| 89837 | اجارہ یعنی کرایہ داری اور ملازمت کے احکام و مسائل | کرایہ داری کے جدید مسائل |
سوال
ایک سوال کا جواب مطلوب ہے۔ ایک advertising کمپنی ہے اس کے پاس app کی ریٹنگ بڑھانے کا کام ہے اور ہمیں ان apps کو download کرنے کی تنخواہ دیتے ہیں، اور وہ تنخواہ روزانہ نکلوا بھی سکتے ہیں ۔ کمپنی ہم سے سکیورٹی کی مد میں کچھ رقم جمع کرتی ہے اور وہ سکیورٹی کی رقم ایک سال بعد واپس ہمارے اکاؤنٹ میں جمع کروا دے گی۔ یہ اگر ہم کسی دوسرے کو کام پر رکھیں تو اسے بھی ہمارے برابر تنخواہ ملے وہ جتنا کام کرے گا کچھ percentage ہمیں بھی کمپنی ادا کرے گی۔ کیا اس کمپنی کے ساتھ کام کرنا جائز ہے۔؟ کیا دوسرے کو کام دلوانہ اور کمپنی کی طرف سے کمیشن لینا جائز ہے؟
وضاحت:سائل Kastner London کے متعلق پوچھنا چاہتا ہے جو لندن کی ایک مشہور اور پرانی ایڈورٹائزنگ ایجنسی ہے (جو 2001 سے قائم ہے)۔ یہ کمپنی بڑی برانڈز (جیسے Red Bull) کے اشتہارات بناتی ہے۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
کمپنیاں ریٹنگ بڑھانے کا کام اس طرح کرتی ہیں کہ اپنے ملازمین سے وہ ایپلی کیشنز انسٹال کرواتی ہیں، جس سے ان کی ریٹنگ (مصنوعی طور پر) بڑھ جاتی ہے اور لوگوں کو دھوکا ہوتا ہے۔ شرعی طور پر اس کام میں کوئی حقیقی فائدہ یا ایسی خدمت موجود نہیں ہے جس پر اجرت لی جا سکے۔اس لیے اس پر ملنے والی اجرت (تنخواہ) بھی ناجائز اور حرام ہے۔ جب یہ عمل بذاتِ خود ناجائز ہے، تو کسی دوسرے شخص کو اس کام کے لیے اجرت پر رکھنا بھی ناجائز ہے، اور اس کی آمدنی سے ملنے والا فیصدی حصہ (کمیشن) لینا بھی ناجائز ہے۔
اس کام کے ذریعے اب تک جو رقم کمائی گئی ہے، تو اس کا بغیر نیتِ ثواب کے صدقہ کرنا لازم ہے۔
البتہ سکیورٹی کی مد میں کمپنی کے پاس جو رقم جمع کروائی گئی ہے، وہ چونکہ آپ کی اپنی اصل رقم ہے،اس لیے اسے واپس لینا جائز ہے۔
حوالہ جات
کنزالدقائق مع حاشية الصديقي النانوتوي(157/3)
قال العلامۃ محمد الصدیقی النانوتوي فی الحاشیۃ: … والإجارة الفاسدة… والباطلة ما لم تكن مشروعة أصلا، وحكمه أنه لا أجر فيه.
شرح المجلة – اللبناني:257
المادة ٤٥٩ لا تلزم الاجرة في الاجارة الباطلة بالاستعمال أي ولو استعمل المستأجر المأجور وانتفع به لأنه لما كانت الإجارة الباطلة غير منعقدة اصلا كان استعمال المستأجر وانتفاعه بالمأجور بدون عقد وسيأتي في المادة ٤٧٢: ان من استعمل مال غيره بدون عقد لا تلزمه الاجرة لكن يلزم اجر المثل ان كان المأجور مال وقف أو يتيم والمجنون في حكم اليتيم.
فقہ البیوع: (1023/2)
قال العلامۃ مفتی محمد تقی العثمانی حفظہ اللہ: ولا يؤمر بالرد الى البنك، لأن البنك يعقد معه إجارة فاسدة واستخدمه بحبس وقته فلا يمكن أن يجتمع عنده العوض والمعوض، وإنما جاءت الحرمه في الأجرة لكونها مقابل عمل محظور شرعا، ولم يكن بطريق الظلم على الدافع فليس فيها حق العبد وإنما تمحض حقا لله سبحانه وتعالى فوجب التصدق به.
الاختيار لتعليل المختار (568/2)
قال العلامة عبداللہ الموصلی رحمہ اللہ: (زوائد الغصب امانة متصلة كانت) كالسمن والجمال والحسن (أو منفصلة) كالولد والعقر والثمرة والصوف واللبن، لأن الغصب لم يرد عليها، لأنه إزالة يد المالك بإثبات يده، ولم يوجد، فلا يضمن، لأن ضمان الغصب ولا غصب محال.
ويضمنها (بالتعدي بأن أتلفه أو أكله أو ذبحه أو باعه وسلمه، أو بالمنع بعد الطلب) لأن الملك ثابت للغير، وقد تعدى فيه، فيضمنه لمامر.
ظہوراحمد
دارالافتا ءجامعۃالرشید کراچی
23 رجب المرجب 1447ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | ظہوراحمد ولد خیرداد خان | مفتیان | فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب |


