| 89778 | طلاق کے احکام | طلاق کے متفرق مسائل |
سوال
طلاق کے الفاظ بولتے وقت بیوی کی طرف حقیقی یا حکمی نسبت ہونا ضروری ہوتی ہے۔ اس نسبت سے کیا مراد ہے؟ کیا بیوی کا نام لے کر یا بیوی کو ذہن میں رکھ کر طلاق کے الفاظ کہنا بھی نسبتِ زوجیت میں داخل ہے؟
دوسرا سوال یہ ہے کہ اگر کوئی شخص کسی کو شرعی مسئلہ سمجھا رہا ہو اور اسی دوران اس کا ذہن اچانک بیوی کی طرف منتقل ہو جائے، پھر وہ دل ہی دل میں بیوی کی طرف نیت کر لے، لیکن زبان سے کوئی طلاق کے الفاظ ادا نہ کرے تو ایسی حالت میں کیا حکم ہوگا؟ کیا محض دل کی نیت سے طلاق واقع ہو جاتی ہے؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
طلاق کے وقوع کے لیے ضروری ہے کہ الفاظِ طلاق کی نسبت بیوی کی طرف ہو، چاہے یہ نسبت حقیقی ہو یا معنوی۔نسبتِ حقیقی یعنی الفاظ میں بیوی کا نام یا لفظ” بیوی / زوجہ“ صراحتاً موجود ہو، جیسے، کوئی کہے: میں نے اپنی بیوی زینب کو طلاق دی، اور نسبتِ معنوی کا مطلب یہ ہے کہ نام تو صراحت سے نہ ہو مگر قرائن و سیاق سے بیوی ہی مراد ہو، جیسے: زینب کو طلاق،”میری بیوی کو طلاق “، یا بیوی کی طرف اشارہ کرکے کہنا: اسے طلاق، یا بیوی کو مخاطب ہو کر کہنا: طلاق ہے ، یہ سب صورتیں حکمی نسبت میں داخل ہیں ۔
دوسرا مسئلہ یہ کہ طلاق کے واقع ہونے کے لیے زبان سے طلاق کے الفاظ ادا کرنا شرط ہے، لہٰذا اگر کوئی شخص صرف دل ہی دل میں طلاق کی نیت کرے اور زبان سے کوئی لفظ نہ بولے تو محض نیت سے طلاق واقع نہیں ہوتی۔
حوالہ جات
رد المحتار ط: الحلبي (3/ 248):
ولا يلزم كون الإضافة صريحة في كلامه؛ لما في البحر لو قال: طالق، فقيل له: من عنيت؟ فقال: امرأتي، طلقت امرأته... لو قال: امرأة طالق أو قال : طلقت امرأة ثلاثا وقال: لم أعن امرأتي يصدق اهـ ويفهم منه أنه لو لم يقل ذلك، تطلق امرأته؛ لأن العادة أن من له امرأة إنما يحلف بطلاقها لا بطلاق غيرها، فقوله: إني حلفت بالطلاق ينصرف إليها ما لم يرد غيرها ؛ لأنه يحتمله كلامه، بخلاف ما لو ذكر اسمها أو اسم أبيها أو أمها أو ولدها، فقال: عمرة طالق أو بنت فلان أو بنت فلانة أو أم فلان، فقد صرحوا بأنها تطلق، وأنه لو قال: لم أعن امرأتي، لا يصدق قضاء إذا كانت امرأته كما وصف.
حاشية ابن عابدين = رد المحتار ط الحلبي (3/ 230):
(قوله وركنه لفظ مخصوص) هو ما جعل دلالة على معنى الطلاق من صريح أو كناية.
البحر الرائق شرح كنز الدقائق (3/ 252):
رفع قيد النكاح حالا أو مآلا بلفظ مخصوص.....المراد به ما اشتمل على مادة الطلاق صريحا وكناية.
حاشية ابن عابدين = رد المحتار ط الحلبي (3/ 248):
(قوله لتركه الإضافة) أي المعنوية فإنها الشرط والخطاب من الإضافة المعنوية، وكذا الإشارة نحو هذه طالق، وكذا نحو امرأتي طالق وزينب طالق. اهـ. أقول: وما ذكره الشارح من التعليل أصله لصاحب البحر أخذا من قول البزازية في الأيمان قال لها: لا تخرجي من الدار إلا بإذني فإني حلفت بالطلاق فخرجت لا يقع لعدم حلفه بطلاقها، ويحتمل الحلف بطلاق غيرها فالقول له. اهـ. ومثله في الخانية، وفي هذا الأخذ نظر، فإن مفهوم كلام البزازية أنه لو أراد الحلف بطلاقها يقع لأنه جعل القول له في صرفه إلى طلاق غيرها، والمفهوم من تعليل الشارح تبعا للبحر عدم الوقوع أصلا لفقد شرط الإضافة، مع أنه لو أراد طلاقها تكون الإضافة موجودة ويكون المعنى فإني حلفت بالطلاق منك أو بطلاقك، ولا يلزم كون الإضافة صريحة في كلامه؛ لما في البحر لو قال: طالق فقيل له من عنيت؟ فقال امرأتي طلقت امرأته.
مجیب الرحمان بن محمد لائق
دارالافتاء جامعۃ الرشید کراچی
22/رجب المرجب/1447ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | مجیب الرحمٰن بن محمد لائق | مفتیان | فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب |


