| 89687 | جائز و ناجائزامور کا بیان | جائز و ناجائز کے متفرق مسائل |
سوال
کیا فرماتے ہیں مفتیان عظام اس مسئلے کے بارے میں کہ اگر کسی لڑکی سے محبت ہو جائے تو اس سے نکاح کے لیے دعا کرنااور یہ دعا کرنا کہ وہ بھی مجھ سے محبت کرنے لگے، کیا یہ شرعی طور پر درست ہے؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
شریعت میں پردے، محرم کے بغیر سفر نہ کرنے، اجنبی کے ساتھ تنہائی میں جمع نہ ہونے اور بدنگاہی سے بچنے کے احکام اسی لیے ہیں کہ شادی سے پہلے انسان ممنوع محبت میں مبتلا نہ ہو۔ اس لیے اصل یہ ہے کہ کسی نامحرم سے تعلق نہ رکھا جائے۔ تاہم اگر کسی سبب سے دل میں نکاح کا داعیہ پیدا ہوچکا ہو ،تو آپ ﷺ نے ایسی صورت میں نکاح کو پسند فرمایا ہے۔
اب جبکہ آپ کے بقول محبت ہوچکی ہے، تو اس سے نکاح کے لیے دعا کرنا اور یہ دعا کرنا کہ وہ بھی نکاح کے لیے راضی ہو جائے، درست ہے۔ اگر نکاح ہو جائے تو یہ پسندیدہ ہوگا۔ البتہ اگر اس میں رکاوٹ محسوس ہو ،تو غیر محرم سے حرام محبت کا تسلسل جائز نہیں ہوگا۔
حوالہ جات
سورت النور،آیات:( 30)
"قُلْ لِلْمُؤْمِنِينَ يَغُضُّوا مِنْ أَبْصَارِهِمْ وَيَحْفَظُوا فُرُوجَهُمْ ذَلِكَ أَزْكَى لَهُمْ إِنَّ اللَّهَ خَبِيرٌ بِمَا يَصْنَعُونَ ".
صحيح مسلم (4/ 2047)
عن أبي هريرة، عن النبي صلى الله عليه وسلم، قال: «كتب على ابن آدم نصيبه من الزنا، مدرك ذلك لا محالة، فالعينان زناهما النظر، والأذنان زناهما الاستماع، واللسان زناه الكلام، واليد زناها البطش، والرجل زناها الخطا، والقلب يهوى ويتمنى، ويصدق ذلك الفرج ويكذبه».
سنن ابن ماجہ: (حدیث 1847)
عن ابن عباس قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم" لم نر للمتحابين مثل النكاح".
الدر المختار شرح تنوير الأبصار وجامع البحار (ص: 655)
"وفي الشرنبلالية معزيا للجوهرة ولا يكلم الأجنبية إلا عجوزا عطست أو سلمت فيشمتها لا يرد السلام عليها، وإلا لا" انتهى.
محمد شاہ جلال
دار الإفتاء، جامعۃ الرشید، کراچی
17/رجب /1447ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد شاہ جلال بن خلیل حولدار | مفتیان | فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب |


