| 89673 | میراث کے مسائل | میراث کے متفرق مسائل |
سوال
جمعہ خان ولد اللہ بخش کا انتقال ہو گیا۔ ان کے پسماندگان میں دو بیوائیں شریفاں بی بی ، فریدہ بی بی ہیں اور چار بیٹے محمد علی، صفت علی، آصف علی، عبید علی ہیں اور چار بیٹیاں نصیباں بی بی، ثروت بی بی، کبری بی بی، عمیرہ بی بی ہیں۔
از روئے شریعت ترکہ کی تقسیم کا کیا طریقہ کار ہوگا؟
وضاحت :مرحوم نے ایک نکاح سرداراں بی بی سے کیا تھا، چھ سات سال یہ عورت مرحوم کے ساتھ رہی لیکن کوئی اولاد نہیں ہوئی، ایک دن وہ عورت گھر سے پیسے اور کچھ زیورات لیکر فرار ہو گئی اور تاحال کوئی پتہ نہیں کہ زندہ ہے یا مردہ، اسے نہ تلاش کیا گیا اور نہ کوئی معلومات ہوسکی کیونکہ وہ اس علاقے کی نہیں تھی، مرحوم نے اس کو طلاق بھی نہیں دی اور نہ ہی اس کی طرف سے کوئی خلع کا مطالبہ ہوا، اس بات کو پندرہ سے سولہ برس گزر چکے ہیں، آیا اب مرحوم کی وراثت میں اس کا حصہ نکالا جائے گا یا کیا صورت ہوگی؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
سرداراں بی بی جو پندرہ، سولہ سال سے لاپتہ ہے، جب تک اس کی وفات کا یقینی علم نہ ہو، تو مرحوم کی جتنی رقم وغیرہ وہ یقینی طور پر ساتھ لے کر گئی تھی تو وہ میت کا اس خاتون کے ذمے قرض شمار ہوگا، اس کے بقدر رقم میت کے ورثہ میں اس کے حصے سے تقسیم کی جائے گی اور باقی میراث کا حصہ محفوظ رکھا جائے گا۔ جب معلوم ہو جائےیا قاضی فیصلہ کرے کہ وہ شوہر کی وفات کے بعد فوت ہوئی ہے توسرداراں بی بی کے لیے محفوظ رکھا گیا مال اس کے اس وقت موجود ورثہ میں تقسیم کیا جائے گا اور اگر ثابت ہو جائے کہ وہ شوہر سے پہلے وفات پا چکی تھی تو وہ شوہر کی میراث میں شریک نہیں ہوگی ،ا س صورت میں اس کے لیے محفوظ رکھا گیا حصہ باقی دونوں بیویوں میں برابر تقسیم کر دیا جائے گا ، البتہ اگر وہ زندہ واپس آ جائے تو اسے اس کا حصہ دے دیا جائے گا۔
بقیہ ورثہ میں میراث کی تقسیم کا طریقہ کار درج ذیل ہے:
مرحوم جمعہ خان ولد اللہ بخش نے اپنے انتقال کے وقت جو جائیداد، نقد رقم، سونا چاندی، مکان، کاروبار، غرض جو کچھ سازوسامان چھوڑا، یا اگر کسی کے ذمے ان کا قرض تھا، یہ سب ان کا ترکہ شمار کیا جائے گا۔
سب سے پہلے اس ترکہ میں سے ان کی تجہیز و تکفین کے متوسط اخراجات نکالے جائیں گے، بشرطیکہ یہ اخراجات کسی نے بطورِ احسان ادا نہ کیے ہوں۔ اس کے بعد اگر کسی کا ان پر قرض ہو تو وہ ادا کیا جائے گا۔ پھر اگر غیر وارث کے حق میں انہوں نے کوئی جائز وصیت کی ہو تو ترکہ کی ایک تہائی کی حد تک وہ ادا کی جائے گی۔اس کے بعد جو کچھ بچے، اس میں سے آٹھواں حصہ (%12.5) مرحوم کی بیویوں (شریفاں بی بی ،فریداں بی بی ،سرداراں بی بی )کے درمیان برابر کے تقسیم ہوگا جس میں ہر بیوی کو (4.166%)ملے گا ،باقی سات حصے (%87.5) مرحوم کے بیٹوں اور بیٹیوں کو ملیں گے، جس میں سے ہر بیٹی کو (%291.7) اور ہر بیٹے کو %14.583 ملے گا۔
درج ذیل نقشہ میں مذکورہ مسئلے کی فیصدی اور عددی حصے درج کی گئی ہے۔
|
1 |
ورثہ کے نام |
عددی حصے |
فیصدی حصے |
|
2 |
شریفاں بی بی |
4 |
4.166% |
|
3 |
فریدہ بی بی |
4 |
4.166% |
|
4 |
سرداراں بی بی |
4 |
4.166% |
|
5 |
محمد علی |
14 |
14.583% |
|
6 |
صفت علی |
14 |
14.583% |
|
7 |
آصف علی |
14 |
14.583% |
|
8 |
عبید علی |
14 |
14.583% |
|
9 |
نصیباں بی بی |
7 |
7.291% |
|
10 |
ثروت بی بی |
7 |
7.291% |
|
11 |
کبری بی بی |
7 |
7.291% |
|
12 |
عمیرہ بی بی |
7 |
7.291% |
|
|
کل مجموعہ: |
96 |
|
حوالہ جات
النساء: 12:
(ولكم نصف ما ترك أزواجكم إن لم يكن لهن ولد فإن كان لهن ولد فلكم الربع مما تركن من بعد وصية يوصين بها أو دين ولهن الربع مما تركتم إن لم يكن لكم ولد فإن كان لكم ولد فلهن الثمن مما تركتم من بعد وصية توصون بها أو دين وإن كان رجل يورث كلالة أو امرأة وله أخ أو أخت فلكل واحد منهما السدس فإن كانوا أكثر من ذلك فهم شركاء في الثلث من بعد وصية يوصى بها أو دين غير مضار وصية من الله والله عليم حليم)
حاشية ابن عابدين = رد المحتار ط الحلبي (6/ 769):
فقال (فيفرض للزوجة فصاعدا الثمن مع ولد أو ولد ابن) (قوله مع ولد) أي للزوج الميت ذكرا أو أنثى ولو من غيرها .
درر الحكام شرح غرر الأحكام (2/ 128):
بل يوقف قسطه من مال مورثه وموصيه إلى موت أقرانه في بلده.
فتح القدير للكمال بن الهمام - ط الحلبي (6/ 141):
(إذا غاب الرجل فلم يعرف له موضع ولا يعلم أحي هو أم ميت نصب القاضي من يحفظ ماله ويقوم عليه ويستوفي حقه).
فتح القدير للكمال بن الهمام - ط الحلبي (6/ 148):
وإذا حكم بموته ....يقسم ماله بين ورثته الموجودين في ذلك الوقت.
محمد طلحہ فلک شیر
دارالافتاء جامعۃ الرشید ،کراچی
13/رجب المرجب 1447ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد طلحہ ولد فلک شیر | مفتیان | فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب |


