| 89752 | جائز و ناجائزامور کا بیان | جائز و ناجائز کے متفرق مسائل |
سوال
مدارس اور اسکولوں میں بچوں کو حفظ کرانے کی غرض سے کاپیوں پر قرآنی آیات اور احادیث لکھوائی جاتی ہیں، لیکن بعض اوقات بچے ایسی کاپیوں کو زمین پر پھینک دیتے ہیں اور ان کے ادب و احترام کا خیال نہیں رکھتے۔ ایسی صورت میں کیا بچوں کو قرآنی آیات اور احادیث لکھوانا شرعاً جائز ہے؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
قرآنی آیات اور احادیث کو کسی بھی تعلیمی غرض سے کاپی پر لکھوانا جائز ہے۔ تاہم بے ادبی سے بچانے کے لیے ضروری ہے کہ بچوں کو اللہ کے کلام کی عظمت اور اس کاادب بھی سکھایا جائے، تاکہ ان کے دلوں میں قرآن و حدیث کا ادب کرنےکی عادت پیدا ہو۔
حوالہ جات
الدر المختار شرح تنوير الأبصار وجامع البحار (ص29):
(ولا) يكره (مس صبي لمصحف ولوح)ولا بأس بدفعه إليه وطلبه منه للضرورة، إذ الحفظ في الصغر كالنقش في الحجر.
حاشية ابن عابدين = رد المحتار ط الحلبي (1/ 174):
(قوله: للضرورة) لأن في تكليف الصبيان وأمرهم بالوضوء حرجا بهم، وفي تأخيره إلى البلوغ تقليل حفظ القرآن.
یاسر علی گل بہادر
دارالافتاء جامعۃ الرشید ،کراچی
21 /رجب/1447ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | یاسر علی بن گل بہادر | مفتیان | فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب |


