03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
عدالتی خلع کا حکم
89712طلاق کے احکامخلع اور اس کے احکام

سوال

کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ایاز خان کی اہلیہ نے عدالت جاکر مطالبہ کیا کہ میرا شوہر مجھے نان نفقہ نہیں دیتا مجھے خلع چاہیے ۔ عدالت نے نوٹس جاری کیے مگر شوہر حاضر نہیں ہوا پھر عدالت نے خلع کا لیٹر جاری کردیا ہے ۔ مہر کے بارے میں اختلاف تھا اسی فیصلے کو برقرار رکھا باقی عدالت نے فیصلہ سنادیا ہے ۔ اب کیا یہ خلع معتبر ہے یا نہیں ۔ جس کے کاغذات منسلک ہیں ۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

خلع ایک عقد ہے جس میں باقی عقود  کی طرح باہمی رضامندی  شرط ہے ۔ شوہر کی رضامندی کے بغیر   خلع شرعا معتبر نہیں ۔ صورت مسئولہ میں محض بیوی کےاس  مطالبہ پرجیسا کہ منسلکہ دستاویزات میں لکھا ہےکہ وہ خاوند کے ساتھ رہنانہیں چاہتی    خلع کا فیصلہ سنانا شرعا درست نہیں ۔  خلع غیر معتبر ہونے کی وجہ سے  میاں بیوی کا نکاح  تاحال برقرار ہے ۔بیوی کے لیے یہ جائز نہیں کہ وہ  خاوند سے طلاق لیے بغیر   یا شرعی طریقہ سے فسخ نکاح کروائے بغیر دوسری  جگہ نکاح  کرلے۔

تاہم بعض اسباب کی وجہ سے  عورت کو عدالت  کے ذریعے سے  فسخ  نکاح کاحق حاصل ہوتاہے جن  میں سے  ایک شوہر کی طرف سے   نفقہ میں تعنت کا پایا جانا( یعنی گنجائش کے باوجود بیوی کو نان نفقہ نہ دینا) بھی ہے ۔ لہذا اگر واقعی  شوہر کی طرف سے  تعنت پایا جارہا ہو   تو  بیوی کو یہ اختیار حاصل ہے کہ وہ   عدالت یا کسی معتبر دار الافتاء  کے علماء کے سامنے گواہوں کے ذریعے شوہر کا تعنت  ثابت کردیں اور عدالت یا علماء کی جماعت شوہر سے بھی تحقیق کراکے شوہر کو اس بات کا پابند کردے کہ یا تو بیوی کو نفقہ دیا کرے یا ان کو طلاق دے دے اگر شوہر دونوں میں سے کسی ایک پر بھی راضی نہ ہو تو نکاح فسخ کیا جائے گا    اور  یہ فسخ نکاح بھی  ایک طلاق بائن  کے حکم میں ہوگا۔

حوالہ جات

رد المحتار على  الدر المختار  ط : الحلبي (3/ 441):

(و) شرطه كالطلاق ... (و) حكمه أن (الواقع به) ولو بلا مال (وبالطلاق) الصريح (على مال طلاق بائن)

قال العلامة ابن عابدين: (قوله: وشرطه كالطلاق) "وهو أهلية الزوج وكون المرأة محلا للطلاق منجزا، أو معلقا على الملك. وأما ركنه فهو كما في البدائع: إذا كان بعوض الإيجاب والقبول لأنه عقد على الطلاق بعوض، فلا تقع الفرقة، ولا يستحق العوض بدون القبول."

بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع ط: دار الكتب العلمية  (3/ 145):

"وأما ركنه فهو الإيجاب والقبول؛ ‌لأنه ‌عقد ‌على ‌الطلاق ‌بعوض ‌فلا ‌تقع ‌الفرقة، ولا يستحق العوض بدون القبول."

رد المحتار ط:  الحلبي (3/ 449):

(وقوله لها: أنت طالق بألف أو على ألف وقبلت) في مجلسها (لزم) إن لم تكن مكرهة كما مر، ولا سفيهة ولا مريضة كما يجيء (الألف) لأنه تعويض أو تعليق.

قال العلامة ابن عابدين: (قوله: لأنه تعويض) بالعين المهملة لا بالفاء كما يوجد في بعض النسخ ،وهذا  راجع لقوله بألف، وقوله: أو تعليق راجع لقوله على ألف. قال الزيلعي: ولا بد من قبولها؛ لأنه عقد معاوضة، أو تعليق بشرط، فلا تنعقد المعاوضة بدون القبول، ولا ينزل المعلق بدون الشرط؛ إذ لا ولاية لأحدهما في إلزام صاحبه بدون رضاه، والطلاق بائن؛ لأنها ما التزمت المال إلا لتسلم لها نفسها وذلك بالبينونة. اهـ.»

محمد جمال

دار الافتاء  جامعۃ الرشیدکراچی

15/ رجب المرجب /1447ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمد جمال بن جان ولی خان

مفتیان

فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب