| 89868 | متفرق مسائل | متفرق مسائل |
سوال
۔میرا نام علی ہے اور میری عمر 20 سال ہے۔ میں FSC کر رہا ہوں ۔ ان شاءاللہ 6 ماہ بعد درس نظامی شروع کرنا ہے ۔ اس لیے میں مدرسہ کی لڑکی سے شادی کرنا چاہتا ہوں کیونکہ میں نے بھی درس نظامی کرنا ہے اور میں چاہتا ہوں کہ میری بیوی بھی عالمہ ہو۔ اگر مکمل عالمہ نہ ہو یعنی ابھی زیر تعلیم ہو تو شادی کے بعد بھی اسے درس نظامی مکمل کرواؤں گا۔ وہ باپردہ ہوتی ہیں اور عالمہ ہوتی ہیں اور اخلاق میں بھی بہت اچھی ہوتی ہیں۔ میری بہت خواہش ہے کہ میں مدرسہ کی لڑکی سے شادی کروں۔ میں جو جو خوبیاں چاہتا ھوں وہ تمام خوبیاں مدارس کی طالبات میں ہی ہوتی ہیں۔ میں شادی کے بعد خود بھی پڑھنا چاہتا ہوں اور اپنی بیوی کو بھی پڑھانا چاہتا ہوں۔ ہم یہ نہیں جانتے کہ کس مدرسہ کی لڑکی کا رشتہ لیں اور مدرسہ کی لڑکی کا رشتہ کیسے لیں کیونکہ ہمارے آس پاس بنات کے مدارس نہیں ہیں۔ ہمیں کیا کرنا چاہیے؟ رہنمائی فرمائیں۔ شکریہ
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
اپنے علاقہ کے امام اور علماءسے رابطہ کریں اور انہیں اپنا ارادہ بتائیں تاکہ وہ آپ کے لیے مناسب رشتہ تجویز کر سکیں ۔دعا بھی جاری رکھیں امید ہے جلد ہی مناسب رشتہ مل سکے گا۔تاہم لڑکی نے کیونکہ خاندان میں رہنا ہے ،لہذا خاندان کے طرز زندگی کو سامنے رکھ کر ایسی لڑکی کا انتخاب کریں جو عالمہ بھی ہو اور آپ کے خاندان سے ہم آہنگ ہونے میں اسے دقت نہ ہو ۔اس لیے اپنے والدین سے بھی مشورہ کرکے نکاح کریں۔
حوالہ جات
صحيح البخاري (7/ 7)
عن أبي هريرة رضي الله عنه، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: " تنكح المرأة لأربع: لمالها ولحسبها وجمالها ولدينها، فاظفر بذات الدين، تربت يداك
عبداللہ المسعود
دارالافتاء جامعۃ الرشید ،کراچی
۲۱/رجب /۱۴۴۷ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | عبدالله المسعود بن رفيق الاسلام | مفتیان | فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب |


