| 89569 | طلاق کے احکام | طلاق کو کسی شرط پر معلق کرنے کا بیان |
سوال
میرا سوال یہ ہے کہ حال ہی میں ہمارے رشتے دار کو ایک مسئلہ درپیش آیاہے، شوہر نے بحث کے دوران بیوی کو غصے میں کہاکہ" اگر تم میرے اجازت کے بغیر کہیں بھی گئی تو تم مجھ پر طلاق ہو" اس صورت میں بیوی جب بھی کہیں جاتی ہے تو شوہر سے اجازت لیتی ہے، لیکن اگر شوہر کسی اور شہر میں کام یا کاروبار کرتا ہو یعنی (مہینہ یا دو مہینےبعد گھرآنا جانا ہوتا ہے)، تو اس معاملے میں بیوی سے کوئی خطا یا بھول ہو سکتی ہے یا پھر شوہر سے رابطہ نہ ہونے کی وجہ سے کوئی ایمرجنسی ہو سکتی ہے جیسے ہسپتال جانا یا بچوں کا والدہ کو ہسپتال لے جانا ،کہنے کا مقصد یہ ہےکہ کیا شوہر یہ شرط ختم کر سکتا ہے؟ یا اس کا کوئی اور حل ہے؟(یاد رہے کہ شادی کو 20 یا 25 سال ہو چکے ہیں)۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
طلاق کو کسی شرط کے ساتھ معلق کرنے کی صورت میں جب بھی وہ شرط پائی جائے گی تو طلاق واقع ہوجائے گی۔طلاق معلق سے شرط کو ختم نہیں کیا جاسکتا لہذا اگر بیوی کو کہیں جانا ہوتو شوہر سے اجازت لے کر جائے ورنہ طلاق ہوجائے گی ۔ اگر شوہر بیوی کو ہمیشہ کے لیے باہر جانے کی اجازت دے دے تو پھر کہیں جانے کے لیے شوہر کی اجازت ضروری نہیں اور گھر سے نکلنے پر طلاق بھی نہیں ہوگی ۔
البتہ اگر شوہر بیوی کو ہمیشہ کے لیے اجازت دے دیتا ہے تو اس کے بعد بیوی کو بھی اس اختیار کا غلط استعمال نہیں کرنا چاہیے بقدر ضرورت اور بوقت ضرورت اس اختیار کا استعمال کرنا چاہیے ۔
حوالہ جات
الفتاوى العالمكيرية = الفتاوى الهندية ،)1/ 439ص(:
إذا قال لامرأته: أنت طالق إن خرجت من هذه الدار إلا بإذني أو قال: إلا برضائي أو قال: إلا بعلمي أو قال لها: أنت طالق إن خرجت من هذه الدار بغير إذني فهما سواء لأن كلمة إلا وغير للاستثناء فالجواب فيهما أن بالإذن مرة لا تنتهي اليمين حتى لو أذن لها بالخروج مرة وخرجت ثم خرجت بعد ذلك بغير إذنه طلقت... والحيلة في عدم الحنث أن يقول: أذنت لك بالخروج في كل مرة أو يقول: أذنت لك كلما خرجت فحينئذ لا يحنث.
الفتاوی الھندیہ،420/1)ص(:
وإذا أضافه إلى الشرط وقع عقيب الشرط اتفاقا، مثل أن يقول لامرأته: إن دخلت الدار فأنت طالق.
سلیم اصغر بن محمد اصغر
دارالافتاء جامعۃ الرشید ،کراچی
06/رجب المرجب /1447ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | سلیم اصغر بن محمد اصغر | مفتیان | فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب |


