| 89615 | نکاح کا بیان | ولی اور کفاء ت ) برابری (کا بیان |
سوال
ایسےلڑکے سے نکاح کرناجس کے والد اہل تشیع میں سے ہو
کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ایک لڑکی ایک ایسےلڑکے سے نکاح کرناچاہتی ہے جوخود مسلمان ہے اوراس کی والدہ بھی مگر اس کا والد اہلِ تشیع میں سے ہے،مزیدیہ کہ لڑکا غیر کفومیں بھی ہے۔
ایسی صورتِ حال میں لڑکی ایسے لڑکے سےگھروالوں کی رضامندی کے بغیرنکاح کر سکتی ہے یا نہیں ؟میرے والد لڑکے کے والد کے اہل تشیع ہونے کی وجہ سے لڑکےسے بات کرنا پسند نہیں کرتے اس کا شرعی کیا حکم ہے ؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
صورتِ مسئولہ اگر حقیقت کےمطابق ہے تو اگرچہ لڑکا بذاتِ خود صحیح العقیدہ مسلمان ہے، لیکن چونکہ وہ غیر کفو ہے، اس لیے ایسی صورت میں والدین کی اجازت کے بغیر نکاح شرعاً منعقد نہیں ہوگا۔ لہٰذا والدین کو اعتماد میں لینا اور ان کی رضامندی حاصل کرنا ضروری ہے۔ہوسکتاہے کہ آپ کے والدین کولڑکے کے مسلمان ہونے کے دعوے پر پورااطمینان نہ ہو۔یاان کے خاندانی حالات سے مطمئن نہ ہوں اس لیے ان کی بات مان لینے میں ہی خیر ہے۔
تاہم اگر لڑکے کاصحیح العقیدہ مسلمان ہوناثابت ہوجائے اور یہ بھی ثابت ہوجائے کہ لڑکا صرف نکاح کرنے کے لیے اپنے آپ کو صحیح العقیدہ مسلمان ظاہر نہیں کررہا توان سے والدین کی رضامندی سے نکاح جائز ہوگا۔
حوالہ جات
بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع (2/ 271):
ومنها إسلام الرجل إذا كانت المرأة مسلمة.
الهداية في شرح بداية المبتدي (1/ 185):
قال: ولا ينعقد نكاح المسلمين إلا بحضور شاهدين .
الفتاوى العالمكيرية = الفتاوى الهندية (1/ 292):
ثم المرأة إذا زوجت نفسها من غير كفء ...روى الحسن عن أبي حنيفة - رحمه الله تعالى - أن النكاح لا ينعقد وبه أخذ كثير من مشايخنا رحمهم الله تعالى، كذا في المحيط والمختار في زماننا للفتوى رواية الحسن.
مصنف ابن أبي شيبة (5/ 215 ت الحوت):
عن أبي أيوب عن النبي صلى الله عليه وسلم، قال: لا يحل لمسلم أن يهجر أخاه فوق ثلاث، يلتقيان يصد هذا ويصد هذا، وخيرهما الذي يبدأ بالسلام.
عزیزالرحمن
دار الافتاءجامعۃ الرشید کراچی
10/رجب المرجب /1447ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | عزیز الرحمن بن اول داد شاہ | مفتیان | شہبازعلی صاحب / فیصل احمد صاحب |


