03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
طلاق معلق سے تین طلاقیں واقع ہونے کا حکم
89730طلاق کے احکامطلاق کو کسی شرط پر معلق کرنے کا بیان

سوال

ایک شخص کی دو بیٹیاں تھیں۔ اس نے اپنی بیٹیوں سے کہا: اب تمہاری شادی کی عمر ہو چکی ہے، تم اپنے لیے شوہر پسند کر لو، میں تمہاری ان سے شادی کرا دوں گا۔ البتہ اگر تم میں سے کسی نے کسی کے ساتھ بھاگ کر شادی کی تو تمہارے گھر آنے پر تمہاری ماں (یعنی میری بیوی) کو مجھ سے تین طلاق واقع ہو جائے گی۔بعد ازاں ایک بیٹی نے کسی شخص کے ساتھ بھاگ کر شادی کر لی۔ اب وہ اپنے والد کے گھر آنا چاہتی ہے اور والد بھی چاہتا ہے کہ بیٹی اپنے گھر آجائے، لیکن مذکورہ الفاظ کی وجہ سے وہ شرعی حکم معلوم کرنا چاہتا ہے۔

اب سوال یہ ہے: اگر وہ بیٹی اپنے والد کی عدم موجودگی میں گھر آجائے تو کیا اس صورت میں والدین کے درمیان طلاق واقع ہو جائے گی؟ کیا کوئی ایسی صورت موجود ہے کہ بیٹی بھی گھر آسکے اور طلاق بھی واقع نہ ہو؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

صورتِ مسؤلہ میں یہ بیٹی جب بھی اپنے باپ کے گھر آئے گی تو اس شخص کی بیوی کو تین طلاقیں واقع ہوجائیں گی، اگرچہ وہ بیٹی باپ کی غیر موجودگی میں ہی  گھر آئے ۔

اگر والدین اس بیٹی سے ملاقات کرنا چاہیں تو اپنے گھر میں نہ کریں، بلکہ باہر رشتہ داروں کے گھر یا کسی اور جگہ اپنی بیٹی سے مل سکتے ہیں۔

البتہ تین طلاق سے بچنے کی یہ صورت ہے کہ مذکورہ شخص اپنی اہلیہ کوایک طلاقِ  دے  دے ، جب بیوی کی عدت  ختم ہوجائے (یعنی تین ماہواریاں گزر جائیں  یاحاملہ ہونے کی صورت میں وضع حمل کے بعد) تو  اس کی وہ بیٹی گھر آجائے ، ایسا کرنے سے یہ تعلیق ختم ہوجائے گی اور  چونکہ اُس وقت وہ مذکورہ شخص کے  نکاح  میں نہیں ہوگی،اس لیے تین طلاقیں واقع نہیں ہوں گی اور شرط  پوری  ہوجائے گی، پھر دونوں میاں بیوی دوبارہ باہمی رضامندی سے مہر مقرر کرکے دوگواہوں کی موجودگی میں نکاح کرلیں۔ آئندہ کے لیے شوہر کو دو طلاقوں کا حق باقی ہوگا ۔

حوالہ جات

بدائع الصنائع : (3/122

بخلاف ما إذا قال لها أنت طالق إن دخل فلان الدار أنه يقع الطلاق إذا وجد الشرط في أي وقت وجد ولا يتقيد بالمجلس؛ لأن ذلك تعليق الطلاق بالشرط، والتعليق لا يتقيد بالمجلس؛ لأن معناه إيقاع الطلاق في زمان ما بعد الشرط فيقف الوقوع على وقت وجود الشرط ففي أي وقت وجد يقع الله عز وجل أعلم.

المحيط البرهاني (3/ 287):

وفي المنتقى أيضاً: إذا قال: عمرة طالق ثلاثاً إن ‌دخلت ‌الدار وزينب طالق إن ‌دخلت ‌الدار، فهما يمين واحد، وإذا دخلت الدار مرة واحدة وقع الطلاق عليهما.

حاشية ابن عابدين = رد المحتار ط الحلبي (4/ 477):

قال لامرأته إن كلمت فلانا فأنت طالق فشهد أحدهما أنها كلمته غدوة والآخر عشية طلقت(قوله: طلقت) لأن الكلام يتكرر فيمكن أنها كلمته في الوقتين.

الفتاوى العالمكيرية = الفتاوى الهندية (1/ 428):

وإن قال: أنت طالق إن أكلت وإن شربت أو قال: إن أكلت فأنت طالق وإن شربت فأيهما وجد نزل الجزاء ولا تبقى اليمين.

شرح مختصر الطحاوي للجصاص (5/ 86):

قال: (وإذا علق طلاقها بشرط مستقبل، سواء مما قد يكون، أو لا يكون: فإنه لا يقع شيء حتى يوجد الشرط، وليس عليه أن يعتزل امرأته.وذلك لأنه علق الطلاق بالشرط، ولم يوقعه في الحال، فلا يجوز إيقاعه دون وجود الشرط، كما لو قال: أنت طالق غدًا: لم يقع في الحال.

ابن امین صاحب دین

دارالافتاءجامعۃالرشیدکراچی

14/رجب المرجب /1447ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

ابن امین بن صاحب دین

مفتیان

فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب