03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
سودی قرض لینے کا شرعی حکم
89641سود اور جوے کے مسائلسود اورجوا کے متفرق احکام

سوال

مجھے ایک لاکھ کی ضرورت تھی جو کہیں سے نہیں مل رہے تھے، میں نے ایک دوست سے لیے۔ اُس نے ایک دکان سے 1 لاکھ کا موبائل دلایا، میرا ہاتھ لگوا کر وہ موبائل اُس دکان والے کو ہی سیل کر دیا۔ اُس نے 3000 روپے کاٹ لیے۔ اب بچے 97 ہزار، وہ اُس نے مجھے دے دیے اور کہا کہ اب آپ 1 لاکھ پر مزید 1 لاکھ مجھے دیں گے یعنی 2 لاکھ ایک سال میں۔ یہ سُود میں آئے گا یا نہیں؟"

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

مذکورہ بالا صورت سودی قرض ہی کی ایک صورت ہے۔اس کا حصہ بننے والے تمام افراد کبیرہ گناہ کے مرتکب ہیں۔اس سے سچے دل سے توبہ کریں اور آئندہ ایسے کام کے ارتکاب سے دور رہیں۔

حوالہ جات

الدرالمختار مع ردالمحتار :(6/166)

وفي الأشباه كل قرض جر نفعا حرام...

تبیین الحقائق :(6/29)

قال الكرخي في مختصره في كتاب الصرف وكل قرض جر منفعة لا يجوز مثل أن يقرض دراهم غلة على أن يعطيه صحاحا أو يقرض قرضا على أن يبيع به بيعا؛ لأنه روي أن كل قرض جر منفعة فهو ربا...

الھدایۃ:(3/47)

قال: "ومن اشترى جارية بألف درهم حالة أو نسيئة فقبضها ثم باعها من البائع بخمسمائة قبل أن ينقد الثمن الأول لا يجوز البيع الثاني"...

تبیین الحقائق :(4/55)

وشرطنا أن يكون الشراء من مشتريه أو من وارثه؛ لأنه لو باعه المشتري من رجل أو وهبه لرجل أو أوصى لرجل ثم اشتراه البائع الأول من ذلك الرجل يجوز؛ لأن اختلاف سبب الملك كاختلاف العين أصله حديث بريرة حيث قال عليه السلام ''هو لها صدقة ولنا هدية''.

زبیر احمد ولد شیرجان

دارالافتاء جامعة الرشید کراچی

11/رجب 1447ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

زبیر احمد ولد شیرجان

مفتیان

فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب