| 89683 | خرید و فروخت کے احکام | خرید و فروخت کے جدید اور متفرق مسائل |
سوال
بسم الله الرحمن الرحیم (ایک اہم استفتاء) محترم حضرت مفتی صاحب دامت برکاتہم السلام علیکم ورحمة اللہ وبرکاته مندرجہ ذیل مسئلہ میں قرآن و سنت کی روشنی میں مدلل فتویٰ درکار ہے: تقریباً تین سال قبل ہمارے ایک تاجر دوست نے ایک نئے ٹاؤن کی تعمیر کا اعلان کیا۔ انہوں نے اس منصوبے کی تشہیر پوسٹرز اور بروشرز کے ذریعے کی، جن میں اس ٹاؤن کا نہایت خوبصورت نقشہ، کشادہ سڑکیں، پارک، اور دیگر سہولیات واضح طور پر دکھائی گئی تھیں۔ ہمیں بھی اس میں پلاٹ خریدنے کی دعوت دی گئی اور بڑی ترغیب دی گئی۔ انہوں نے اس ٹاؤن کے بے شمار فضائل اور فوائد بیان کیے، اور یہ بھی کہا کہ اس میں سرمایہ کاری کرنے سے آپ کو بہت زیادہ نفع ہوگا۔ چونکہ میں ایک دینی مدرسے میں مدرس ہوں (اور آپ جانتے ہیں کہ مدرس کی تنخواہ کتنی محدود ہوتی ہے)، تو اس (مُعيَّن اور نشاندهي شده) پلاٹ کی پہلی ایڈوانس قسط ادا کرنے کے لیے میں نے اپنے ذاتی موٹر سائیکل کو فروخت کر دیا، جو کہ مدرسے آنے جانے کے لیے استعمال کرتا تھا۔ اس کے بعد تقریباً دو سال تک میں کبھی پیدل، اور کبھی مقامی ٹرانسپورٹ کے ذریعے سفر کرتا رہا۔ باقی ماہانہ اقساط میں نے اپنی تنخواہ سے بڑی مشقت کے ساتھ ادا کیں، حالانکہ میرے لیے یہ ایک بڑا مالی بوجھ تھا۔ اب صورت حال یہ ہے کہ اس منصوبے کو شروع ہوئے چار سال ہو چکے ہیں، مگر آج تک اس ٹاؤن میں تقریباً ایک فیصد بھی کام نہیں ہوا۔ وہی زمین ویسے ہی خالی، کھڈوں اور جھاڑیوں سے بھری، بے ترتیب پڑی ہوئی ہے، اور آئندہ قریب میں بھی اس کے مکمل ہونے کی کوئی امید نظر نہیں آ رہی۔ میرا سوال یہ ہے کہ: 1. کیا میں ان حضرات سے یہ مطالبہ کر سکتا ہوں کہ چونکہ میں تقریباً پوری ادائیگی کر چکا ہوں، لہٰذا آپ وہی وعدہ کے مطابق مکمل ٹاؤن والا پلاٹ مجھے فراہم کریں، جیسا کہ آپ نے بروشرز، پوسٹرز اور بینرز میں دکھایا تھا؟ 2. اگر وہ ایسا نہیں کر سکتے، تو کیا میں ان سے اس (مُعيَّن) پلاٹ کی وہ قیمت لینے کا حق رکھتا ہوں، جو مکمل ٹاؤن بننے کی صورت میں ہوتی (یعنی فی مرلہ دو لاکھ کے حساب سے انہوں نے بیچا تھا، لیکن اگر وہ ٹاؤن مکمل ہو جاتا تو اس کی قیمت چھ سے آٹھ لاکھ فی مرلہ ہوتی)؟ 3. یا شرعی لحاظ سے میرا حق صرف اتنا ہے کہ میں اپنی ادا کردہ اصل رقم واپس حاصل کر لوں؟ براہِ کرم قرآن و سنت کی روشنی میں اس معاملے کی شرعی حیثیت واضح فرما دیں۔ جزاکم اللہ خیراً .
تنقیح: انہوں نے ایک معیّن اور نشاندہی شده پلاٹ خریدا ہے، جس میں عمارت بنانے کی شرط مقرر نہیں کی گئی، پلاٹ کی پوری قیمت ادا کر دی گئی ہے اور اس کا ڈاکومنٹ بھی انہیں مل چکا ہے، اور وہ چاہیں تو اسے آگے فروخت کرنے کی مجاز ہیں، البتہ تشہیری پوسٹرز اور بروشرز میں جو سہولیات مثلاً خوبصورت نقشہ، کشادہ سڑکیں اور پارک وغیرہ دکھائی گئی تھیں، تقریباً چار سال گزر جانے کے باوجود اب تک فراہم نہیں کی گئیں۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
آپ کی خرید و فروخت مکمل ہو چکی ہے۔ البتہ بائع کی جانب سے جن سہولیات کا وعدہ کیا گیا تھا، انہیں پورا کرنا بائع پر لازم ہے، اور اس کی خلاف ورزی کی صورت میں وہ گناہ گار ہوگا۔ تاہم اس وعدہ خلافی کی بنا پر نہ بیع کو فسخ کرنے کی گنجائش ہے اور نہ مزید رقم کا مطالبہ کیا جا سکتا ہے۔ البتہ اگر بائع اپنی رضامندی سے بیع فسخ کرنے پر آمادہ ہو، یا نئے عقد کے ذریعے دوبارہ خرید نا چاہیں، تو اس کی بھی گنجائش ہے۔
حوالہ جات
الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (4/ 501)
هومبادلة شيء مرغوب فيه بمثله على وجه مخصوص أي بإيجاب أو تعاط، أما القول فالإيجاب والقبول وهما ركنه. وشرطه أهلية المتعاقدين. ومحله المال. وحكمه ثبوت الملك.
فتح القدیر :۶/۴۸۶
الإقالة جائزۃ فی البیع بمثل الثمن الأوّل فإن شرط أکثر منه أو أقل فالشرط باطل ویرد مثل الثمن الأول. الدر الدر المختار شرح تنوير الأبصار وجامع البحار (ص: 449)
ان المواعيد قد تكون لازمة لحاجة الناس، وهو الصحيح كما في الكافي والخانية، وأقره خسروهنا والمصنف في باب الاكراه وابن الملك في باب الاقالة بزيادة
عبداللہ المسعود
دارالافتا ء،جامعۃالرشید کراچی
۱۵⁄رجب ⁄۱۴۴۷ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | عبدالله المسعود بن رفيق الاسلام | مفتیان | فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب |


