| 89777 | علم کا بیان | علم اور علماء کی تعظیم کا بیان |
سوال
میری عمر ۲۱ سال ہے اور میں قانون (LLB) کا طالب علم ہوں۔ گزشتہ کافی عرصے سے میں اپنے والد صاحب کو اس بات پر قائل کرنے کی کوشش کر رہا ہوں کہ میں پڑھائی کے ساتھ ساتھ پیسے بھی کمانا چاہتا ہوں، تاکہ میں کسی طرح خودکفیل ہو جاؤں اور مالی طور پر اتنا مضبوط ہو سکوں کہ اپنی شادی کر سکوں، چاہے یہ دورانِ تعلیم ہو یا اس کے فوراً بعد۔مگر میرے والد صاحب اصرار کرتے ہیں کہ میں پڑھائی کے دوران کوئی بھی کام یا نوکری نہ کروں کیونکہ ان کے نزدیک اس سے میری پڑھائی پر خلل آئے گا۔ لیکن مجھے یہ بات سمجھ نہیں آتی، اور مجھے محسوس ہوتا ہے کہ میں اتنا اہل ہوں کہ پڑھائی کے دوران بھی محنت کر کے کام کر سکتا ہوں۔اس سلسلے میں وہ کہتے ہیں کہ وہ راضی نہیں ہیں اور مجھے اجازت نہیں دیتے۔
سوال یہ ہے: شریعت اس معاملے میں مجھے کیا حکم دیتی ہے؟ کیا میں والد کی رضا کے بغیر بھی حلال کمائی کر سکتا ہوں تاکہ اپنے آپ کو شادی کے لیے مالی طور پر مضبوط کر سکوں؟ براہِ کرم فتوے کے ساتھ مشورہ بھی عنایت فرمائیں۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
واضح رہے کہ والدین کی اطاعت ایک عظیم اخلاقی و شرعی ذمہ داری ہے، تاہم اس کی نوعیت حالات کے اعتبار سے مختلف ہوتی ہے:
1 ۔ اگر والدین کسی ایسی بات کا حکم دیں جو شریعت کے دائرے میں جائز اور مباح ہو اور نہ اس میں کسی دوسرے کی حق تلفی ہو اور نہ ہی وہ انسان کی طاقت سے باہر ہو، تو ایسی صورت میں ان کی بات ماننا مستحب ہے۔
2 ۔ اگر والدین کے حکم کی نافرمانی سے انہیں واضح رنج، تکلیف یا حرج لاحق ہونے کا اندیشہ ہو، اور یہ معاملہ انسان کی قدرت و وسعت کے اندر ہو، تو اس صورت میں ان کی اطاعت واجب ہے۔
3۔ اور اگر والدین کے حکم پر عمل کرنے سے کسی دوسرے کا متعین حق ضائع ہوتا ہو یا کوئی شرعی ذمہ داری پامال ہوتی ہو، تو ایسی صورت میں اس حکم کی تعمیل ناجائز ہے۔
صورتِ مسئولہ میں چونکہ تعلیم کے ساتھ ملازمت یا کام ترک کرنے سے فوری کوئی حرج یا حقیقی ضرورت متاثر نہیں ہوتی اور تعلیم کے اخراجات والدین ہی برداشت کر رہے ہیں، اس لیے والدین کی ہدایت پر عمل کرنا بہتر ہے۔ طالبِ علمی کا زمانہ صبر، یکسوئی اور قناعت کا متقاضی ہے، اس لیے اپنی توجہ تعلیم پر مرکوز رکھنا اور والدین کے ادب، اطاعت اور خوشنودی کو مقدم رکھنا سب سے بہتر راہ ہے، اسی میں خیر و برکت ہے۔ باقی اپنی رائے پیش کرنے میں حرج نہیں۔ اگر ادب کے ساتھ دلائل دیں اور والد صاحب مان جائیں تو یہ بھی درست ہوگا۔
حوالہ جات
سنن الترمذي (4/ 310):
عن عبد الله بن عمرو، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: رضى الرب في رضى الوالد، وسخط الرب في سخط الوالد.
تفسير القرطبي = الجامع لأحكام القرآن (10/ 238):
الرابعة- عقوق الوالدين مخالفتهما في أغراضهما الجائزة لهما، كما أن برهما موافقتهما على أغراضهما.
امداد الفتاویٰ 484/4
جو امر شرعا نہ واجب اور نہ ممنوع ہو بلکہ مباح ہو بلکہ خواہ مستحب ہی ہو، اور ماں باپ اس کے کرنے یا نہ کرنے کو کہیں، تو اس میں تفصیل ہے، دیکھنا چاہیے کہ اس امر کی اس شخص کو ایسی ضرورت ہے کہ بدون اس کے تکلیف ہوگی، مثلا غریب آدمی ہے، پاس پیسہ نہیں، بستی میں کوئی صورت کمائی کی نہیں، مگر ماں باپ نہیں جانے دیتے، یا یہ کہ اس شخص کو ایسی ضرورت نہیں، اگر اس درجہ کی ضرورت ہے تب تو اس میں ماں باپ کی اطاعت ضروری نہیں، اور اگر اس درجہ کی ضرورت نہیں تو پھر دیکھنا چاہیے کہ اس کام کے کرنے میں کوئی خطرہ و اندیشہ ہلاک یا مرض کا ہے یا نہیں، اور یہ بھی دیکھنا چاہیے کہ اس شخص کے اس کام میں مشغول ہو جانے سے ان کو بوجہ کوئی خادم اور سامان نہ ہونے کے خود ان کے تکلیف اٹھانے کا احتمال قوی ہے یا نہیں، پس اگر اس کام میں خطرہ ہے،یا اس کے غائب ہو جانے سے ان کو بوجہ بےسروسامانی تکلیف ہوگی تب ان کی مخالفت جائز نہیں، مثلا غیر واجب لڑائی میں جاتا ہے،یا سمندر کا سفر کرتا ہے، یا پھر کوئی ان کا کوئی خبر گیر نہ رہے گا، اور اس کے پاس اتنا مال نہیں جس سے انتظام خادم و نفقہ کافیہ کا کر جاوے، اور وہ کام یا سفر بھی ضروری نہیں تو اس حالت میں ان کی اطاعت واجب ہوگی، اور ان دونوں باتوں میں سے کوئی بات نہیں یعنی نہ اس کام یا سفر میں اس کو کوئی خطرہ ہے، اور نہ ان کی مشقت اور تکلیف ظاہری کا کوئی احتمال ہے تو بلا ضرورت بھی وہ کام یا سفر باوجود ان کی ممانعت کے جائز ہے، گو مستحب یہی ہے کہ اس وقت بھی اطاعت کرے۔
مجیب الرحمان بن محمد لائق
دارالافتاء جامعۃ الرشید کراچی
21 /رجب المرجب /1447ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | مجیب الرحمٰن بن محمد لائق | مفتیان | فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب |


