| 89823 | نماز کا بیان | امامت اور جماعت کے احکام |
سوال
میرا مسئلہ یہ ہے کہ والد صاحب تقریباً ہر فرض نماز میں روزانہ اپنی کمر چٹخاتے ہیں۔ اس حوالے سے میرے تین سوال ہیں:
1- کیا میں والد صاحب کو دوبارہ کہہ سکتا ہوں کہ آپ ایسا کام نہ کیا کریں، کم از کم فرض نماز میں تو نہ کریں؟
میں نے ابھی تک صرف ایک مرتبہ انہیں کہا تھا کہ فرض نماز میں ایسا نہ کریں، مگر انہوں نے یہ کہا کہ یہ غلطی سے ہو جاتا ہے، جبکہ میں جانتا ہوں کہ وہ جان بوجھ کر کرتے ہیں۔(میں سجدے میں بائیں جانب دیکھتا ہوں تو والد صاحب کو سجدے میں دیکھتا ہوں کہ وہ اپنے بازو اوپر کرتے ہیں اور دباتے ہیں تاکہ کمر کے اوپری حصے میں دباؤ آئے اور پھر کمر چٹخاتے ہیں(
براہِ مہربانی مجھے وہ الفاظ بتا دیں جن کے ذریعے میں والد صاحب کو یہ بات ادب کے ساتھ سمجھا سکوں کہ وہ فرض نماز میں ایسا نہ کریں۔ اور یہ بھی بتا دیں کہ آپ اس صورت میں خود کیا طرزِ عمل اختیار کرتے۔
2- آپ حضرات نے فرمایا تھا کہ مجھے امامت کروانی چاہیے۔ میں نے زیادہ امامت نہیں کروائی، اور ہمیشہ والد صاحب ہی امامت کرواتے ہیں۔ تو کیا میرے لیے امامت کروانا مناسب ہوگا؟
اگر آپ حضرات سمجھتے ہیں کہ اس میں بہتری ہے تو کیا میں والد صاحب سے یہ بات کہہ سکتا ہوں؟ نیز وہ الفاظ بھی بتا دیں جن کے ذریعے میں والد صاحب سے یہ بات کر سکوں۔
3- مجھے بعض اوقات غصہ بھی آتا ہے جب والد صاحب فرض نماز میں ایسا کرتے ہیں، کیونکہ میں سوچتا ہوں کہ فرض نماز میں ایسا کرنے کی کیا ضرورت ہے؟ وہ فرض کے علاوہ بھی تو یہ کر سکتے ہیں۔
اسی وجہ سے میں بعض اوقات نماز شروع ہونے سے پہلے اپنے فون میں کوئی بیک گراؤنڈ آواز (جیسے سمندر کی آواز، وائٹ نوائز وغیرہ) یا نعت وغیرہ کھول کر رکھ لیتا ہوں اور ایئر فون بھی لگا لیتا ہوں۔ مگر پوری نماز میں اس میں کچھ بھی نہیں سن رہا ہوتا اور نہ ہی کچھ چل رہا ہوتا، سوائے سجدے کے۔میں سجدے میں جاتے وقت ایئر فون کو سائیڈ سے ٹچ کرتا ہوں تو نعت چل جاتی ہے، جس سے کمر چٹخنے کی آواز مجھے نہیں آتی اور مجھے یوں لگتا ہے کہ انہوں نے کچھ بھی نہیں کیا۔ اس کا فائدہ یہ ہوتا ہے کہ مجھے بالکل بھی غصہ نہیں آتا اور میرا رویہ بھی خراب نہیں ہوتا۔
کیا میرے لیے ایسا کرنا جائز ہے؟اگر ایسا کرنا ناجائز ہے تو جن نمازوں میں میں نے ایسا کیا ہو، کیا وہ لوٹانی ہوں گی؟نیز یہ بھی بتا دیں کہ اگر پوری نماز کے دوران سمندر کی آواز جیسی کوئی بیک گراؤنڈ آواز چلتی رہے تو کیا اس سے نماز کا فرض ادا ہو جائے گا یا نماز لوٹانی ہوگی؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
جب والد صاحب بار بار کہہ رہے ہیں کہ میں کمر نہیں چٹخاتا بلکہ یہ خود بخود ہوجاتا ہے تو آپ مزید کے مکلف نہیں ہے۔ آپ والد ہی کو امامت کرنے دیں۔
دوران نماز کوئی ایسا کام کرنا جس کی وجہ سے نماز سے توجہ ہٹ جائے، غیر مناسب عمل ہے لہذاائیر بڈز لگانے سے گریز کریں اور اب تک ایسا کرنے پر توبہ و استغفار بھی کریں اور آئندہ اجتناب کریں۔ جتنی نمازوں میں ایسا کیا ہے ان کا اعادہ واجب نہیں ہے۔
حوالہ جات
زبیر احمد ولد شیرجان
دارالافتاء جامعة الرشید کراچی
22/رجب 1447ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | زبیر احمد ولد شیرجان | مفتیان | فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب |


