03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
بیٹی کی ضد پر والد کے کرائےگئے نکاح کاحکم
89613نکاح کا بیانولی اور کفاء ت ) برابری (کا بیان

سوال

بیٹی کی ضد پروالد کے کرائے گئے نکاح کاشرعی حکم

لڑکی کا والد بیٹی کی اصرار  کی وجہ سےاگر نکاح کرائے ایسے لڑکے سے جوغیرکفومیں ہو،والددل سے راضی نہ ہو،تو کیا ایسا نکاح شرعامنعقد ہوجاتا ہے؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

صورت مسئولہ میں نکاح منعقد ہوجائے گا۔یہ والد کا بڑاپن ہے کہ اس نے اولاد کی رعایت کی ۔اللہ تعالی اس نکاح میں خیرڈال دیں اور سب کے لیے نافع بنائے۔آمین

تاہم نکاح کے فیصلے کے دوران والدین کی دلی رضامندی کااہتمام کرنانہایت اہم ہے۔بہتریہی ہے کہ اولاد والدین کو پیار، حکمت اور حسنِ سلوک کے ساتھ راضی کرنے کی کوشش کرے  اور حتی المقدور اسی جگہ نکاح کرے جہاں والدین کی دلی  رضا اور اطمینان شامل ہو، کیونکہ والدین کی رضا میں دنیا و آخرت کی برکت اور خیر مضمر ہے۔

حوالہ جات

حاشية ابن عابدين = رد المحتار ط الحلبي (3/ 9):

(وينعقد) متلبسا (بإيجاب) من أحدهما (وقبول) من الآخر... (كزوجت) نفسي أو بنتي.

الفتاوى العالمكيرية = الفتاوى الهندية(4/141):

وإذازوجهاأحدالأولياءمن غيركفوبرضاهالايكون للآخرحق الاعتراض.

الهداية في شرح بداية المبتدي (1/ 185):

قال: "‌النكاح ‌ينعقد بالإيجاب والقبول بلفظين.

 عزیزالرحمن

  دار الافتاءجامعۃ الرشید کراچی

09/رجب المرجب 1447ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

عزیز الرحمن بن اول داد شاہ

مفتیان

فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب