| 89878 | اجارہ یعنی کرایہ داری اور ملازمت کے احکام و مسائل | کرایہ داری کے جدید مسائل |
سوال
ایک شخص نے ایک جگہ کسی دوسرے شخص سے پگڑی پر لی ہے اور پگڑی کی مد میں مقرر کی گئی رقم مالک کے حوالے کردی ہے،اب یہ شخص پگڑی پر لی ہوئی اس جگہ کو اصل مالک کی رضامندی سے کسی اور کو کرایہ پر دینا چاہتا ہے،جس کا کرایہ وہ خود رکھے گا اور گیس،بجلی وغیرہ کےبل کرایہ دار ادا کرےگا،جبکہ عام نارمل maintenance کی ذمہ داری بھی کرایہ پر دینے والے کے ذمے ہوگی،البتہ اگر کوئی بڑا کام نکلے تو اس کی ذمہ داری اصل مالک کی ہوگی،کیا مذکورہ طریقے سے معاملہ کرنا جائزہے؟
واضح رہے کہ سوال اس شخص کی جانب سے ہےجس نے اس جگہ کو پگڑی پر لیا ہے اور آگے کسی اور کو کرایہ پر دینے کا ارادہ رکھتا ہے۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
اجارے کا معاملہ کرتے وقت ابتداءً عام طورپر تین طرح کی مدات میں رقم لینے کا رواج ہے:
1۔کرایہ کی مدت کے دوران اثاثہ جات کو پہنچنے والے نقصان کے ازالے کے لئے ایڈوانس کے نام پر پیشگی لی جانے والی رقم،اس کے لینے میں کوئی حرج نہیں،تاہم اس کی مقدار متوقع نقصان سے اتنی زیادہ نہیں ہونی چاہیے جو کرایہ دار کے استیصال کا سبب بنے۔
2۔ کرایہ کی مد میں پیشگی لی جانے والی رقم،باہمی رضامندی سےشرعا اس کے لینےمیں کوئی حرج نہیں۔
3۔وہ رقم جو کرایہ دار سے اس بات کے عوض لی جاتی ہے کہ اس کے بدلے کرایہ دار کو قرار(کرایہ داری کے عقد کو باقی رکھنے) کا حق حاصل ہوگا،یعنی کرایہ دار کو اس بات کا حق حاصل ہوگا کہ اس معاملے کو جب تک چاہے باقی رکھے،دکان یا مکان کا مالک اسے نہیں نکال سکتا اور اگر مالک دکان یا مکان واپس لینا چاہے تو اسے کرایہ دار کو باہمی رضامندی سے طے شدہ رقم دینی پڑتی ہے اور بعض اوقات کرایہ دار اپنا یہ حق عوض لے کر دوسرے شخص کو بھی منتقل کردیتا ہے،اسے عرف میں پگڑی کہاجاتا ہے۔
پگڑی کی رقم لینے کی کوئی جائز فقہی وجہ نہیں بنتی،کیونکہ شرعی لحاظ سے عقد اجارہ کے نتیجے میں دکان یا مکان کے مالک کے ذمے طے شدہ مدت تک اجارہ کے معاملے کو برقرار رکھنا لازم ہوجاتا ہے،صرف ایسےا عذار کی صورت میں اسے فسخ کا حق حاصل ہوتا ہے کہ جن کے ہوتے ہوئے عقد اجارہ کو باقی رکھنے میں اسے نقصان اور ضرر لاحق ہو اور ایسے حق کا عوض لینا جائز نہیں جو ضرر دور کرنے کے لئے حاصل ہو۔
البتہ مذکورہ اعذار کی صورت میں مالک کوعقداجارہ کے فسخ کرنے کا حق صرف احناف کے نزدیک حاصل ہے،احناف کے علاوہ دیگر ائمہ یعنی امام شافعی،امام مالک اور امام احمد رحمہم اللہ کے مسلک کے مطابق جب تک اجارہ پر لی گئی چیز میں کوئی ایسی خرابی پیدا نہ ہو جس کی وجہ سے اس سے انتفاع میں خلل آئے،دیگر اعذار کی صورت میں فریقین کو عقداجارہ کے فسخ کا حق حاصل نہیں ہوتا ،لہذا جہاں فریقین کو ایک طویل عرصے کے لئے عقد اجارہ کی ضرورت ہو اور کرایہ دار کو اس بات کا اندیشہ ہو کہ مالک اسے اس مدت کے درمیان بے دخل کرسکتا ہے،جس کی وجہ سے اسے ناقابل تحمل نقصان برداشت کرنا پڑے گا تو ایسی صورت میں فریقین کے لئے متبادل کے طور پر جمہور کے مسلک کے مطابق معاملہ کرنے کی گنجائش ہوگی،جس کے مطابق طے شدہ مدت کے گزرنے سے پہلے فریقین میں سے کسی ایک کو باہمی رضامندی کے بغیر عذر کی صورت میں بھی اجارے کا معاملہ ختم کرنے کا حق حاصل نہیں ہوگا۔
نیز کرایہ پر لی گئی جگہ کسی دوسرے شخص کو زیادہ کرایہ پر دینے کی تب گنجائش ہے جب مستاجر اول (پہلے کرایہ دار)نے اس جگہ میں کوئی اضافی تعمیر،ڈیکوریشن وغیرہ کا کام کروایا ہو،اگر کوئی کام نہ کروایا ہو تو پھر کسی اورکو زیادہ کرایہ پر دینا جائز نہیں۔
لہذا مذکورہ صورت میں آپ پر لازم ہے کہ پہلے مروجہ پگڑی کے معاملے کو ختم کریں ،اس طور پر کہ دکان کے مالک نے پگڑی کی مد میں جو رقم کرایہ دار سے وصول کی ہے،وہ کرایہ دار کو واپس کرے،پھر اگر طویل عرصے تک اجارے کی ضرورت ہو اور طے شدہ مدت سے پہلے مالک کی جانب سے کرایہ دار کو بے دخل کرنے کے نتیجے میں کرایہ دار کو ناقابل تحمل نقصان کا اندیشہ ہو ، تو مذکورہ بالا متبادل کے مطابق دوبارہ معاملہ کرنے کی گنجائش ہے۔
حوالہ جات
"الدر المختار " (4/ 518):
"وفي الأشباه لا يجوز الاعتياض عن الحقوق المجردة كحق الشفعة وعلى هذا لا يجوز الاعتياض عن الوظائف بالأوقاف.....
وفي معين المفتي للمصنف معزيا للولوالجية: عمارة في أرض بيعت فإن بناء أو أشجارا جاز، وإن كرابا أو كرى أنهار أو نحوه مما لم يكن ذلك بمال ولا بمعنى مال لم يجز اهـ. قلت: ومفاده أن بيع المسكة لا يجوز وكذا رهنها ولذا جعلوه الآن فراغا كالوظائف فليحرر".
قال العلامة ابن عابدین رحمہ اللہ :" (قوله: وفي معين المفتي إلخ) أفاد به أن الخلو إذا لم يكن عينا قائمةلا يصح بيعه (قوله جاز) ترك قيدا ذكره في معين المفتي وهو قوله إذا لم يشترط تركها. اهـ.
ومثله في الخانية أي لأنه شرط مفسد للبيع. (قوله :وإن كرابا أو كري أنهار) في المغرب: كرب الأرض كربا قلبها للحرث من باب طلب وكريت النهر كريا حفرته.
(قوله: ولا بمعنى مال) لعل المراد به التراب المسمى كبسا وهو ما تكبس به الأرض أي تطم وتسوى فتأمل: وفي ط وهو كالسكنى في الأرض الموقوفة بطريق الخلو وكالجدك على ما سلف".
"مواهب الجليل في شرح مختصر خليل "(5/ 408):
"وفي كتاب الإجارة من الجلاب: ومن اكترى دارا أو أرضا مدة معلومة فلا بأس أن يبيعها من مكتريها قبل تمام المدة، ولا بأس أن يبيعها من غيره؛ لأنه إذا أعلمه بالإجارة، فإن باعها منه، ولم يعلم المشتري بالإجارة فهو عيب إن شاء المشتري رضي به، وإن شاء رد، ولا سبيل له إلى فسخ الإجارة قبل مضي المدة".
"الكافي في فقه أهل المدينة "(2/ 745):
" ومن اكترى دارا سنة بعينها أو شهرا بعينه فليس له أن يخرج منها ولا لرب الدار أن يخرجه حتى يتم الشهر أو السنة إلا أن يتفاسخا أو يتراضيا بما يحل في ذلك بينهما".
"المجموع شرح المهذب "(15/ 75):
"لا ينفسخ عقد الاجارة ،عينية كانت أو في الذمة بنفسها ولا يفسخ أحد العاقدين بالأعذار التى لا توجب خللا في المعقود عليه، كمن استأجر حماما وتعذر عليه جلب الوقود له، أو استأجر سيارة وتعذر على شراء وقودها، أو مرض فحال مرضه دون السفر عليها، أو استأجر بيتا ولم يجد أثاثا ،يتخذه فراشا فيها، ويقاس على هذه الامثلة كل عذر ،لا يلحق المعقود عليه خلل في عينه بعيب فيه".
"حاشيتا قليوبي وعميرة "(3/ 84):
"فصل: لا تنفسخ الإجارة ولا تفسخ (بعذر) في غير المعقود عليه للمستأجر أو المؤجر.الأول:(كتعذر وقود حمام) على مستأجره (وسفر) عرض لمستأجر دار مثلا (ومرض مستأجر دابة لسفر) عليها. والثاني :كمرض مؤجر دابة عجز به عن الخروج معها، وتأهل من أكرى داره أو حضور أهله المسافرين".
"المبدع في شرح المقنع "(4/ 442):
ولا تنفسخ بموت المكري ولا المكتري ولا بعذر لأحدهما ،مثل أن يكتري للحج فتضيع نفقته، أو دكانا ،فيحترق متاعه".
"شرح منتهى الإرادات " (2/ 265):
(لا) تنفسخ الإجارة بموت (راكب ،اكترى له) مطلقا، أي: سواء كان له من يقوم مقامه في استيفاء المنفعة أو لا. وسواء كان هو المكتري أو غيره اكترى له ؛لأن المعقود عليه منفعة الدابة دون الراكب ؛لأن له أن يركب من يماثله وإنما ذكر الراكب لتتقدر به المنفعة كما لو استأجر دابة ليحمل عليها قطنا معينا فتلف (ولا) تنفسخ بموت (مكر، أو) أي: ولا تنفسخ بموت (مكتر) للزومها كالبيع.
وكما لو زوج عبده الصغير أمة غيره ثم مات السيدان (أو) أي: ولا تنفسخ ب (عذر لأحدهما بأن يكتري) جملا، مثلا ليحج عليه (فتضيع نفقته) فلا يمكنه الحج (أو) يكتري دكانا،مثلا ليبيع متاعه ف (يحترق متاعه) ؛ لأنها عقد، لا يجوز فسخه لغير عذر. فلم يجز لعذر من غير المعقود عليه كالبيع".
"الفقه الإسلامي وأدلته للزحيلي" (5/ 3831):
"والخلاصة: تنفسخ الإجارة بالاتفاق باستيفاء المنفعة المعقود عليها، وبالفسخ في حالتين هما: هلاك العين المؤجرة في إجارة العين، وعدم تسليم العين المؤجرة في المدة.
واختلفوا في فسخ الإجارة بالأعذار، فتنفسخ عند الحنفية بالعذر ولا تنفسخ به عند الجمهور. واختلفوا في فسخ الإجارة بموت أحد العاقدين، فتفسخ به عند الحنفية خلافاً للجمهور. ولا تنفسخ الإجارة بخروج العين المؤجرة من ملك المؤجر بالاتفاق، كإجارة دار ثم هبتها أو بيعها لغيره".
"بدائع الصنائع "(4/ 206):
" وللمستأجر في إجارة الدار وغيرها من العقار أن ينتفع بها كيف شاء بالسكنى، ووضع المتاع، وأن يسكن بنفسه، وبغيره، وأن يسكن غيره بالإجارة، والإعارة، إلا أنه ليس له أن يجعل فيها حدادا، ولا قصارا، ونحو ذلك مما يوهن البناء لما بينا فيما تقدم، ولو أجرها المستأجر بأكثر من الأجرة الأولى فإن كانت الثانية من خلاف جنس الأولى ،طابت له الزيادة، وإن كانت من جنس الأولى ،لا تطيب له، حتى يزيد في الدار زيادة من بناء أو حفر أو تطيين أو تجصيص".
محمد طارق
دارالافتاءجامعۃالرشید
22/رجب1447ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد طارق غرفی | مفتیان | مفتی محمد صاحب / سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب / سعید احمد حسن صاحب |


