| 89741 | میراث کے مسائل | مناسخہ کے احکام |
سوال
(مرحوم “الف”) کا انتقال ہو گیا۔ مرحوم کے ورثہ درج ذیل ہیں: ایک بیوی، دو بیٹے اوردو بیٹیاں، مرحوم کے انتقال کے کچھ عرصے بعد اُس کے دو بیٹوں میں سے ایک بیٹا بھی انتقال کر گیا، جب کہ مرحوم “الف” کی وراثت ابھی تقسیم نہیں ہوئی تھی۔ یہ فوت ہونے والا بیٹا اپنی زندگی میں ایک بیوی، ایک بیٹا ، ایک بیٹی اوروالدہ چھوڑ کر مرا۔ اب درج بالامیراث کی شرعی رہنمائی میں تقسیم مطلوب ہے۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
مرحومین(والد،بیٹے) نے انتقال کے وقت اپنی ملکیت میں جو منقولہ وغیرمنقولہ مال وجائیداداورسازوسامان چھوڑا ہے یاکسی کےاوپرمرحومین کاقرض تھا ، یہ سب ترکہ ہے۔ اس میں سےسب سے پہلے مرحوم کی تجہیز و تکفین كےمتوسط اخراجات اداكیے جائیں گے، بشرطیکہ کسی نے اپنی طرف سے تبرعًا ادا نہ کیے ہوں ۔ پھر اگر مرحوم کے ذمہ کسی کا قرض واجب الادا ء ہو تو اس کو ادا کیاجائے گا۔ پھر اگر مرحوم نے کسی غیر وارث کے حق میں کوئی جائز وصیت کی ہوتو بقیہ مال میں سے ایک تہائی (3/1) تک ادا کیا جائےگا۔ اس کے بعد جو کچھ بچ جائے،اس میں سے مرحوم(الف)کی بیوی کو%12.5 اورہر بیٹے کو%29.166666اور ہربیٹی کو%14.58333فیصد ملےگا۔اس کےبعدمرحوم بیٹےکاحصہ ان کے ورثہ میں تقسیم ہوگا،مرحوم بیٹےکوملنے والا % 29.1666حصہ اس کے ورثہ میں اس طرح تقسیم ہوگا کہ مرحوم (ب) کی بیوی کو %3.64583 اور مرحوم ( ب ) کےبیٹےکو%13.77314اورمرحوم(ب)کی بیٹی کو% 6.88657فیصداورمرحوم (ب) کی والدہ کو%4.8611ملےگا۔لہذا والدہ کویہ والا حصہ اور اپنے شوہر سے ملنے والا حصہ ملانے سے اس کا کل حصہ%17.361فیصد ہوجائےگا۔
سب سےپہلے والد(میت الف )کےورثہ کو درج ذیل نقشہ کےمطابق حصہ ملتےہیں:
|
نمبرشمار |
ورثہ |
عددی حصہ |
فیصدی حصہ |
|
1 |
بیوی |
216 |
%12.5 |
|
2 |
بیٹااول)مرحوم) |
504 |
%29.16666 |
|
3 |
بیٹاثانی |
504 |
%29.16666 |
|
4 |
بیٹی اول |
252 |
%14.58333 |
|
5 |
بیٹی ثانی |
252 |
%14.58333 |
میت (ب) کے ورثہ کےحصےدرج ذیل نقشہ کےمطابق بنتے ہیں۔
|
نمبر شمار |
ورثہ |
عددی حصہ |
فیصدی حصہ |
|
1 |
بیوی |
63 |
% 3.64583 |
|
2 |
بیٹا |
238 |
%13.77314 |
|
3 |
بیٹی |
119 |
%6.88657 |
|
4 |
والدہ |
84 |
%4.86111 |
|
|
کل مجموعہ: |
1728 |
%99.99997 |
حوالہ جات
قال اللَّه تعالى في القرأن الكريم:
{يُوصِيكُمُ اللَّهُ فِي أَوْلَادِكُمْ لِلذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ الْأُنْثَيَيْنِ ......... وَ لِاَبَوَیہِ لِکُلِّ وَاحِدٍ مِّنہُمَا السُّدُسُ مِمَّا تَرَکَ اِن کَانَ لَہٗ وَلَدٌ ۚ....... وَلَكُمْ نِصْفُ مَا تَرَكَ أَزْوَاجُكُمْ إِنْ لَمْ يَكُنْ لَهُنَّ وَلَدٌ فَإِنْ كَانَ لَهُنَّ وَلَدٌ فَلَكُمُ الرُّبُعُ مِمَّا تَرَكْنَ مِنْ بَعْدِ وَصِيَّةٍ يُوصِينَ بِهَا أَوْ دَيْنٍ....... وَلَهُنَّ الرُّبُعُ مِمَّا تَرَكْتُمْ إِنْ لَمْ يَكُنْ لَكُمْ وَلَدٌ فَإِن كَانَ لَكُم وَلَدفَلَهُنَّ ٱلثُّمُنُ مِمَّا تَرَكتُمۚ مِّنۢ بَعدِ وَصِيَّةٖ تُوصُونَ بِهَآ أَو دَين [النساء: 11,12]
رشيدخان
دارالافتاء جامعۃ الرشید ،کراچی
13/رجب المرجب/1447ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | رشید خان بن جلات خان | مفتیان | فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب |


