| 89716 | طلاق کے احکام | خلع اور اس کے احکام |
سوال
لڑکی نے کورٹ میں خلع کے لیے درخواست دی اور کورٹ کی ساری کارروائی چلتی رہی ،اس کے بعد کورٹ نے عورت کو خلع کی ڈگری دےدی اور عورت سے کہا کہ مرد کو مہر واپس کرے ،اس نے مہر واپس کورٹ کو دیا اور کورٹ نے وہ مرد کو دیا اور کاغذات پر یہ باور کروایا کہ یہ مہر خلع کے عوض میں مرد کو واپس دے دیا گیا ہے اور مرد نے وہ مہر لے لیا،جبکہ مرد نے نہ منہ سے طلاق دی اور نہ ہی اس کے حق میں تھا، تو کیا خلع ہوگئی یا نہیں؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
مذکورہ صورت اگرواقعہ کےمطابق ہےتوخلع سےایک طلاق بائن واقع ہوگئی اورشوہرکاخلع کےعوض ملنےوالےمہرپرقبضہ کرناان کی طرف سےخلع قبول کرنے اوران کی رضامندی کی دلیل ہے۔
حوالہ جات
الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار):(3/ 445)
(قوله: وفيه إشارة إلى اشتراط النية) أي اشتراطها للوقوع بها ديانة، وكذا قضاء إذا لم تكن قرينة من ذكر مال ونحوه كما هو الحكم في سائر الكنايات (قوله: ههنا) أي في لفظ الخلع۔
درر الحكام شرح غرر الأحكام :(1/ 390)
(وهو) أي الخلع (من الكنايات) لاحتماله الطلاق وغيره (فيعتبر فيه ما يعتبر فيها) من قرائن ترجح جانب الطلاق (وإن قال: لم أنو به الطلاق فإن ذكر بدلا لم يصدق) في نفيه في شيء من الصور الأربع بل يحمل على الطلاق ويكون ذكر البدل مغنيا عن النية۔
الفتاوی التاتارخانیۃ:(12/5)
وإذا سألت المرأة من زوجها أن يخلعها ، فهو على أربعةأوجه أيضا : أما إن قالت له " اخلعنى على كذا " سمت ألف درهم مثلا ، وفي هذا الوجه إذا خلعها على ذلك ، فالخلع يتم بقبول الزوج ولا يحتاج إلى قول المرأة " اختلعت" أو "قبلت" ، في رواية : وهو المختار ، وفي الذخيرة : ويصير الزوج وكيلا عن المرأة بالاختلاع ۔
فیصل حیات بن خان بہادر
دارالافتاء جامعۃ الرشیدکراچی
13/رجب المرجب /1447ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | فیصل حیات بن خان بہادر | مفتیان | فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب |


