03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
مستحق زکوٰۃ کو قرض کے نام پر زکوٰۃ دینے کا حکم
89626زکوة کابیانزکوة کے جدید اور متفرق مسائل کا بیان

سوال

السلام علیکم اگر کوئی آدمی کسی مستحق آدمی کو کچھ رقم یہ کہہ کر دے کہ یہ بطور قرض ہے،اور دل میں نیت کرے کہ یہ زکاہ ہے،کیونکہ وہ آدمی ایسا ہے کہ اسے اگر زکاہ کہہ کر دی جائے،تو نہیں لیگا، اب سوال یہ ہے کہ 1۔قرض کہہ کر دینے سے زکاہ ادا ہوگی یا نہیں ؟2۔زکاہ کے معنی ہیں تملیک فقراء،اور قرض سے من کل الوجوہ تملیک نہیں ہوتی؟ تفصیل سے بتا کر ممنون فرمائے۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

زکوٰۃ کی ادائیگی کے صحیح ہونے کے لیے یہ شرط ہے کہ رقم الگ کرتے وقت یا ادا کرتے وقت زکوٰۃ کی نیت موجود ہو، جس شخص کو دی جا رہی ہو وہ شرعاً مستحق ہو اور اسے رقم کا مالک بنا کر دی جائے۔ زکوٰۃ کی ادائیگی کے وقت یہ بتانا ضروری نہیں کہ یہ زکوٰۃ کی رقم ہے، بلکہ کسی بھی عنوان سے مستحق کو دی جا سکتی ہے، کیونکہ نیت کا اعتبار ہوتا ہے، الفاظ اور معانی کا نہیں۔

لہٰذا اگر کسی مستحق کو قرض کے نام پر رقم دی جائے،  لیکن دیتے وقت نیت زکوٰۃ کی ہو تو زکوٰۃ ادا ہو جائے گی۔ تاہم اس صورت میں اس رقم کی واپسی کا مطالبہ جائز نہیں ہوگا، کیونکہ وہ رقم مستحق کی ملکیت بن چکی ہے۔ اگر وہ شخص یہ رقم واپس کرنا چاہے تو یہ اس سے نہ لے،  بلکہ کسی نہ کسی بہانے سے اسے معاف کر دے۔ اور اگر قرض دیتے وقت واپسی کی نیت ہو تو زکوٰۃ ادا نہیں ہوگی، چاہے بعد میں دینے والا   زکوٰۃ  کی نیت کرے یا نہ کرے۔

حوالہ جات

درر الحكام شرح غرر الأحكام (1/ 174):

(‌وشرط ‌أدائها) ‌أي ‌كونها ‌مؤداة (نية) ؛ لأنها عبادة فلا تصح بلا نية (مقارنة له) أي للأداء........(قوله: مقارنة للأداء) المراد أن تكون مقارنة للأداء للفقير أو الوكيل ولو مقارنة حكمية كأن دفع بلا نية ثم نوى والمال قائم بيد الفقير صحت ولا يشترط علم الفقير بأنها زكاة على الأصح لما في البحر عن القنية والمجتبى الأصح أن من أعطى مسكينا دراهم وسماها هبة أو قرضا ونوى الزكاة، فإنها تجزئه.

الفتاوى العالمكيرية = الفتاوى الهندية (1/ 171):

ومن أعطى مسكينا دراهم وسماها هبة أو قرضا ونوى الزكاة فإنها تجزيه، وهو الأصح هكذا في البحر الرائق.

مجمع الأنهر في شرح ملتقى الأبحر (1/ 195):

(‌وشرط) ‌صحة (‌أدائها) ‌أي ‌كونها ‌مؤداة (نية) لأنها عبادة مقصودة فلا تصح بدونها (مقارنة للأداء) المراد أن تكون مقارنة للأداء للفقير أو الوكيل.

غمز عيون البصائر في شرح الأشباه والنظائر (2/ 268):

العبرة ‌في ‌العقود ‌للمعاني لا للألفاظ.

مجیب الرحمان بن محمد لائق

دارالافتاء جامعۃ الرشید کراچی

11/رجب المرجب  /1447ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

مجیب الرحمٰن بن محمد لائق

مفتیان

فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب