03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
بہنوں کو ہدیہ دینےمیں برابری نہ کرنے کا حکم
89593ہبہ اور صدقہ کے مسائلہبہ کےمتفرق مسائل

سوال

میری عمر 21 سال ہے، میری بڑی بہن کی عمر 23 سال ہے، ایک چھوٹی بہن 11 سال کی ہے اور ایک بہن 3 سال کی ہے، اگر میں گھر میں اپنی کسی ایک بہن کے لیے کوئی چیز لے کر آتا ہوں اور باقی دو بہنوں کے لیے کچھ نہیں لاتا تو کیا میں گناہ گار ہوں گا یا نہیں؟اور اگر میں اپنی کسی ایک بہن کو کوئی چیز دے رہا ہوں اور میری باقی دو بہنیں یہ دیکھ بھی لیں تو کیا اس صورت میں میں گناہ گار ہوں گا یا نہیں؟اسی طرح اگر میں اپنے لیے کوئی چیز لے کر آؤں اور گھر میں میری بہنیں اور امی ابو مجھے وہ چیز کھاتے ہوئے دیکھ لیں، اور ان کا دل بھی اس چیز کا چاہے، تو اس بارے میں شرعی حکم کیاہے؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

عام حالات میں بھائی کے ذمہ  بہنوں پر برابر خرچ کرنا لازم نہیں، البتہ  ایسی صورتحال سے بچنا چاہیے جہاں کسی بہن کو طبعی ناگواری محسوس ہو۔  تاہم اگر والد نہ ہونے کی وجہ سے بھائی  پر ہی نفقہ کی ذمہ داری ہو تو نفقہ کی حد تک برابری ضروری ہوگی۔

حوالہ جات

درر الحكام في شرح مجلة الأحكام (1/ 559):

لأن للإنسان ‌أن ‌يتصرف ‌في ‌ملكه ‌الخاص ‌كما ‌يشاء وليس لأحد أن يمنعه عن ذلك ما لم ينشأ عن تصرفه ضرر بين لغيره.

بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع (6/ 117):

وقوله عليه الصلاة والسلام «‌تهادوا ‌تحابوا» وهذا ندب إلى التهادي والهدية هبة وروينا عن الصديق رضي الله عنه أنه قال لسيدتنا عائشة رضي الله عنها إني كنت نحلتك كذا وكذا وعن سيدنا عمر رضي الله عنه أنه قال من وهب هبة لصلة رحم أو على وجه صدقة فإنه لا يرجع فيها ومن وهب هبة يرى أنه أراد بها الثواب فهو على هبته يرجع فيها إن لم يرض عنها.

   محمد طلحہ فلک شیر

دارالافتاء جامعۃ الرشیدکراچی

09 /رجب المرجب /1447ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمد طلحہ ولد فلک شیر

مفتیان

فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب