03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
نامحرم کے ساتھ سفرِ حج کا حکم
89624حج کے احکام ومسائلحج کے جدید اور متفرق مسائل

سوال

میں ڈاکٹر جمیل خان اپنی بیوی اور بہن کے ہمراہ حج پر جانے کا ارادہ رکھتا ہوں۔ میری  خالہ زاد بہن جن کے شوہر کا انتقال ہو چکا ہے اور ان کی کوئی اولاد بھی نہیں ہے، ان کی عمر ۵۵ سال سے زائدہے۔ وہ بھی ہمارے ساتھ حج پر جانا چاہتی ہیں۔ کیا ان کے لیے ہمارے ساتھ حج پر جانا جائز ہے؟ اس بارے میں رہنمائی فرمائیں۔ جزاکم اللہ خیراً

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

واضح رہے کہ عورت کے لیے محرم کے بغیر سفر کرنا شرعاً ممنوع ہے، البتہ بوڑھی اور عمر رسیدہ عورتوں کے بارے میں بعض اہلِ علم نے یہ گنجائش ذکر کی ہے کہ جب ایسی خاتون پر مالی استطاعت کی وجہ سے حج فرض ہو چکا ہو اور اس کے ساتھ کوئی محرم موجود نہ ہو،   یا محرم تو موجود ہو مگر ساتھ جانے پر آمادہ نہ ہو،   یا آمادہ تو ہو لیکن اس کے پاس سفری اخراجات نہ ہوں اور عورت بھی اس کے اخراجات برداشت کرنے کی استطاعت نہ رکھتی ہو  تو ایسی صورت میں اگر سفر میں چند صالح اور بااعتماد خواتین اپنے محارم کے ساتھ ہوں، سفر محفوظ ہو اور جانے والی خاتون اتنی معاملہ فہم ہو کہ راستے میں پیش آنے والے امور سے نمٹ سکے اور کسی فتنے میں مبتلا ہونے کا اندیشہ نہ ہو تو ایسی حالت  میں فرض حج کی ادائیگی کے لیے وہ ان خواتین کے ساتھ سفر کر سکتی ہے۔لہذا صورتِ مسئولہ میں چونکہ سفر میں معتمد خواتین بھی شامل ہیں، اگر کسی فتنے کا خدشہ نہ ہو تو بعض اہلِ علم کے قول کے مطابق اس میں گنجائش پائی جاتی ہے۔

حوالہ جات

صحيح البخاري (1/ 369):

عن أبي هريرة رضي الله عنه قال: قال النبي صلى الله عليه وسلم:(لا يحل لامرأة، ‌تؤمن ‌بالله ‌واليوم ‌الآخر، ‌أن ‌تسافر ‌مسيرة ‌يوم ‌وليلة ‌ليس ‌معها ‌حرمة).

الفتاوى العالمكيرية = الفتاوى الهندية (1/ 218):

(ومنها المحرم للمرأة) شابة كانت أو عجوزا إذا كانت بينها وبين مكة مسيرة ثلاثة أيام هكذا في المحيط والمحرم الزوج ومن لا يجوز مناكحتها على التأبيد بقرابة أو رضاع أو مصاهرة كذا في الخلاصة.

بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع (2/ 123):

إذا لم يكن معها زوج، ولا محرم لا يؤمن عليها إذ النساء لحم على وضم إلا ما ذب عنه، ولهذا لا يجوز لها الخروج وحدها والخوف عند اجتماعهن أكثر، ولهذا حرمت الخلوة بالأجنبية، وإن كان معها امرأة أخرى.

فيض الباري على صحيح البخاري(2/ 534):

وفي كتب الحنفية عامة عدم جواز السفر إلا مع محرم.

قلت: ويجوز عندي مع غير محرم أيضا بشرط الاعتماد والأمن من الفتنة. وقد وجدت له مادة كثيرة في الأحاديث أما في الفقه فهو من مسائل الفتن.

بحوث في قضايا فقهية معاصرة(ص٣٣٩)

هذا الحكم الصريح قد أخذ به جمهور الفقهاء، حتى إنهم لم يجوزوا لها أن تسافر بدون محرم لضرورة الحج، وأن الدراسة والعمل في البلاد الأجنبية ليس من ضرورة النساء المسلمات في شيء، إن الشريعة لم تأذن للمرأة بالخروج من دارها إلا لحاجة ملحة، وقد ألزم أباها وزوجها بأن يكفل لها بجميع حاجاتها المالية، فليس لها أن تسافر بغير محرم لمثل هذه الحوائج.

أما إذا كانت المرأة ليس لها زوج أو أب، أو غيرهما من أقاربها

الذين يتكفلون لها بالمعيشة، وليس عندها من المال ما يسد حاجتها، فحينئذ يجوز لها أن تخرج للاكتساب بقدر الضرورة، ملتزمة بأحكام الحجاب، فيكفي لها في مثل هذه الحال أن تكتسب في وطنها، ولا حاجة لها إلى السفر إلى البلاد الأجنبية، ولو لم تجد بدا من السفر في وطنها من بلد إلى آخر، ولم تجد أحدا من محارمها، ففي مثل هذه الحالة فقط يسع لها أن تأخذ بمذهب مالك، والشافعي، حيث جوزوا لها السفر مع النساء المسلمات الثقات (

مجیب الرحمان بن محمد لائق

دارالافتاء جامعۃ الرشید کراچی

11/رجب المرجب  /1447ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

مجیب الرحمٰن بن محمد لائق

مفتیان

فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب