| 89739 | اجارہ یعنی کرایہ داری اور ملازمت کے احکام و مسائل | کرایہ داری کے جدید مسائل |
سوال
میں ایک کاروباری نظام (Marketing Plan) میں شامل ہونے کا ارادہ رکھتا ہوں، لیکن رزقِ حلال کی فکر کے پیشِ نظر آپ سے شرعی رہنمائی کا طالب ہوں۔ ذیل میں کمپنی (Forever Living Products)کا مکمل طریقہ کار تفصیل سے بیان کیا گیا ہے: 1. کام کی نوعیت: کمپنی حقیقی مصنوعات (ایلو ویرا اور شہد) بیچتی ہے۔ ہر پروڈکٹ کے مخصوص پوائنٹس (CC) ہوتے ہیں۔ CC.1تقریباً 17,000 سے 18,000 روپے کی خریداری پر مشتمل ہے۔ تمام رینکس ان پوائنٹس کو جمع کرنے سے ملتے ہیں۔ شمولیت کی فیس نہیں ہےمگر کام شروع کرنے کے لیے پروڈکٹ خریدنا لازمی ہے۔ 2 CC. کی خریداری پر بندہ "Assistant Supervisor" بن جاتا ہے اور اسے 30% ڈسکاؤنٹ ملتا ہے۔ مینیجر لیول تک پہنچنے کے لیے ٹیم کی سیلز (Group CC) کا سہارا لیا جاتا ہے۔ 3.جب میں کسی نئے فرد کو اپنے نیچے جوائن کرواتا ہوں، تو اس کی ہر خریداری پر مجھے 25% سے 43% تک کمیشن ملتا ہے۔ وہ شخص جب بھی اور جتنی بار بھی خریداری کرے گا، مجھے یہ کمیشن ملتا رہے گا۔ اس کےساتھ میری ٹیم کے نیچے جب مزید لوگ شامل ہوتے ہیں، تو ان کی سیلز پر بھی مجھے 3% سے 13% تک کمیشن ملتا ہے (بشرطیکہ میں خود ایکٹو رہوں)۔ ایکٹو رہنے کی شرط (4CC): ٹیم کا کمیشن لینے کے لیے مجھ پر لازم ہے کہ میں ہر ماہ 4 CC کا کام جس میں 1 CC کی ذاتی خریداری شامل ہے خود کروں۔ اگر میں یہ ٹارگٹ پورا نہ کروں تو ٹیم کی سیلز کا کمیشن مجھے نہیں ملے گا۔ 4. مصنوعات کی قیمت: مصنوعات کی قیمت مارکیٹ کی عام مصنوعات سے زیادہ ہے، تاکہ یہ بھاری کمیشن اوپر کے تمام لیولز میں تقسیم کیے جا سکیں اس کا روبار میں مجھے شرعی رہنمائی چاہیے۔درجہ ذیل لنک میں تفصیلات موجودہیں ۔
https://youtu.be/AVoPVjL77Vs?si=8vOvITACixSnj
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
سوال میں ذکر کردہFLP کمپنی" ملٹی لیول مارکیٹنگ " کمپنی ہےجس میں کاروبار کرنا یا اس کا حصہ بننا چند وجوہ کی بناپر ناجائز ہے۔
۱۔اس کمپنی کا اصل مقصد پراڈکٹ کی خرید وفروخت کرنا نہیں ہوتا ، بلکہ کمیشن در کمیشن پیسہ کمانا ہوتا ہے۔ اس کی تفصیل یہ ہے کہ یہ لوگ رقم پراڈکٹ خریدنے کے لیے نہیں، بلکہ ایک ایسے کام کے لیے لگاتے ہیں جس کا ہونا یا نہ ہونا دونوں ممکن ہوتے ہیں۔اگر ممبر بن گئے تو نفع ہو جائے گا اور اگر ممبر نہ بن سکے تو یہ رقم بھی جائے گی۔ یہ شرعاً قمار (جوے) کے تحت آتا ہے،جوکہ ناجائز ہے۔
۲۔ان پراڈکٹس کی خرید و فروخت کے معاملہ کے ساتھ اجارہ کی شرط لگائی جاتی ہے ۔ اس کی تفصیل یہ ہےکہ کاروبار میں لوگوں کو پراڈکٹس فروخت کروا کر کمیشن لینا اجارے (ملازمت) کے تحت آتا ہے،جسے پراڈکٹس کی خریداری کے ساتھ مشروط کر دیا جاتا ہے۔لہٰذا اگر پراڈکٹس نہیں خریدی گئیں تو دوسروں کو خریداری کروا کر کمیشن کا حق بھی نہیں ہوگا۔یوں ایک عقد (معاملے) میں دوسرا عقد جمع کیا جاتا ہے، جو شرعاً ناجائز ہے۔
۳۔بغیر عمل کے اجرت کا ملنا :جس کی تفصیل یہ ہے کہ مذکورہ کاروبار میں جب کوئی شخص پہلا ممبر بنتاہے اور وہ ممبر مزید آگے ممبرز بناتا ہے تو ان آگے والے ممبران کی لین دین میں اس شخص کا کوئی ایسا عمل نہیں ہوتا جس کا تعلق براہ راست کمپنی اور خریدار کے لین دین سے ہو، ایسی صورت میں یہ شخص جو اجرت لیتا ہے وہ بغیر کسی عمل کے ہوتی ہے،جو کہ ناجائز ہوتی ہے ۔
لہذاان وجوہ کی بنا پر آپ کا FLP( (Forever Living Products کمپنی کےکاروبار میں شمولیت کرنا جائز نہیں ۔
حوالہ جات
البحر الرائق شرح كنز الدقائق8/554:(
فلا يجوز لأن القمار من القمر الذي يزاد تارة، وينقص أخرى، وسمي القمار قمارا لأن كل واحد من المقامرين ممن يجوز أن يذهب ماله إلى صاحبه، ويجوز أن يستفيد مال صاحبه فيجوز الازدياد والانتقاص في كل واحد منهما فصار قمارا وهو حرام بالنص.
)المبسوط للسرخسي :(15/102
وإن اشترى ثوبا على أن يخيطه البائع بعشرة فهو فاسد؛ لأنه بيع شرط فيه إجارة؛ فإنه إن كان بعض البدل بمقابلة الخياطة فهي إجارة مشروطة في بيع، وإن لم يكن بمقابلتها شيء من البدل فهي إعانة مشروطة في البيع، وذلك مفسد للعقد وهذا ومسألة النعل في القياس سواء غير أن هناك استحسانا للعرف ولا عرف هنا فيؤخذ به بالقياس.
الجوهرة النيرة، (1/203 ):
وكذلك لو باع عبدا على أن يستخدمه البائع شهرا، أو دارا على أن يسكنها شهرا، أو على أن يقرضه المشتري دراهم، أو على أن يهدي له هدية) فالبيع فاسد؛ لأنه شرط لا يقتضيه العقد، وفيه منفعة لأحد المتعاقدين ولأنه لو كان الخدمة والسكنى يقابلهما شيء من الثمن تكون إجارة في بيع ولو كان لا يقابلهما شيء يكون إعارة في بيع وقد «نهى رسول الله صلى الله عليه وسلم عن صفقتين في صفقة ونهى عن بيع وشرط عن شرطين في بيع وعن بيع وسلف وعن ربح ما لم يضمن وعن بيع ما لم يقبض وعن بيع ما ليس عند الإنسان» ، أما بيع وشرط فهو أن يبيع بشرط فيه منفعة لأحد المتعاقدين۔۔۔الخ
حنبل اکرم
دارالافتاء جامعۃ الرشید ،کراچی
14 /رجب المرجب /1447ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | حنبل اکرم بن محمد اکرم | مفتیان | فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب |


