03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
ڈیوٹی کے وقت میں تین گھنٹے کے لئے سونے کاحکم
89645جائز و ناجائزامور کا بیانجائز و ناجائز کے متفرق مسائل

سوال

میں پولیس کانسٹیبل ہوں،رات کے وقت ڈیوٹی کرتاہوں،میری ڈیوٹی 12گھنٹے ہوتی ہے،اگرمیں ان 12 گھنٹوں میں دوران ڈیوٹی 3 یا4 گھنٹے کے لئے سوجاؤں توکیامیری تنخواہ میں حرام شامل ہوگا؟ اوراس طرح کرناجائز ہے یانہیں؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

ملازمت کے معاہدہ کے وقت جتناوقت ذمہ داری کی ادائیگی کے لئے طے ہواتھا وہ ساراوقت اس ذمہ داری میں لگاناضروری ہے،ذمہ داری کے وقت میں تین چارگھنٹے کے لئے سوناجائزنہیں،الایہ کہ معاہدہ میں اس طرح کی گنجائش دی گئی ہوتوپھراجازت ہوگی،لہذاصورت مسؤلہ میں اگرمعاہدہ پورے 12گھنٹے ذمہ داری کی ادائیگی میں لگانے کاہواہے تویہ 12گھنٹے اس ذمہ داری میں لگاناضروری ہیں،اگرآپ تین چارگھنٹے کے لئے اس وقت میں سوتے ہیں تواتنے وقت کی بقدرتنخواہ حلال نہیں ہوگی۔

حوالہ جات

فی الدر المختار للحصفكي (ج 5 / ص 355):

وليس للخاص أن يعمل لغيره، ولو عمل نقص من أجرته بقدر ما عمل.

محمد اویس

دارالافتاء جامعة الرشید کراچی

۱۳/رجب ۱۴۴۷ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمد اویس صاحب

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب