03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
اجارے کے احکام
89622اجارہ یعنی کرایہ داری اور ملازمت کے احکام و مسائلکرایہ داری کے متفرق احکام

سوال

میں اور میرے کچھ ساتھی ایک بزنس شروع کرنا چاہتے ہیں جس کا طریقہ کار یہ ہوگا کہ ایک ساتھی ( پہلا ساتھی) پیسے فراہم کرتا رہے گا ضرورت کے حساب سے اور کام میں بھی کبھی کبھار شریک ہوگا ( مثلا مارکیٹنگ وغیرہ) اور دوسرا ساتھی (ساتھی دوم) پروڈکٹ کی مینوفیکچرنگ کرے گا اپنی ٹیم کے ساتھ اور ہر یونٹ پر اپنا کچھ منافع رکھ لے گا اور تیسرا ساتھی (ساتھی سوم) ویب سائٹ وغیرہ اور دیگر چیزیں مثلا مارکیٹنگ اور ڈسٹریبیوٹر کو پروڈکٹ پہنچانا اور حساب کتاب رکھنے جیسے کام کرے گا اور ان کاموں کی ساتھی اول سے اجرت لیتا رہے گا - اب سوال یہ ہے ک چونکہ ساتھی اول جتنی ضرورت ہوگی اتنے پیسے فراہم کرتا رہے گا دوسرے ساتھیوں کو تاکہ وہ اپنے اپنے کام کرتے رہیں اور وہ کام میں بھی شریک ہوگا (مثلا مارکیٹنگ وغیرہ) تو شرعی طور پر اس طریقہ کار کا کیا حکم ہوگا ؟ کیا جو ساتھی اپنی جگہ اور ٹیم کے ساتھ پروڈکٹ مینوفیکچرنگ کرے گا( یعنی ساتھی دوم) اور ہر یونٹ میں اپنا منافع رکھے گا اسکو استصناع کا معاہدہ کرنا ہوگا ساتھی اول سے؟ اور ساتھی سوم جو دیگر کام کرے گا اور ساتھی اول سے اسکی اجرت لے گا کیا اسکو اجارہ کا معاہدہ کرنا ہوگا؟ نوٹ: ساتھی اول ہریونٹ پر اپنا منافع رکھے گا  مطلب  پیسے دینے والا  چیز بننے کے بعد جتنے کی چیز پڑی ہے اس پر کچھ نفع رکھ کر آگے بیچے گا  ۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

 واضح رہے کہ پہلے شخص کا دوسرے دو بندوں کے ساتھ شرکت کا عقد نہیں،  بلکہ دونوں کے ساتھ    اجارہ کا عقد ہے۔پہلا شخص جس نے بوقت ضرورت  پروڈکٹ  بننے میں پیسہ خرچ کیا  وہ اس بزنس اور   بننے والی چیز کا  مالک ہوگا وہ اپنی مرضی سے مناسب  نفع رکھ کر آگے فروخت کر سکتا ہے۔

 دوسرے شخص کے ساتھ اس کا معاملہ اجارۃ الاشخاص)   اجیر مشترک (والا   ہوگاجس کی وجہ سے اس کی  شرائط کا  لحاظ رکھنا بھی ضروری ہوگا،  یعنی  پہلا شخص  دوسرے کو وقت پر سرمایہ فراہم کرتا رہے تاکہ  وہ اس کے لیے پروڈکٹ تیار کرتا رہے  اور اجرت متعین  و مقرر ہونی  چاہیے  اور عقد میں   کوئی ایسی شرط یا کوئی مبہم چیز نہیں ہونی چاہیے   جو بعد میں جھگڑے  کا سبب بنے ۔

تیسرے شخص کے ساتھ  اس کا معاملہ بھی  عقد اجارے کا ہوگا ،یہ شخص  پیسہ فراہم کرنے والے کا اجیر خاص  ہے جس کی وجہ سے اس کی شرائط کا لحاظ رکھنا  ضروری ہوگا یعنی  کام ،کام کرنے کا وقت اور اجرت  متعین ہو اس طور پر کہ کوئی ابہام نہ رہے  ورنہ یہ عقد درست نہیں ہوگا۔

حوالہ جات

البناية شرح الهداية (10/ 230

ولا بد أن يكون العمل معلوما وذلك في الأجير المشترك. وقد يكون عقدا على المنفعة كما في أجير الواحد ولا بد من بيان الوقت.

درر الحكام شرح غرر الأحكام 2 / 236

 (و) ثاني النوعين الأجير (الخاص) ويسمى أجير واحد أيضا (هو من يعمل لواحد عملا مؤقتا بالتخصيص) ويستحق الأجر بتسليم نفسه مدته، وإن لم يعمل كأجير شخص لخدمته أو رعي غنمه) وليس له أن يعمل لغيره؛ لأن منافعه صارت مستحقة له والأجر مقابل بها فيستحقه.

حاشية ابن عابدين = رد المحتار ط الحلبي6/ 5:

وشرطها كون الأجرة والمنفعة معلومتين؛ لأن جهالتهما تفضي إلى المنازعة.

حاشية ابن عابدين = رد المحتار ط الحلبي (6/ 64ص:

الأجراء على ضربين: مشترك وخاص، فالأول من يعمل لا لواحد) كالخياط ونحوه (أو يعمل له عملا غير مؤقت) كأن استأجره للخياطة في بيته غير مقيدة بمدة كان أجيرا مشتركا وإن لم يعمل لغيره (أو موقتا بلا تخصيص) كأن استأجره ليرعى غنمه شهرا بدرهم كان مشتركا، إلا أن يقول: ولا ترعى غنم غيري وسيتضح.

سلیم اصغر بن محمد اصغر

دارالافتاء جامعۃ الرشید ،کراچی

11/رجب المرجب /1447ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

سلیم اصغر بن محمد اصغر

مفتیان

فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب