03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
سی فوڈ مچھلی کےعلاہ دیگربحری حیوانات کی مصنوعات کی خریدوفروخت
89746جائز و ناجائزامور کا بیانکھانے پینے کے مسائل

سوال

 سوال:دیگر ممالک کی طرح پاکستان میں بھی سپر اسٹورز کا رواج بڑھتا جا رہا ہے جہاں بنیادی ضروریات سے متعلقہ ہر طرح کی مصنوعات دستیاب ہوتی ہیں۔ اس پس منظر میں ہمیں اپنے کاروبار کے لیے درج ذیل سوالات کے جوابات درکار ہیں:

1. عموما سپر اسٹورز میں ایک سیکشن Sea Food کا بھی ہوتا ہے جس میں مچھلی کے علاوہ دیگر سمندری حیوانات بھی فروخت کے لیے دستیاب ہوتے ہیں اور ہر طرح کا گاہک وہاں آتا ہے۔

 سوال نمبر 1: یہ ہے کہ : ایک حنفی تاجر کے لیے ، پاکستانی معاشرے میں، مچھلی کے ساتھ ساتھ ، مچھلی کے علاوہ دیگر بحری حیوانات ( مثلا: کیکڑا، اسکویڈ ، لا بسٹر اور ہشت پا [ Octopus] وغیرہ) بیچنے کا کیا حکم ہو گا؟

واضح رہے کہ ہمارے خریدار غیر مسلم بھی ہو سکتے ہیں نیز غیر حنفی مسلمان بھی کہ جن کے نزدیک یہ حیوانات حلال ہیں لیکن گاہک کے بارےمیں متعینہ طور پر ہمیں اس کی تعیین نہیں ہوتی اور نہ ہی ہم کسی کو مسلک کی بنیاد پر سودا بیچنے سے منع کر سکتے ہیں۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

اصل جواب سےپہلےبطور تمہید یہ سمجھنا ضروری ہےکہ

تمہیدی طور پر دو باتیں سمجھنا ضروری ہیں:

( 1)کھانے پینے کی حلت و حرمت کا ضابطہ خرید و فروخت کے ضابطہ سے بالکل الگ ہیں۔

اس کی تفصیل یہ ہےکہ احناف کےنزدیک سمندری جانوروں میں صرف مچھلی حلال ہے،باقی سمندری جانور احناف کےنزدیک حلال نہیں،لیکن یہ ضابطہ اورحکم کھانےپینےسےمتعلق ہے۔

دوسری طرف خریدوفروخت کاضابطہ احناف کےنزدیک یہ ہےکہ ایسی تمام اشیاء جن کا کوئی جائز استعمال (کھانےپینےکےعلاہ )موجود ہے،ان کی خریدوفروخت جائزہےاورایسی چیزیں جن کا کوئی جائزاستعمال ہی نہیں تواحناف کےنزدیک ایسی چیزوں کی خریدفروخت جائزنہیں ہوگی۔اورکمائی بھی حرام ہوگی ۔

صورت مسئولہ میں  دیگر بحری حیوانات(مثلا:کیکڑا،اسکویڈ، لا بسٹر اور ہشت پا [ Octopus] وغیرہ)کوبیچنےکاحکم بھی یہی ہوگاکہ اگران حیوانات کا دیگر جائزاستعمال موجود ہوتوان کی خریدوفروخت جائزہوگی ورنہ نہیں۔

دیگربحری حیوانات جو احناف کےنزدیک کھانےکےاعتبارسےحلال نہیں،ان کےحوالےسےشرعی حکم یہ ہےکہ عام معاشرےکو دیکھتےہوئے، اگرایسےحیوانات کاکھانےکےعلاوہ دیگرکوئی استعمال بھی موجود ہو،مثلا کسی  خارجی استعمال کی اشیاء میں استعمال  کیاجاتاہوتوچونکہ یہ حیوانات پاک ہیں اورخارجی استعمال کی رو سےقابل انتفاع ہونےکی وجہ سےمتقوم بھی ہیں،لہذان سےبنی ہوئی اس طرح کی مصنوعات کی خریدوفروخت شرعاجائزہوگی اورا س کی کمائی بھی  حلال ہوگی۔

جیسےپہلےگزرچکاہےکہ اگرکھانےکےعلاوہ یہ حیوانات کسی بھی طرح قابل انتفاع ہیں توان کی خریدوفروخت شرعادرست ہے،لہذا غیرمسلم کو بیچنا یاکسی غیرحنفی مسلمان کو بیچنایاکسی حنفی کوایسی مصنوع بیچناجس کاصرف خارجی استعمال ہوتاہو،جائزہوگا،نیزجن اشیاءکاخارجی وداخلی استعمال دونوں ہوتےہوں،توبھی جائزہے،بشرطیکہ گاہک کےبارےمیں یقینی طورپرمعلوم نہ ہوسکےکہ وہ کھانےہی کےلیےخریدرہاہے۔

اوراگرمذکورہ بالاحیوانات کھانےکےعلاوہ کسی اورطرح قابل انتفاع نہیں  ہیں توپھرچونکہ مال متقوم نہیں ہونگے،لہذا ان کی خریدوفروخت شرعاجائزہی نہیں ہوگی،ایسی صورت میں چاہےکسی حنفی مسلمان کو بیچےیاغیرحنفی مسلمان کو بیچےیا کسی غیرمسلم  کوسب ناجائزہوگا۔

حوالہ جات

"رد المحتارعلی الدرالمختار"5/ 51:

وفي القنية: وبيع غير السمك من دواب البحر لو له ثمن كالسقنقور وجلود الخز ونحوها يجوز وإلا فلا وجمل الماء قيل يجوز حيا لا ميتا والحسن أطلق الجواز اهـ فتأمل، ويأتي له مزيد بيان عند الكلام على بيع دود القز والعلق (قوله والبيع به) أي بما ليس بمال۔

"الموسوعة الفقهية الكويتية "9/ 154:

 بيع سباع البهائم وجوارح الطير والهوام : 14 - اتفقت المذاهب على عدم جواز بيع سباع البهائم والطير ، إذا كانت مما لا ينتفع به بحال . فإن كانت مما ينتفع به جاز بيعه إلا الخنزير ، فإنه نجس العين ، فلا يجوز الانتفاع به ، فكذلك لا يجوز بيعه (2) . لكنهم ذهبوا مذاهب في تفسير النفع الذي يجيز بيع السباع : 15 - فالحنفية - في ظاهر الرواية من مذهبهم - والمالكية في الراجح من المذهب ، ذهبوا إلى إطلاق النفع ، ولو بالجلد ، وبدون تفرقة بين المعلم وغيره . ومن نصوص الحنفية في هذا : صح بيع الكلب ولو عقورا ، والفهد والفيل والقرد ، والسباع بسائر أنواعها ، حتى الهرة ، وكذا الطيور واللہ سبحانہ و تعالی اعلم۔

" رد المحتار"5/ 69:

 (بخلاف غيرهما من الهوام) فلا يجوز اتفاقا كحيات وضب وما في بحر كسرطان، إلا السمك وما جاز الانتفاع بجلده أو عظمه والحاصل أن جواز البيع يدور مع حل الانتفاع مجتبى، واعتمده المصنف وسيجيء في المتفرقات۔

" الموسوعة الفقهية الكويتية"40/ 102:

 وذكر أبو الليث أنه يجوز بيع الحيات إذا كان ينتفع بها في الأدوية وإن لم ينتفع فلا يجوز۔۔ويجوز بيع الدهن النجس لأنه ينتفع به للاستصباح فهو كالسرقين في جواز بيعه ، وأما العذرة فلا ينتفع بها إلا إذا خلطت بالتراب فلا يجوز بيعها إلا تبعا للتراب المخلوط ، بخلاف الدم يمنع مطلقا۔

"رد المحتار"19 / 278:

 قال في الحاوي : ولا يجوز بيع الهوام كالحية والفأر والوزغة والضب والسلحفاة والقنفذ وكل ما لا ينتفع به ولا بجلده وبيع غير السمك من دواب البحر ، إن كان له ثمن كالسقنقور وجلود الخز و نحوها يجوز ، وإلا فلا كالضفدع والسرطان ، وذكر قبله ويبطل بيع الأسد والذئب وسائر الهوام والحشرات ، ولا يضمن متلفها ۔

بدائع الصنائع (5/ 143:

لا ينعقد بيع الخنزير من المسلم لأنه ليس بمال في حق المسلمين فأما أهل الذمة فلا يمنعون من بيع الخمر والخنزير، أما على قول بعض مشايخنا فلأنه مباح الانتفاع به شرعاً لهم كالخل وكالشاة لنا فكان مالاً في حقهم فيجوز بيعه ، وروي عن سيدنا عمر بن الخطاب رضي الله عنه كتب إلى عشاره بالشام أن ولوهم بيعها وخذوا العشر من أثمانها ولو لم يجز بيع الخمر منهم لما أمرهم بتوليتهم البيع، وعن بعض مشايخنا حرمة الخمر والخنزير ثابتة على العموم في حق المسلم والكافر لأن الكفار مخاطبون بشرائع هي حرمات هو الصحيح من مذهب أصحابنا فكانت الحرمة ثابتة في حقهم لكنهم لا يمنعون عن بيعها لأنهم لا يعتقدون حرمتها ويتمولونها ونحن أمرنا بتركهم وما يدينون. ولو باع ذمي من ذمي خمرا أو خنزيرا ثم أسلما أو أسلم أحدهما قبل القبض يفسخ البيع لأنه بالإسلام حرم البيع والشراء فيحرم القبض والتسليم أيضا لأنه يشبه الإنشاء أو إنشاء من وجه فيلحق به في باب الحرمات احتياطاً۔

"فقہ البیوع"1/303-289:

 الشرط الثانی لجواز البیع أن یکون المبیع متقوماً، وهو شرط لانعقاد البیع، فما لیس متقوماً بحکم العرف أو بحکم الشرع لاینعقد بیعه…….. . فکل ما لا یباح الانتفاع به لیس متقوماً شرعاً، ولا یجوز بیعه، وهو ما کان استعماله متمحضاً فی محظور، فلا یجوز بیع الخمر۔

محمدبن عبدالرحیم

دارالافتاءجامعۃ الرشیدکراچی

17/رجب1447ھج

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمّد بن حضرت استاذ صاحب

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب