرية = الفتاوى الهندية (4/ 380۔377):

ولو وهب دارا فيها متاع الواهب وسلم الدار إليه أو سلمها مع المتاع لم تصح والحيلة فيه أن يودع المتاع أولا عند الموهوب له ويخلي بينه وبينه ثم يسلم الدار إليه فتصح الهبة فيها………. ولا يتم حكم الهبة إلا مقبوضة ويستوي فيه الأجنبي والولد إذا كان بالغا، هكذا في المحيط. والقبض الذي يتعلق به تمام الهبة وثبوت حكمها القبض بإذن المالك، والإذن تارة يثبت نصا وصريحا وتارة يثبت دلالة.

حاشية ابن عابدين = رد المحتار ط الحلبي (5/ 709):

دفع لابنه مالا ليتصرف فيه ففعل وكثر ذلك فمات الأب إن أعطاه هبة فالكل له، وإلا فميراث وتمامه في جواهر الفتاوى.

مجلة الأحكام العدلية (ص: 313):

إذا قال أحد في حق الحانوت الذي في يده بموجب سند: إنه ملك فلان , وليس لي علاقة فيه واسمي المحرر في سنده مستعار , أو قال في حق حانوت مملوك اشتراه بسند من آخر: إنني كنت قد اشتريته لفلان , وإن الدراهم التي أديتها ثمنا له هي من ماله , وقد حرر اسمي في سنده مستعارا. يكون قد أقر بأن الحانوت ملك ذلك الشخص في نفس الأمر.

اسفندیارخان بن عابد الرحمان

دارالافتاء جامعۃ الرشید ،کراچی

9/ رجب المرجب/1447ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

اسفندیار خان بن عابد الرحمان

مفتیان

فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب