| 89756 | نکاح کا بیان | نکاح کے جدید اور متفرق مسائل |
سوال
خاندانی جھگڑوں کی وجہ سے میاں بیوی میں جدائی ہے، آ ٹھ مہینے ہو گئے۔ اس کی وجہ سے نکاح میں کوئی فرق نہیں پڑے گا؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
میاں بیوی کا لمبے عرصہ تک جدا رہنے سے نکاح پر کوئی اثر نہیں پڑتا، نکاح قائم رہتا ہے۔ البتہ نکاح سے میاں بیوی پر ایک دوسرے کے بہت سے حقوق لازم ہوتے ہیں جو اس طرح الگ رہنے سے ضائع ہوجاتے ہیں، ان کا ضائع کرنا گناہ ہے۔
حوالہ جات
القرأن الكريم(البقرة:228):
"وَ لَهُنَّ مِثْلُ الَّذِیْ عَلَیْهِنَّ بِالمَعْرُوْفِ وَ لِلرِّجَالِ عَلَیْهِنَّ دَرَجَةٌ وَ اللّٰهُ عَزِیْزٌ حَكِیْم."
القرأن الكريم(النساء:19):
"وَعَاشروهُنَّ بِالمعْرُوفِ فَإِنْ كَرِهْتُمُوهُنَّ فَعَسَى أَنْ تَكْرَهُوا شَيْئًا وَيجعَلَ اللَّهُ فِيهِ خَيْرًا كَثِيرًا."
المستدرك على الصحيحين للحاكم (4/ 189):
7324 - عن أبي هريرة رضي الله عنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: ... "من حق الزوج على الزوجة إن سال دما وقيحا وصديدا فلحسته بلسانها ما أدت حقه ولو كان ينبغي لبشر أن يسجد لبشر لأمرت الزوجة أن تسجد لزوجها إذا دخل عليها لما فضله الله تعالى عليها." هذا حديث صحيح الإسناد ولم يخرجاه.
الدر المختار وحاشية ابن عابدين (3/ 230):
(قوله وركنه لفظ مخصوص) هو ما جعل دلالة على معنى الطلاق من صريح أو كناية فخرج الفسوخ على ما مر، وأراد اللفظ ولو حكما ليدخل الكتابة المستبينة وإشارة الأخرس والإشارة إلى العدد بالأصابع في قوله أنت طالق هكذا كما سيأتي.
الدر المختار (205):
(وهو) لغة: رفع القيد لكن جعلوه في المرأة طلاقا وفي غيرها إطلاقا..... وشرعا (رفع قيد النكاح في الحال) بالبائن (أو المآل) بالرجعي (بلفظ مخصوص) هو ما اشتمل على الطلاق، فخرج الفسوخ كخيار عتق وبلوغ وردة فإنه فسخ لا طلاق .
فتاوی محمودیہ ( 12/۲۵۱ـ۲۵۳)میں ہے:
جب کہ طلاق نہیں دی ہے تو اتنی مدت تک الگ الگ رہنے سے نکاح ختم نہیں ہوا، بلکہ بدستور باقی ہے ۔ اب ساتھ رہیں اور ایک دوسرے کا حق زوجیت ادا کریں، اس سے وہ دونوں شرعا مجرم نہیں ہوں گے۔ بلکہ اب تک جو کچھ جرم ہوا ہے اور حقوق ادا نہیں کئے ہیں، انشاء اللہ تعالیٰ اس جرم کی مکافات ہو جائے گی۔ فقط واللہ تعالیٰ اعلم۔
محمد ابرار الحق
دارالافتاء جامعۃ الرشید ،کراچی
14/رجب/1447ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد ابرار الحق بن برھان الدین | مفتیان | فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب |


