| 89584 | تقسیم جائیداد کے مسائل | متفرّق مسائل |
سوال
عرض یہ ہے کہ ہمارے نانا کے انتقال کو تقریبا چار سا ل ہو گئے ہیں ان کے وارثین میں دو بیٹے اور تین بیٹیاں ہیں اور جو وراثت چھوڑی ہے اس میں دو دوکانیں ،دو گودام ایک مکان اور دو پلاٹ ہیں ۔ پلاٹ کے علاوہ جو پراپرٹی ہے اس کی موجودہ قیمت تقریبا 45000000 روپے بنتی ہے اور پلاٹ کی قیمت پتا نہیں اس کی تقسیم کس طرح ہو گی وضاحت فرمادیں ؟جو وارثین ہیں ہمارے نانا کی زندگی میں ہمارے نانا نے اپنی اولاد کی جس کو جو ضرورت پڑی اسکی مدد کی ہے۔کسی کی کم تو کسی کی زیادہ ۔ہماری چھوٹی خالہ کراچی میں رہتی ہیں ،ان کے پاس گھر نہیں تھا وہ اکثر آکر نانا سے گھر کا مطالبہ کرتی تھی ان کےساتھ ہماری دوسری خالہ بھی ان کا ساتھ دینے آتی تھی، 2016 میں نانا نے دونوں ماموں کو کہا کہ اس کو گھر اس کے حصے میں سے دلادو، خالہ نے بھی یہ بات کی کہ مجھے میرے حصے میں سے دلادو بعد میں جب پراپرٹی کا بٹوارہ ہوگا تو اگر مجھ پر رقم نکلے گی تو میں دوں گی اور اگر میرا حصہ زیادہ ہو تو مکان کے جو پیسے دیےجارہے ہیں وہ کاٹ کر جو رقم بچے وہ مجھے دے دینا جس کے ہم سب گواہ ہیں۔ نانا کے کہنے پر دونوں ماموں نے 3400000 کا ایک مکان خرید کر مالکانہ حقوق کے ساتھ خالہ کو دلادیا مکان کی خریداری میں بڑے ماموں نے 1950000 اور چھوٹے ماموں نے 1450000 روپے دیے اس وقت چھوٹے ماموں نے 1100000 کی رقم نانا کی ایک دوکان سے لی تھی جس کا حساب ان کے پاس تھا اور 350000 اپنے پاس سے ادا کئے تھے جس دوکان سے 1100000 کئے تھے 2018 میں نانا محترم نے اس دوکان کا حساب چھوٹے ماموں کو دے دیا تھا یہاں سوال بنتا ہے کہ چھوٹے ماموں نے جو رقم 1100000 نانا کی دوکان سے دیے کیا اس کا حساب ان کو دینا پڑے گا کیونکہ وہ رقم جس دوکان سے دی گئی وہ دوکان اس وقت تک ان کی حوالے نہیں کی گئی تھی لیکن سارا حساب ا ن کے پاس ہی تھا اور نانا اور نانی ان کے ساتھ ہی رہتے تھے دوسرے ماموں نے جو رقم ادا کی وہ بھی نانا کی دوکان میں سے کی لیکن وہ دوکان 1993 میں بقول بڑے ماموں نانا نے ان کے حوالے کر دی تھی اور ہم نے بھی جب سے ہوش سنبھالا ہے اس دوکان کا سارا حساب ماموں کو ہی کرتے دیکھا ہے اب سلسلہ ایسے ہے کہ میری والدہ ان کو کہتی ہے کہ وراثت کی تقسیم کر دو تو چھوٹے ماموں سے جو بات چیت ہوئی ہے وہ ہر بات میں راضی ہیں کہ مفتیان کرام جیسے کہیں میں کرنے کو راضی ہوں، بڑے ماموں یہ کہتے ہیں کہ میں بھی راضی ہوں لیکن وہ مختلف باتیں کرتے نظر آتے ہیں ،کبھی کس بات پر اعتراض کرتے ہیں تو کہیں کس بات پر جیسے کہ ان کے پاس دینے کو رقم موجود نہیں ہے کہ وہ بہنوں کو ان کا حصہ نقد ادا کر سکے تو ا س کی صورت ہماری نظر میں یہ تھی کہ مکان بیچ کر اتنی رقم حاصل ہو جاتی جس سے سب کی ادائیگی ہو جاتی اور دونوں دوکانیں دونوں ماموں رکھ لیتے لیکن بڑے ماموں دوکان بھی رکھنا چاہتےہیں اور مکان میں سے بھی رہنے کی جگہ مانگتے ہیں اور کیش رقم بھی ان کے پاس نہیں ہے تو اس صورت میں کیا کیا جائےوضاحت فرمائیں ہماری دوسری خالہ ہے وہ کہتی ہے کہ مجھ کو پورا پورا حصہ چاہیے بھائیوں کے برابر کیونکہ مجھے آج تک کچھ بھی نہیں ملا یا پھر جس طرح چھوٹی خالہ کو گھر لےکر دیا ہے مجھے بھی ایسے ہی لےکر دیا جا ئے جس علاقے میں چھوٹی خالہ کو گھر لےکر دیا گیا تھا اب اس جگہ کی پراپرٹی ویلیو 25000000 کے برابر ہے جبکہ نانا کی ٹوٹل وراثت کی رقم پلاٹ چھوڑ کر 45000000 بنتی ہے اس بات کی وضاحت فرمادیں کہ کیا ان کا یہ مطالبہ شرعی اعتبار سے جائز ہے یہاں اس بات کی طرف آپ کی توجہ دلانہ چاہوں گا کہ نانا کی زندگی میں بڑے ماموں نے کچھ پراپرٹی خریدی اس دوکان میں سے جو نانا نے ان کو دی تھی اور اس پراپرٹی کی خریداری کا نانا کو علم تھا نانا نے کبھی بھی کوئی بھی اعتراض نہیں کیا نہ نانا نے کوئی بھی سوال کیا تھا لیکن اب ہماری دونوں خالہ کہتی ہیں کہ یہ سب وراثت میں شامل کیا جائےاس میں سے ایک پراپرٹی جو بڑے ماموں نے خریدی تھی چھوٹے ماموں کا ایک گودام بیچ کر لی تھی اور یہ کہا تھا کہ نانا کا جو دو گودام ہے اس میں ایک میرا ہے اور دوسرا تیرا تو میں ابھی یہ گودام بیچ رہا ہوں بعد میں دونوں گودام آپ کے حصے میں آجائیں گے جو کہ اس وقت چھوٹے ماموں کے پاس ہی ہیں اور یہ ساری باتیں نانا مرحوم کے علم میں تھی اور ان کی رضا مندی سے ہوا تھا۔ 2018 میں نانا نے چھوٹے ماموں سے دوکان کا حساب مانگنے کے لیے مجھے بھیجا اور کہا کہ وہ مجھے حساب نہیں دیتا تو ا س کو جاکر بول کے مجھے حساب دے ،میں نے یہ بات چھوٹے ماموں سے کی تو وہ کچھ ناراض ہوئےاور مجھے دوکان پر بٹھا کر نانا سے بات کرنے گئے ماموں تھوڑی دیر بعد واپس آئےاور مجھے کہا کہ نانا نے تجھے بلایا ہے میں نانا کے پاس گیا تو نانا نے مجھے کہا کہ میں اب کیا کروں تیرا ماموں ناراض ہو رہا ہے تو میں نے مشورہ دیا کہ آپ نے ایک دوکان بڑے ماموں کو دی ہوئی ہے تو یہ دوکان چھوٹے ماموں کو دے دیں اور ایک تحریر میں ساری وضاحت کر دیں نانا نے ایسے ہی کیا میری والدہ بڑے ماموں اور چھوٹے ماموں کو اگلے دن بلا کر یہ ساری باتیں تحریر کروائی دوسری دونوں خالہ جو کہ کراچی میں رہتی ہیں وہ اس وقت موجود نہیں تھیں باقی چاروں افراد اس تحریر کے وقت موجود تھے اور ان کے دستخط بھی اس پرچے پر موجود ہے جو کہ سوال نامے کے ساتھ ارسال ہے اب مفتیان کرام سے سوال ہے کہ اس سارے پس منظر میں اس مسلئے کو کس طرح حل کیا جائےوضاحت فرمادیں دونوں خالہ غیر شرعی باتیں کرکے روکاوٹ کا باعث بن رہی ہے بڑے ماموں یہ کہتے ہیں کہ جب تک دونوں خالہ نہیں مانے گی یہ مسئلہ حل نہیں ہوگا۔ چھوٹے ماموں ہر بات پر راضی ہے پر اس کے ہاتھ میں کچھ ہے نہیں کہ وہ اکیلا فیصلہ کرے جو نانا کی وراثت ہے وہ سب دونوں ماموں کے استعمال میں ہے گھر میں دونوں ماموں رہتے ہیں ایک دوکان پر بڑے ماموں اپنا کاروبار کرتے ہیں دوسری دوکان جو چھوٹے ماموں کے پاس ہے وہ نانا کی زندگی ہی میں پاٹنرشپ پر دی ہوئی اس کا حساب چھوٹے ماموں کے پاس ہے دونوں گودام چھوٹے ماموں کے استعمال میں ہے کہنے کا مقصد یہ ہے کہ ساری پراپرٹی دونوں ماموں کے استعمال میں ہے لیکن وراثت کی تقسیم کے حوالے سے یہ سب کی اجازت چاہتے ہیں یہاں ایک اور بات ہے جس کی وضاحت درکار ہے والدہ ہماری شادی کے ٹائم پر نانا کے پاس پیسے لینے گئی تو نانا کو کہا کہ مجھ کو میرے حصے میں سے دےدو اگر آپ کے پاس نہ ہوں تو نانا نے دو لاکھ روپے دئیے ایک لاکھ انھوں نے اپنے پاس سے دیا اور ایک لاکھ بڑے ماموں سے لے کر دیا تھا والدہ نے یہ وضاحت کی تھی کہ جب مجھے میرا حصہ ملے گا تو میں یہ رقم واپس کر دوں گی جس پر وہ آج بھی قائم ہے اس ساری صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے آپ وضاحت فرمائیں کہ یہ مسئلہ کس طرح حل کیا جائےاور اگر موجودہ صورت میں یہ مسئلہ جو حل نہیں ہو رہا اس کا گناہ گار کون ہوگا ہم چاہتے ہیں کہ جس کا جو حق ہے شریعت کے لحاظ سے وہ سب کو ادا ہوجائےلیکن اس صورت میں وہ حل ہوتا نظر آ نہیں رہا تو آپ مفتیان کرام سے التماس ہے کہ مسئلے پر وضاحت سے روشنی ڈالیں بڑی مہربانی ہوگی ۔
سوال کا خلاصہ: ہمارے نانا کے انتقال کو تقریبا چار سا ل ہو گئے ہیں ان کے وارثین میں دو بیٹے اور تین بیٹیاں ہیں اور جو وراثت چھوڑی ہے اس میں دو دوکانیں ،دو گودام ایک مکان اور دو پلاٹ ہیں ۔ پلاٹ کے علاوہ جو پراپرٹی ہے اس کی موجودہ قیمت تقریبا 45000000 روپے بنتی ہے اور پلاٹ کی قیمت پتا نہیں ہے ۔اس کی تقسیم کس طرح ہو گی ؟ اور دونوں ماموں نے مل کر اپنی ایک بہن کے لیے 3400000 کی مالیت کا گھر خرید کر اس کے نام کردیا جس میں ایک ماموں نے 1950000روپے دیے نانا کی دی ہوئی دکان میں سے اور دوسرے ماموں نے کل 1450000 روپے دیے اور اس میں سے 1100000 نانا کی دی ہوئی دکان میں سے اور350000 اپنے پاس سے دیے ۔یہ گھر بہن کے کہنے پر اس کے لیے خریدا گیا اور بہن نے یہ کہا تھا کہ جب بٹوارہ ہوگا تو اس کے حصے میں سے کاٹ لیا جائے ۔
ایک خالہ نے نانا سے دو لاکھ شادی کے لیے قرض لیے تھے اور یہ کہا تھا کہ جب میرا حصہ ملے گا تو اس میں سے واپس کردوں گی وہ آج بھی اسی بات پر قائم ہے ۔
نکتتہ الغور: مورث نے دو بیٹے اور تین بیٹیاں چھوڑی ہیں ان کے درمیان میراث کس طرح تقسیم ہوگی ؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
بھائیوں کا بہن کے مطالبے اور والد کے کہنے پر میراث کے حصے سے کٹوتی کی شرط کے ساتھ گھر خرید کر مالکانہ حقوق کے ساتھ بہن کے حوالے کردینے سے بہن اس گھر کی مالک بن گئی اور جتنی رقم بھائیوں نے والد کی جائیداد سے لے کر گھر خرید کر دیا تھا اتنی رقم ) مکان کی موجودہ مالیت نہیں (والد کا بیٹی پر قرض ہے جسے ترکہ میں شمار کیا جائے گا البتہ جو چھوٹے بھائی نے 350000 اپنے ذاتی پیسوں میں سے دیے تھے بہن وہ رقم اسی بھائی کو واپس کرے گی ۔جب کہ باقی ایک بہن نے جو دو لاکھ اپنے بیٹے کی شادی کےلیے قرض لیے تھے اس کو بھی مال میراث میں سے شمار کیا جائے گا اور مذکورہ طریقے کے مطابق تقسیم کیا جائے گا ۔
لہذا مرحوم کی کل مملوکہ جائیداد جس میں تمام منقولی اور غیر منقولی اشیاء ،نقدی اور قرض کی رقم شامل ہوگی اس کے سات حصے کیے جائیں گے ان میں سے ہر بھائی کو دو حصے اور ہر بہن کو ایک حصہ ملے گا اس کا طریقہ یہ ہوگا کہ تمام اثاثہ جات کی الگ الگ قیمت لگائی جائے مثلا: دکان اتنے کی اور مکان اتنے کا وغیرہ پھر اس رقم کے سات حصے کر لیے جائیں پھر جو وارث جو جائیداد اپنے پاس رکھنا چاہتا ہے وہ اگر اس کے حصے کے بقدر ہے تو ٹھیک ورنہ اضافی رقم ادا کرے ، بہن نے جو مکان کے لیے رقم لی تھی اس کے ساتھ بھی یہی معاملہ کیا جائے گا۔
حوالہ جات
الفتاوى العالمكيرية = الفتاوى الهندية (6/ 448):
وأما النساء فالأولى البنت ولها النصف إذا انفردت وللبنتين فصاعدا الثلثان، كذا في الاختيار شرح المختار وإذا اختلط البنون والبنات عصب البنون البنات فيكون للابن مثل حظ الأنثيين، كذا في التبيين.
الفتاوى العالمكيرية = الفتاوى الهندية))(5/ 366ص(:
والقرض هو أن يقرض الدراهم والدنانير أو شيئا مثليا يأخذ مثله في ثاني الحال، والدين هو أن يبيع له شيئا إلى أجل معلوم مدة معلومة كذا في التتارخانية.قال الفقيه - رحمه الله تعالى - لا بأس بأن يستدين الرجل إذا كانت له حاجة لا بد منها وهو يريد قضاءها
سلیم اصغر بن محمد اصغر
دارالافتاء جامعۃ الرشید ،کراچی
04/رجب المرجب1447ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | سلیم اصغر بن محمد اصغر | مفتیان | فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب |


