| 89720 | ایمان وعقائد | ایمان و عقائد کے متفرق مسائل |
سوال
میں کئی سالوں سے گمراہ ہوں۔ پلیز AI / ChatGPT کا جواب نہ دیں، مجھے آپ خود جواب دیں۔ اگر میں اسلام میں واپس آیا، تو زندگی بھر آپ کے لیے دعا کروں گا۔
جب اسلام کو ماننے کی کوشش کرتا ہوں تو میرا مائنڈ ہینگ ہو جاتا ہے۔ پچھلے 2–4 سالوں سے میں اپنی زندگی میں کچھ بھی نہیں کر پا رہا ہوں۔ میں ڈپریشن میں رہتا ہوں اور میرے دل سے ایمان ختم ہو چکا ہے۔ برائے مہربانی پورا پڑھیں۔
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی رخصتی کے وقت عمر 9 سال تھی، اس پر امت کا اجماع ہے۔
اسلام قمری کلنڈر فالو کرتا ہے اس حساب سےیہ شمسی سال کے 8 سال، 8ماہ اور 24 دن بنتے ہے۔
نمبر ایک: اس عمر سے پہلے ابوبکرؓ، آپﷺ سے کہا کرتے تھے کہ اپنی بیوی کو لے جائیں۔آپﷺ فرماتے کہ میرے پاس مہر نہیں ہے، بعد میں ابوبکرؓ نے مہر ادا کیا اور 9 سال کی عمر میں رخصتی ہوگئی۔اس کا مطلب یہ ہے کہ عائشہؓ 9 سال کی عمر سے پہلے بالغ ہوچکی تھی اور شادی کے قابل تھیں۔
نمبر دو: انصار صحابیاتؓ نے عائشہؓ کو 9 سال سے پہلے بالغ سمجھا، اسی لیے 9 سال کی عمر میں رخصتی ہوئی۔
نمبر تین: عائشہؓ خود فرماتی ہیں کہ میں بیمار پڑگئی اور میرے بال جھڑگئے، پھر واپس (جمہ تک) پہنچ گئے۔بعض علماء فرماتے ہیں کہ یہ حیض کی بیماری کی وجہ سے ہوا۔ بال جب نکل کر واپس آتے ہے اس میں کم از کم ایک سال لگتاہے، تو اس کا مطلب عائشہؓ 9 سال سے پہلے یعنی 8 سال کے عمر میں بالغ ہوئیں۔
میرا سوال اس سے نہیں کہ 8/9 سال میں لڑکی بالغ ہوسکتی ہے یا نہیں اور نہ ہی میرا سوال اس کے متعلق ہے کہ آج سے 200 سال پہلے 9/10 سال کی عمر میں شادی کرنا معیوب تھا ، بلکہ دونوں باتوں کو میں سمجھ سکتا ہوں کہ 8/9 سالوں میں بعض عورتیں بالغ ہوسکتی ہیں اور 200 سال پہلے تک 9/10 سال کی لڑکی سے شادی کرنا عام تھا۔
لیکن مجھے اصل اشکال اس پر ہے کہ
1- اگر اسلام سیمپل اور لاجیکل دین ہے، جو ہرزمانے کے لوگوں کے لیے ہے تو اللہ تعالی نےایسی بات (عائشہؓ کا 9 سال کی عمر میں شادی) کو محمدﷺ کی زندگی میں کیوں رہنے دیا جو عام لوگوں کے لیے سمجھنا ناممکن ہے؟یا اتنا ہارڈ کیوں رکھا یا شاذونادر ( Rare) کیوں رکھا، یا بہت سی ہارڈ چیزیں جسے سمجھنا عام لوگوں کے لیے ممکن نہیں ہے اور جس کا کوئی ثبوت نہیں ہے؟ یعنی کہ 9 سے اگر 10 بھی رکھتے تو سمجھ میں آتا لیکن 9 رکھیں وہ بھی قمری سال (Lunar year)۔یعنی جب اسلام کے نبی ﷺ پر یہ الزام لگتا ہے کہ انہوں نے 8–9 سال کی لڑکی سے شادی کی، تو میں مسلمان ہوتے ہوئے بھی کنفیوژن میں آ جاتا ہوں اور میرا مائنڈ ہینگ ہو جاتا ہے۔ پھر جو غیر مسلم یا ملحد (Atheist) ہے، وہ اسلام کو کیسے سمجھے گا؟ یہ بات صرف مجھ جیسے لوگوں کے لیے نہیں، بلکہ ہر عام (simple) انسان کے لیے سمجھنے لائق ہونی چاہیے۔
2- کیونکہ لوگوں نے 8–9 سال کی لڑکی کا بالغ ہونا کبھی دیکھا ہی نہیں، یعنی کہ اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے اتنی ہارڈ چیز رکھی جس کا عام لوگوں کو کوئی ثبوت نہیں ملتا، یعنی کہ لاجیکل نہیں ہے (لوگوں کا مائنڈ تو نارمل 8، 9 سال کی لڑکی پہ چلا جاتا ہے)، تو پھر عام اور سمپل لوگوں کے لیے یہ بات کیسے سمجھنا اور اخلاقی طور پر (Morally) قبول کرنا ممکن ہے؟وضاحت از مجیب:سائل مانتا ہے کہ 9 سال کی عمر میں لڑکی کا بالغ ہونا ممکن ہے اور اس زمانے میں ایسی کم عمری میں شادی عام بات تھی لیکن اسے اشکال یہ ہے کہ بعد کے لوگوں نے ایسا کبھی دیکھا نہیں اور نہ ہی عام لوگوں کی عقل اس عمر میں شادی کو تسلیم کرتی ہے، تو اللہ تعالی جل جلالہ نے آپﷺ کی زندگی میں ایسی بات کیوں رکھی جسے بعد کے لوگوں نے نہ دیکھا ہو اور نہ ہی ان کی عقل تسلیم کرتی ہے؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
آپﷺ کی نبوت معجزات سے اور آپ کی پاکیزہ زندگی مستند حدیثی و تاریخی روایات سے ثابت ہے۔ آپﷺ کے بعض افعال پر کسی کے ذہن میں جو اشکال آتا ہے وہ اس کی کم علمی یا کج فہمی کا نتیجہ ہوتا ہے۔ موجودہ مسئلے میں درج ذیل باتوں کو سامنے رکھیں تو کوئی اشکال پیدا نہیں ہوتا۔
1-- حضرت عائشہؓ سے آپﷺ کو نکاح کرنے کا اشارہ اللہ تعالی نے خود دیا جیسا کہ بخاری شریف کی روایت میں ہے...
2- آپﷺ نے حضرت عائشہؓ سے، جبکہ وہ کم عمر تھیں، نکاح کیا جوکہ جائز ہے اور آپ نے اس کی ترغیب نہیں دی بلکہ جوڑ کا رشتہ کرنے کی ترغیب دی، لہذا یہ ایک واقعہ ضرور ہے لیکن کوئی ترغیبی حکم نہیں ہے۔
3- ہمیں دین کا ایک بڑا حصہ حضرت عائشہؓ سے حاصل ہوا، ظاہر ہے یہ اسی وقت ممکن تھا جبکہ وہ آپﷺ کے نکاح میں کم عمری میں آتیں اور آپکے ساتھ ایک طویل رفاقت کےبعد دیر تک زندہ رہتیں، یہ حکمت کم عمر خاتون کے بغیر عادۃ حاصل نہیں ہوسکتی تھی۔
4- آپﷺ سے بہت ایسے کام اللہ تعالی نے کروائے جن میں کئی مصلحتیں تھیں،اگرچہ وہ عام لوگوں کے لیے اچھنبے تھے، مثلا: منہ بولے بیٹے کی بیوی سے نکاح کرنا ۔ حضرت عائشہؓ سے کم عمری میں نکاح کرنا بھی ایسی چیزوں میں سے ہے کہ جو لوگ کم عمری میں شادی کو ناجائز سمجھتے ہیں ۔ ان کے لیے اسو ہ ہو کہ ایسا بھی کیا جاسکتا ہے۔
اس بات کو ذہن میں رکھیں کہ اس زمانے میں جب کفار آپﷺ پر مختلف قسم کے اعتراضات کرکے لوگوں کو متنفر کرنے کی کوشش کرتے تھے، اس وقت بھی مسلمان تو کیا کسی کافر نے بھی یہ اعتراض نہیں کیا کہ حضرت عائشہؓ سے کم عمری میں نکاح کیوں کیا؟
نیز نکاح کے لیے بچی کا بالغ ہونا بھی ضروری نہیں، قبل البلوغ بھی نکاح کیا جاسکتا ہے۔لوگوں کو اشکال اس لیے ہوتا ہے کہ وہ نکاح کا واحد مقصد صرف ازدواجی تعلقات کو ہی سمجھتے ہیں حالانکہ نکاح کی مصلحتیں اور بھی بہت ہیں۔خاص کر آپﷺ نے جتنے نکاح کیے وہ خواہشات نفسانیہ کے لیے قطعا نہیں تھے۔اگر ایسا ہوتا تو پہلا نکاح ایک 40 سالہ خاتون سے اور وہ بھی 25 سال کی عمر میں کیوں کرتے؟ پھر اصل جوانی کا وقت اس کے ساتھ کیوں گزارتے؟ اس کا مطلب ہے کہ اس نکاح سمیت کوئی نکاح بھی نفسانی خواہشات کے لیے نہیں تھا بلکہ بقیہ مصالح سمیٹنامقصود تھا۔
اس کے علاوہ بھی بہت سی حکمتیں ہوسکتیں ہیں لیکن صرف مذکورہ حکمتوں سے بھی ایک مؤمن کا خلجان دور ہو جانا چاہیے۔
یاد رہے یہ سب شیطانی وساوس ہیں، ان سے خود کو دور رکھیں، ایسے وسوسوں پر توجہ نہ دیا کریں ۔نیز آپ اپنے مجلس کے ساتھیوں کا درست انتخاب کریں، ان لوگوں سے دور رہیں جو اس طرح کے بحثیں کرتے ہیں یا اس طرح کی گمراہیوں میں مبتلا ہیں۔
کسی اللہ والے سے تعلقات بنائیں، ان کی مجلس میں حاضر ہوا کریں اور اللہ تعالی سے اپنی اصلاح کی دعا کرتے رہیں اوردرج ذیل وظیفہ کا بکثرت پڑھا کریں۔
رب أعوذبک من ھمزات الشیطین و أعوذ بک رب من أن یحضرون۔
حوالہ جات
زبیر احمد ولد شیرجان
دارالافتاء جامعة الرشید کراچی
14/رجب 1447ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | زبیر احمد ولد شیرجان | مفتیان | فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب |


