03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
علاج کی نیت سے دم کرنےیاکروانےکا حکم
89662ذکر،دعاء اور تعویذات کے مسائلرسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر درود وسلام بھیجنے کے مسائل ) درود سلام کے (

سوال

کچھ دنوں سے میرا بیٹا بیمار تھا شدید درد میں مبتلاتھااور ٹھیک نہیں ہورہا تھا، پڑوس میں ایک بندے سے دم کروایا جس کے بارے میرا غالب گمان یہی ہے کہ اس کا دم بغرض علاج ہوتا  ہے اور بچے صحت یاب ہوتے ہیں ۔اب میں خود یہ دم کرنا چاہتا ہوں لیکن اس کے الفاظ کی بجائے میں،خود دم ،رقیہ وغيره پڑھ لوں تو اس نیت سے شفاء کا سوچنا درست ہوگا یا نہیں ؟ ایسا اعتقاد رکھنا میرے لیے کیسا ہے ؟ نیز اس سے دم منسوب کرنا یا اسی بندے کے منہ سے دم کروانا گناہ تو نہیں ؟ راہنمائ کیجیے.

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

مریض اپنے اوپرخود بهی دم  كرسكتاہےاورکسی دوسرے سے بھی کرواسکتا   ہے ۔البتہ اس کے لیے کچھ شرائط ضروری ہیں :

1-قرآن وسنت میں منقول ادعیہ،یااللہ تعالی کے ذاتی وصفاتی نام کے ذریعہ ہو ۔

2- عربی زبان میں ہو ۔اگر کسی دوسری زبان میں ہو تو اس کا مفہوم اور معنی واضح ہو۔

3-اعتقاد یہ ہو کہ یہ رقیہ ودم اپنی ذات کے اعتبار سے مؤثر نہیں ہیں ،بلکہ مؤثر حقیقی اللہ تعالی کی ذات ہے۔

 اپنے دم کو کسی اور کی طرف منسوب کرنا جو اس کی طرف سے بتایا ہوا نہ ہویا اس کی طرف سے اس کی اجازت نہ ملی ہوٹھیک نہیں ہے ،کیونکہ اس میں دھوکہ ہےجو کہ ناجائز ہے۔

حوالہ جات

ردالمحتارمع درالمختار(6/363):

وفي المغرب وبعضهم يتوهم أن المعاذات هي التمائم وليس كذلك إنما التميمة الخرزة، ولا بأس بالمعاذات إذا كتب فيها القرآن، أو أسماء الله تعالى، ويقال رقاه الراقي رقيا ورقية إذا عوذه ونفث في عوذته قالوا: إنما تكره العوذة إذا كانت بغير لسان العرب، ولا يدرى ما هو ولعله يدخله سحر أو كفر أو غير ذلك، وأما ما كان من القرآن أو شيء من الدعوات فلا بأس به.

فتح الباري(10/195):

أجمع العلماءعلى جواز الرقية عند إجتماع ثلاثة شروط:أن يكون بكلام الله تعالى وبأسمائه

وبصفاته،وبلسان العربي،أوبمايعرف معناه من غيره،وأن يعتقدأن الرقيةلاتؤثر بذاتها ،بل بذات الله تعالى.

صحيح مسلم،الرقم:101(1/69):

عن أبي هريرة أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: من حمل علينا السلاح فليس منا، ومن غشنا فليس منا .

محمد وجیہ الدین

دارالافتاءجامعہ الرشید کراچی

13/رجب المرجب /1447ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمد وجیہ الدین بن نثار احمد

مفتیان

فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب