03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
بیوی کی طرف نسبت کیے بغیر الفاظ طلاق ادا کرنے سے وقوع طلاق کا حکم
89670طلاق کے احکامطلاق کے متفرق مسائل

سوال

مفتی صاحب سوال یہ ہے کہ ایک شخص کو فروری میں "انزائٹی''کا پہلا جھٹکا لگا تھا؛ ایسا لگتا تھا جیسے وہ مرنے والا ہو۔ 15، 20 دن تک یہی کیفیت طاری رہی۔ ساتھ میں پیلیا اور ٹائیفائیڈ کی بھی تکلیف تھی، اور دوائی گولی ہوتی رہی۔

اس کے بعد وہ خوشی سے 40 دن کے لیے جماعت میں گیا تھا، پھر وہاں وہی تکلیف ہونے لگی۔ جماعت میں بیماری اتنی بڑھ گئی کہ اُسے کچھ سمجھ میں نہیں آ رہا تھا، کھانا بھی نہیں کھایا جا رہا تھا۔ اس نے دوائی بھی لی تھی مگر کوئی فائدہ نہیں ہوا تھا۔ اکیلے میں ڈر لگنے لگا، موت کا ڈر بھی ساتھ تھا۔ اُسے کچھ سمجھایا جاتا تو اُسے کچھ سمجھ میں نہیں آ رہا تھا، سر سُن ہو گیا تھا۔

اُسے کہا جاتا: "وقت پورا لگا لو"، تو وہ کہتا: "ٹھیک ہے"۔ اگلے دن پھر کہتا: "میں نے گھر جانا ہے"۔ اچانک کہتا، پھر ایک دم منع بھی کر دیتا؛ حتیٰ کہ دین کے بارے میں وسوسے آنے لگے تھے۔ پھر اس نے اپنے مقام پر ہی بچا ہوا وقت لگایا۔ اُسے وہی پریشانی تھی، اس نے بڑی مشکل سے وقت پورا کیا۔ اس کے بعد وہ گھر آیا، گھر میں بھی وہی پریشانی تھی، کھانا بھی نہیں کھا سکتا تھا۔

پھر اس نے سوچا کہ نکاح کر لوں، ٹھیک ہو جاؤں گا۔ نکاح ہوتے ہی طلاق کے وسوسے آنے لگے۔ کچھ منہ سے طلاق کے الفاظ بھی  غیر اختیاری  طور پر نکل گئے ۔ اسے خود پتا نہیں چلا کہ کیسے نکل گئے؟ بیوی کی طرف نسبت بھی نہیں کی تھی۔ پریشانی یہ ہے کہ نکاح کو تین مہینے ہو گئے، اب اس کی کیفیت یہ ہے کہ گھر میں کسی سے بات کرتا ہے تو درست طریقے سے، لیکن جب بات کرتے ہوئے بیوی کا خیال آتا ہے تو بہت ڈرنے لگتا ہے اور اپنی بیوی سے عام حالات میں بھی ٹھیک طریقے سے بات نہیں کر سکتا۔

ایک ہی بات کے بارے میں بار بار سوچتا رہتا ہے۔ یہ لڑکا دین دار بہت تھا، مگر جب سے یہ تکلیف ہوئی نماز بھی قضا ہونے لگی ہے، کافی حد تک کسی چیز میں دل نہیں لگتا۔ قرآن کی تعلیم دیتا ہے گھر پر جا کر، وہ بھی یہی سوچتے ہوئے کہ ٹائم گزر جاتا ہے، اسے پتا ہی نہیں چلتا۔

 مفتیوں کا جواب بھی مل گیا ہے کہ سب ٹھیک ہے، کچھ نہیں ہوا۔ پھر بھی ایک ہی سوال بار بار سوچنا، مفتی صاحب سے روز پوچھنا کہ "کچھ ہوا تو نہیں ہے؟" اسے لگتا ہے میں بات کر رہا تھا کسی اپنے دوست سے، اور بیوی کو سوچ لیا تھا۔ ایک دم ذہن بیوی کی طرف چلا جاتا ہے، اسے بہت زیادہ ڈر لگنے لگا ہے۔ اب وہ کیا کرے؟

اس بیماری کو 2 سال ہونے والے ہیں اور علاج بھی شروع ہونے والا ہے، تو ایسے شخص کے بارے میں کیا حکم ہے؟ 10، 12 دفعہ یہ مسئلہ ہو چکا ہے، ابھی تک بچ گیا ہے، اللہ کا شکر ہے ابھی تک۔ آگے کے لیے کیا حکم ہے؟ ایسے شخص کی  کے لیے طلاق ہوگئی یا نہیں؟ کیا یہ بیماری میں شمار ہوگا؟

یہ ابھی بہت پریشان ہے، رات میں نیند نہیں آتی، بہت بے چین ہے۔ چلتے ہوئے کہیں جاتا ہے تو راستے میں پسینے آ جاتے ہیں۔ اسے پتا ہوتا ہے کہ یہ الفاظ نہیں کہنے، پھر بھی ایک دم وہی کہہ دیتا ہے۔ پھر سوچتا ہے، لیکن اپنے آپ کو روک نہیں پاتا۔ 24 گھنٹے ایک ہی سوال ذہن میں گھومتا رہتا ہے، سر درد ہمیشہ رہنے لگا ہے۔ جہاں سے بھی مسئلہ معلوم کیا ہے، جواب ملتا ہے کہ سب ٹھیک ہے۔ اس کے ساتھ جو بھی پیش آتا ہے وہ پوچھ لیتا ہے، پھر دو مہینے بعد سوال ذہن میں آتا ہے کہ: "ایسے نہیں بلکہ ایسے ہوا تھا"۔ سمجھ میں نہیں آ رہا کیا کرے؟

دارالافتاء سے فتویٰ بھی لے لیا ہے، پھر بھی یہی کیفیت ہے اس کی۔ کوئی بھی خوشی کا موقع ہو، ہنستا نہیں ہے۔ کسی کی شادی دیکھ آتا ہے تو اسے اپنا مسئلہ یاد آنے لگ جاتا ہے، پھر ڈر جاتا ہے۔ رہنمائی فرمائیں۔

سوال کا خلاصہ : ایک شخص  انزائٹی کا مریض ہے  اس کی حالت یہ ہے کہ   اس کا ذہنی توزن درست نہیں۔   اس نے نکاح کیا اس کے بعد اس کو طلاق کے وسوسے آنے لگے اور اس کے منہ سے طلاق کے الفاظ غیر اختیاری طور پر نکل گئے  لیکن  اس نے بیوی کی طرف نسبت نہیں کی تھی  اب اس کو طلاق کے وسوسے بہت زیادہ آنے لگے ہیں، بہت زیادہ پریشانی کا شکار ہے   حتی کہ وہ بیوی سے بات بھی نہیں کر سکتا  ڈر کی وجہ سے  کیا اس طرح طلاق واقع ہوگئی؟ ایسے شخص کے لیے کیا حکم ہے ؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

وقوع طلاق کے لیے بیوی کی طرف الفاظ طلاق کی صراحتاًیا دَلالَةً نسبت کرنا ضروری ہے جبکہ صورت مسئولہ میں  الفاظ طلاق کی ادائیگی کے وقت بیوی کی طرف نسبت نہیں کی گئی لہذا طلاق واقع نہیں ہوئی ۔

نیز طلاق کے وسوسے آنے سے بھی طلاق واقع نہیں ہوتی   لہذا ایسے وسوسوں  کا کوئی اعتبار نہیں ۔ مذکورہ شخص کو کسی اچھے ڈاکٹر سے علاج کرانا چاہیے  تاکہ یہ مسئلہ نہ ہو اور  وہ اپنی بیوی کے ساتھ  اچھے طریقے سے سکون کی زندگی بسر کر سکے۔

حوالہ جات

حاشية ابن عابدين = رد المحتار ط الحلبي) 3/ 250ص(:

أن الصريح لا يحتاج إلى النية، ولكن لا بد في وقوعه قضاء وديانة من قصد إضافة لفظ الطلاق إليها عالما بمعناه ولم يصرفه إلى ما يحتمله كما أفاده في الفتح.

حاشیہ ابن عابدین،224/4)ص(:

 (وشرائط صحتها العقل) والصحو (والطوع) فلا تصح ردة مجنون، ومعتوه وموسوس، وصبي لا يعقل وسكران ومكره عليها.قال ابن عابدين(قوله وموسوس) بالكسر ولا يقال بالفتح ولكن موسوس له أو إليه أي تلقى إليه الوسوسة، وقال الليث: الوسوسة حديث النفس، وإنما قيل موسوس لأنه يحدث بما في ضميره وعن الليث لا يجوز طلاق الموسوس قال: يعني المغلوب في عقله، وعن الحاكم هو المصاب في عقله إذا تكلم يتكلم بغير نظام كذا في المغرب.

الموسوعہ الفقہیہ الکویتیہ،156/43)ص(:

نقل ابن عابدين عن الليث: في مسألة طلاق الموسوس أنه لا يجوز طلاق الموسوس، قال: يعني المغلوب في عقله ونقل ابن القيم: إن المطلق إن كان زائل العقل بجنون أو إغماء أو وسوسة لا يقع طلاقه، قال: وهذا المخلص مجمع عليه بين علماء الأمة

سلیم اصغر بن محمد اصغر

دارالافتاء جامعۃ الرشید ،کراچی

15/رجب المرجب 1447ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

سلیم اصغر بن محمد اصغر

مفتیان

فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب