| 89708 | قسم منت اور نذر کے احکام | متفرّق مسائل |
سوال
السلام علیکم، میرے دو سوال ہیں جو اس تفصیل کے آخر میں درج ہیں۔ اس تفصیل کی اصل بات Part 2 کی سرخی کے بعد شروع ہوتی ہے۔ اوپر دی گئی تمام تفصیل پس منظر اور حوالہ کے لیے ہے۔ --- میں تقریباً پچھلے 13 سال سے شدید ذہنی مسائل کا شکار ہوں۔ ان مسائل کی ابتدا شک اور خوف سے ہوئی۔ مجھے مذہبی معاملات کے بارے میں بہت زیادہ ڈر محسوس ہونے لگا تھا۔ • مجھے ایسا محسوس ہوتا تھا کہ میں اللہ، رسول اللہ ﷺ اور دین کی بے ادبی کر رہا ہوں۔ مثال کے طور پر اگر مجھ سے کوئی گناہ ہو جاتا تو مجھے لگتا کہ یہ رسول اللہ ﷺ کی بے ادبی ہے۔ • پاکی اور ناپاکی کے مسائل میں بھی مجھے بہت زیادہ خوف رہتا تھا۔ مجھے لگتا تھا کہ اگر کوئی چیز ناپاک ہو گئی تو اس کا اثر دوسری چیز پر بھی منتقل ہو جائے گا اور اس طرح کسی مقدس چیز کی بے ادبی ہو جائے گی۔ • مذہب سے متعلق طرح طرح کے سوالات ذہن میں آتے رہتے تھے، اور زیادہ تر وقت پاکی، ناپاکی، ادب اور بے ادبی کے خیالات ہی ذہن میں گھومتے رہتے تھے۔ • میں اتنے زیادہ سوالات کرنے لگا تھا کہ میری حالت ایسی ہو گئی کہ تین لوگوں نے مجھے پاگل کہہ دیا۔ ایک مسجد کے امام نے کہا کہ میں آدھا پاگل ہو گیا ہوں اور اگر یہی حالت رہی تو پورا پاگل ہو جاؤں گا۔ ایک مفتی صاحب نے کہا کہ اس طرح میں مزید بیمار ہو جاؤں گا۔ ان سب حالات کے باوجود میں نے اپنی ڈگری مکمل کر لی، لیکن پڑھائی صحیح طرح نہیں ہو سکی۔ گھر کے حالات اچھے نہیں تھے، اس لیے میں نے کال سینٹر اور سیلز کی نوکریاں کیں۔ اس وقت میں ایک جگہ نائٹ جاب کرتا ہوں، جس کا وقت شام 7 بجے سے صبح 4 بجے تک ہے۔ میری حالت ابھی بھی بہتر نہیں ہے۔ انہی مسائل کی وجہ سے میں نے ایک وقت میں نماز چھوڑ دی تھی، پھر تقریباً ڈیڑھ سال پہلے دوبارہ نماز شروع کی، اور اب دوبارہ چھوڑ دی ہے۔ میں اپنی موجودہ حالت اس لیے بیان کر رہا ہوں تاکہ میرے سوالات کا بہتر اور درست جواب دیا جا سکے۔ • پاکی اور ناپاکی کا مسئلہ اب کافی حد تک کم ہو چکا ہے، الحمدللہ۔ لیکن نماز کے دوران مجھے شدید شک لاحق ہو جاتے ہیں۔ کبھی لگتا ہے کہ کسی سورت کی کوئی آیت رہ گئی ہے، کبھی لگتا ہے کہ دو سجدوں کے درمیان صحیح طرح نہیں بیٹھا۔ سورۂ فاتحہ کے بارے میں اکثر شک ہوتا ہے کہ صحیح پڑھی یا نہیں، یا کوئی لفظ رہ تو نہیں گیا۔ قعدہ اور التحیات کے بارے میں بھی شک ہوتا ہے۔ بعض اوقات یہ بھی یاد نہیں رہتا کہ پچھلی آیت پڑھی تھی یا نہیں۔ اگر سر کے اوپر پنکھا چل رہا ہو تو توجہ اور بھی کم ہو جاتی ہے۔ • جماعت کے ساتھ نماز پڑھتے وقت میرا سانس بہت پھولنے لگتا ہے اور بار بار گہری سانس لینے کی ضرورت محسوس ہوتی ہے۔ مجھے اس کی واضح وجہ معلوم نہیں، لیکن یہ میری ذہنی حالت سے جڑی ہوئی ہے۔ پہلے یہ مسئلہ زیادہ تھا، اب کچھ کم ہو گیا ہے۔ اسی خوف کی وجہ سے میں اکثر جماعت سے نماز نہیں پڑھ پاتا۔ • نمازوں کے درمیان، خاص طور پر ظہر سے عشاء کے وقت کے دوران، کہیں بھی جانے سے گھبراہٹ ہوتی ہے کہ راستے میں یا باہر کسی مسجد میں نماز صحیح طرح ادا نہ ہو سکے گی۔ • جب میں کسی اچھے باوقار شخص کو، کسی بڑی عمر کے فرد کو، یا خاص طور پر لڑکیوں یا خواتین کو دیکھتا ہوں تو میرا سانس پھولنے لگتا ہے۔ بار بار سانس لینے کی حاجت ہوتی ہے، پسینہ آنے لگتا ہے اور جسم کانپنے لگتا ہے۔ اسی طرح اگر میں مجمع میں ہوں، اسٹیج پر آ جاؤں یا کسی تقریب میں سامنے آ جاؤں تو بھی یہی کیفیت ہو جاتی ہے۔ یہ سب گھبراہٹ اور ذہنی دباؤ کی وجہ سے ہے۔ • میں بچپن سے ہی بہت زیادہ ڈرپوک رہا ہوں۔ لوگوں اور چیزوں سے بہت ڈرتا تھا، اور اسی وجہ سے کچھ لوگ آج بھی مجھے اسی طرح یاد کرتے ہیں۔ ایک شخص نے مجھ سے کہا تھا کہ میرا دل کمزور ہے۔ مجھے خود بھی محسوس ہوتا ہے کہ میرا دل اور دماغ مضبوط نہیں ہیں۔ اس دوران میں پورنوگرافی اور مشت زنی کی شدید لت کا بھی شکار رہا ہوں۔ یہ سب بیان کرنے کا مقصد صرف یہ ہے کہ میری حالت کو صحیح طور پر سمجھا جا سکے۔ • میرے مذہبی سوالات، خیالات اور خوف کی وجہ سے میں اپنے بہت سے کام نہیں کر پاتا، حالانکہ اکثر مجھے معلوم ہوتا ہے کہ وہ کام جائز ہیں۔ اس کے باوجود ان کاموں کو کرنے کے لیے مجھے قسم کھانی پڑتی ہے۔ پھر مجھے لگتا ہے کہ ایک قسم کافی نہیں ہوگی اور میں اسے توڑ دوں گا، اس لیے میں مختلف انداز سے قسمیں کھاتا ہوں، مثلاً: “اگر میں نے یہ قسم توڑی تو میں چار کفاروں کی رقم ادا کروں گا”، یا “اگر میں نے یہ قسم توڑی تو میں پچیس کفاروں کی رقم ادا کروں گا”، وغیرہ۔ کچھ قسمیں میں نے اس طرح بھی کھائیں کہ “جتنی بار یہ قسم ٹوٹے گی، اتنی بار میں دوبارہ یہی قسم کھاؤں گا”، یا “میں روزانہ اس معاملے میں دو قسمیں کھاؤں گا”۔ ان قسموں کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ میں خود کو یقین دلا سکوں کہ اب یہ قسم توڑنا ممکن نہیں رہا، کیونکہ کفارہ بہت زیادہ ہو جائے گا۔ اور چونکہ میں نے یہ بھی کہا ہوتا ہے کہ ہر بار ٹوٹنے پر دوبارہ قسم کھاؤں گا، اس لیے یہ سلسلہ خود بخود چلتا رہتا ہے۔ اس طرح میں نے اپنے لیے ایسی قسموں کو توڑنا تقریباً ناممکن بنا لیا ہے۔ مثال کے طور پر، مجھے ایک روم کولر خریدنا ہے۔ اب ذہن میں یہ خیال آتا ہے کہ چونکہ اور بھی اخراجات ہیں اور شادی بھی کرنی ہے، تو کیا روم کولر خریدنا جائز ہے یا نہیں۔ میں اس سوچ میں اتنا الجھ جاتا ہوں کہ آخرکار مجھے روم کولر خریدنے کی قسم کھانی پڑتی ہے، حالانکہ اندر سے مجھے معلوم ہوتا ہے کہ یہ جائز ہے۔ اس طرح کی بہت سی مثالیں ہیں جہاں آخر میں مجھے قسم کھانی ہی پڑتی ہے، حالانکہ میں جانتا ہوں کہ وہ کام جائز ہے۔ یہ واضح رہے کہ سوالات اتنے زیادہ ہو جاتے ہیں کہ ہر بات کسی عالم سے پوچھنا ممکن نہیں رہتا، اور ماضی میں ایک دو علماء مجھے پاگل بھی کہہ چکے ہیں۔ اسی طرح میں اب تک بہت سی قسمیں توڑ چکا ہوں، جن کا کفارہ ابھی ادا کرنا باقی ہے۔ --- Part 2 اپنے حالات کو بہتر بنانے کے لیے میں پبلک اسپیکنگ اور انگلش لینگویج سیکھنا چاہتا تھا اور کوئی کورس بھی کرنا چاہتا تھا۔ لیکن مجھے ڈر تھا کہ اپنی ذہنی حالت اور مذہبی سختی کی وجہ سے میں یہ سب نہیں کر پاؤں گا، اس لیے میں نے قسم کھا لی، جو کچھ اس طرح تھی: ''میں اللہ کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ میں سال کے آخر تک کسی انسٹیٹیوٹ سے باقاعدہ پبلک اسپیکنگ اور انگلش لینگویج سیکھوں گا اور کورس بھی مکمل کروں گا۔ اگر سال کے آخر تک یہ نہ ہو سکا، چاہے تاخیر ہی کیوں نہ ہو، تو بھی میں give up نہیں کروں گا''پھر مجھے ڈر ہوا کہ میں یہ قسم توڑ دوں گا، اس لیے میں نے ایک اور قسم اس طرح کھائی:''اللہ پاک میں قسم کھا کر کہتا ہوں کہ جتنی بار یہ قسم ٹوٹے گی، میں اتنی بار دوبارہ قسم کھاؤں گا، اور میں روزانہ اس حوالے سے دو قسمیں کھاؤں گا۔ اگر کوئی سخت مجبوری ہو تو الگ بات ہے، اگر وقفہ آ جائے، تاخیر ہو جائے یا بھول جاؤں تو وہ الگ بات ہے، لیکن میں ضد یا غیر ضروری سختی کا شکار نہیں ہوں گا اور give up نہیں کروں گا''جب میں نے یہ کہا کہ میں سختی کا شکار نہیں ہوں گا، تو اس سے میری نیت یہ تھی کہ اگر وہاں مرد اور عورت کا مخلوط ماحول بھی ہو تو مجبوری کے تحت میں وہاں سے پبلک اسپیکنگ اور انگلش لینگویج سیکھ لوں گا۔ اب جب بھی مجھے یاد آتا ہے اور موقع ملتا ہے تو مجھے دو قسمیں اس طرح کھانی پڑتی ہیں: (الف) ''یا اللہ! میں قسم کھا کر کہتا ہوں کہ میں نے پبلک اسپیکنگ، انگلش لینگویج اور اسکلز کے حوالے سے جو قسم کھائی ہے، اس سے give up نہیں کروں گا۔'' (ب) ''یا اللہ! میں قسم کھا کر کہتا ہوں کہ میں نے پبلک اسپیکنگ، انگلش لینگویج اور اسکلز کے حوالے سے جو قسم کھائی ہے، ان چیزوں سے give up نہیں کروں گا''۔اب مسئلہ یہ ہے کہ میں نہ تو پبلک اسپیکنگ سیکھ پا رہا ہوں اور نہ ہی انگلش لینگویج، ایک تو اپنی جاب کی ٹائمنگ کی وجہ سے، اور دوسرا شرعی خدشات کی وجہ سے۔ شرعی خدشات یہ ہیں کہ ایسی جگہوں پر مخلوط ماحول ہوتا ہے، اور چونکہ میں پورنوگرافی اور مشت زنی کا شکار رہا ہوں، اس لیے وہاں جاتے ہوئے مجھے مذہبی طور پر شدید گھبراہٹ ہوتی ہے۔ ان قسموں کی وجہ سے میں شدید ذہنی دباؤ اور اذیت کا شکار ہو چکا ہوں۔ چونکہ میں نے یہ بھی قسم کھائی تھی کہ روز دو قسمیں کھاؤں گا اور ہر بار ٹوٹنے پر دوبارہ قسم کھاؤں گا، اس لیے میں اب تک پبلک اسپیکنگ، انگلش لینگویج اور کورس کے حوالے سے نہ جانے کتنی بار قسمیں کھا چکا ہوں۔ میں ان قسموں سے آزاد ہونا چاہتا ہوں، لیکن ایک تو قسموں کے الفاظ کی وجہ سے اور دوسرا روز دو قسمیں کھانے کی شرط کی وجہ سے میں خود کو آزاد نہیں کر پا رہا۔ اب مجھے یہ بھی یاد نہیں کہ میں نے کل ملا کر کتنی قسمیں کھائی ہیں۔ پہلے ہی میں کئی قسمیں توڑ چکا ہوں جن کا بڑا کفارہ ادا کرنا باقی ہے۔ اب اگر میں یہ قسمیں بھی توڑتا ہوں تو روزانہ دو قسمیں کھانے کی وجہ سے مجھے یہ بھی اندازہ نہیں کہ کتنا کفارہ لازم ہو جائے گا۔ ان قسموں کا ایک حصہ یہ بھی ہے کہ جتنی بار میں قسم توڑوں گا، اتنی بار دوبارہ قسم کھاؤں گا۔سوالات: 1 :براہِ کرم مجھے مشورہ دیجیے اور شرعی حکم بھی بتائیے کہ میں کس طرح ان قسموں سے آزاد ہو سکتا ہوں اور ذہنی سکون حاصل کر سکتا ہوں۔ اگر میں یہ قسمیں توڑ دوں تو مجھے کتنا کفارہ ادا کرنا ہوگا؟ اس مسئلے کا اور کیا حل ہو سکتا ہے؟ 2 :یہ واضح رہے کہ جو دو قسمیں میں روزانہ کھاتا رہا ہوں، ان کی تعداد مجھے یاد نہیں، لیکن جہاں تک مجھے یاد ہے ہر بار ان کے الفاظ ایک ہی ہوتے تھے۔ کیا ایسی صورت میں یہ صرف دو ہی قسمیں شمار ہوں گی، یا ہر دن کی دو الگ الگ قسمیں شمار کی جائیں گی؟ ان قسموں کے الفاظ دوبارہ درج ہیں: ''یا اللہ! میں قسم کھا کر کہتا ہوں کہ میں نے پبلک اسپیکنگ، انگلش لینگویج اور اسکلز کے حوالے سے جو قسم کھائی ہے، اس سے give up نہیں کروں گا''۔''یا اللہ! میں قسم کھا کر کہتا ہوں کہ میں نے پبلک اسپیکنگ، انگلش لینگویج اور اسکلز کے حوالے سے جو قسم کھائی ہے، ان چیزوں سے give up نہیں کروں گا۔''
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
آپ کی بیان کردہ تفصیلات سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ شدید ذہنی اضطراب اورنفسیاتی بیماری میں مبتلا ہیں ،آپ کو چاہیے کہ کسی اچھے ڈاکٹر سےمشورہ و معاینہ کرواکر اپنا علاج شروع کردیں اور ان قسموں کو لےکر زیادہ پریشان نہ ہوں۔ یہ مسئلہ اتنا پیچیدہ نہ تھا ،لیکن آپ نے قسم درقسم کھا کر اپنے آپ کو نفسیاتی الجھنوں میں گرفتار کرلیا ہے۔اب آپ کوشرعی حل بتایا جاتا ہے ، اس پر عمل کریں اور آئندہ مزید احتیاطی قسمیں کھانے سے گریز کریں۔
صورت مسؤلہ میں آپ زندگی بھر میں کبھی بھی کسی انسٹیٹیوٹ میں داخلہ لے کر متعلقہ کورس مکمل کرلیں تو آپ کی قسم پوری ہوجائےگی۔اس کے لیے آپ کسی آن لائن انسٹیٹیوٹ میں بھی داخلہ لےکرکورس مکمل کرسکتے ہیں۔ پھراگرآپ کو انگلش نہ بھی آئے تو آپ کی قسم پوری سمجھی جائےگی ۔
آپ نے اس قسم پر قائم رہنے کے لیے جتنی مزید قسمیں کھائی ہیں ان سب کے لیے ایک کفارہ قسم دینا کافی ہو گا۔
قسم کا کفارہ یہ ہے کہ دس مسکینوں کو کھانا کھلادیں یا دس مسکینوں کو پہننے کےقابل کپڑے دیدیں اوراگراس کی استطاعت نہ ہوتو ایک ساتھ تین روزہ رکھ لیں ۔
حوالہ جات
الموسوعة الفقهية(35/45): ذهب الفقهاء إلى أن من حلف على أمور شتى بيمين واحدة،فكفارته كفارة يمين واحدة كمالوقال :والله لن أكل ولن أشرب ولن ألبس فحنث بالجميع فكفارته واحدة،لأن اليمين واحدة والحنث واحد ،فإنه يفعل واحد من المحلوف عليه يحنث وتنحل اليمين .
البحر الرائق (4/490) :
وفي التجريد عن أبي حنيفة رحمه الله: إذا حلف بأيمان فعليه لكل يمين كفارة والمجلس والمجالس سواء.
الدر المختار مع ردالمحتار(3/ 714):
و في البحر عن الخلاصة والتجريد: وتتعدد الكفارة لتعدد اليمين، والمجلس والمجالس سواء.ولو قال: عنيت بالثاني الأول، ففي حلفه بالله لايقبل، وبحجة أو عمرة يقبل.
(قوله: وتتعدد الكفارة لتعدد اليمين) وفي البغية: كفارات الأيمان إذا كثرت تداخلت، ويخرج بالكفارة الواحدة عن عهدة الجميع. وقال شهاب الأئمة: هذا قول محمد. قال صاحب الأصل: هو المختار عندي. اهـ. مقدسي، ومثله في القهستاني عن المنية (قوله: وبحجة أو عمرة يقبل) لعل وجهه أن قوله: إن فعلت كذا فعلي حجة، ثم حلف ثانياً كذلك يحتمل أن يكون الثاني إخباراً عن الأول، بخلاف قوله: والله لاأفعله مرتين؛ فإن الثاني لايحتمل الإخبار؛ فلاتصح به نية الأول، ثم رأيته كذلك في الذخيرة. وفي ط عن الهندية عن المبسوط: وإن كان إحدى اليمينين بحجة والأخرى بالله تعالى فعليه كفارة وحجة .
کفایت المفتی میں ہے(2/ 245 ):
ایک امر پر چند قسموں سے ایک ہی کفارہ کافی ہوجاتا ہے۔
الفتاویٰ التاتارخانیہ (6/300) :
كفارة اليمين ما ذكره الله تعالى في قوله ((لا يؤاخذكم الله باللغو في أيمانكم ولكن يؤاخذكم بما عقدتم الإيمان فكفارته إطعام عشرة مساكين من أوسط ما تطعمون أهليكم أو كسوتهم أو تحرير رقبة)) بعد هذا ينظر إن كان الحالف موسراً فكفارته أحد الأشياء الثلاثة ولا يجزيه الصوم وإن كان معسراً فكفارته الصوم.
محمدوجیہ الدین
دارالافتاءجامعہ الرشیدکراچی
13/رجب المرجب/1447
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد وجیہ الدین بن نثار احمد | مفتیان | فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب |


