| 89666 | خرید و فروخت کے احکام | شئیرزاور اسٹاک ایکسچینج کے مسائل |
سوال
میں پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں سرمایہ کاری کرتا ہوں ۔ میرا سوال یہ ہے کہ اگر کوئی شیئر 100 روپے کا خریدا اور اس شیئر نے دو دن بعد قبضہ میں آنا ہے اور مجھے یہ ڈر ہے کہ شیئرکی قیمت نیچے نہ آ جائے اس لیے اسٹاپ لوس لگاتا ہوں کہ 90 روپے سے نیچے آ نے کی صورت میں وہ بک جائے اور شیئر ابھی قبضہ میں نہیں ہے تو کیا ایسا کرنا جائز ہے؟ رہنمائی فرمائیں ۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
اسٹاک ایکسچینج میں سرمایہ کاری کے جواز کے لیے چند شرائط کا پایا جانا ضروری ہے جن میں ایک شرط یہ ہے کہ شئیرز خریدنے کے بعد آگے بیچنے سے پہلے ان پر قبضہ بھی ہو ۔
اور قبضہ کا حکم ثابت ہونے کے لیے شیئر ز کا خرید نے والے کے نام پر رجسٹریا الاٹ ہونا ضروری ہے ، رجسٹر یا الاٹ ہونے سے پہلے زبانی وعدہ یا غیر رجسٹر شدہ حصص کی خرید و فروخت جائز نہیں۔
صورت مسئولہ میں قبضہ میں آنے سے پہلے شیئرز کی خرید وفروخت جائز نہیں ۔ تاہم اگر کسی نے ایساکیاہو توکیونکہ وہ پہلے ہی نقصان میں ہے لہذا اسے کوئی صدقہ کرنا ضروری نہ ہوگا۔
حوالہ جات
مرقاة المفاتيح شرح مشكاة المصابيح (5/ 1937):
والثاني: أن يبيع منه متاعا لا يملكه ثم يشتريه من مالكه ويدفعه إليه وهذا باطل لأنه باع ما ليس في ملكه وقت البيع، وهذا معنى قوله: قال (لا تبع ما ليس عندك) أي شيئا ليس في ملكك حال العقد.
بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع (5/ 180):
(ومنها) القبض في بيع المشتري المنقول فلا يصح بيعه قبل القبض؛ لما روي أن النبي صلى الله عليه وسلم «نهى عن بيع ما لم يقبض» ، والنهي يوجب فساد المنهي
عادل ارشاد
دار الافتاء جامعۃ الرشید کراچی
16/رجب المرجب /1447ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | عادل ولد ارشاد علی | مفتیان | فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب |


