| 89827 | طلاق کے احکام | مدہوشی اور جبر کی حالت میں طلاق دینے کا حکم |
سوال
میرا بھائی، جس کا نام سفیان ہے، شادی شدہ ہے اور اس کے دو چھوٹے چھوٹے بچے ہیں۔ شادی کو ابھی چار سال ہی گزرے ہیں۔ چند دن قبل اس کے اور اس کی بیوی کے درمیان سخت جھگڑا ہوا، جو یہاں تک بڑھ گیا کہ بات مارپیٹ تک جا پہنچی، حتیٰ کہ مارنے کے لیے کچن سے قینچی بھی اٹھا لی گئی۔ اس وقت وہ انتہائی درجے کے غضب میں تھا، ایسا غضب جس میں عقل مغلوب ہو جاتی ہے اور انسان کو یہ سمجھ نہیں رہتی کہ وہ کیا کہہ رہا ہے اور کیا کر رہا ہے۔اسی شدید غصہ، غضب اور لاعلمی کی حالت میں اس نے تین سے زائد مرتبہ “طلاق، طلاق، طلاق” کہا۔ بعد میں اسے اپنے اس عمل پر شدید ندامت ہے۔میں نے ایک تحریر میں پڑھا تھا کہ انتہائی غصہ کی حالت میں دی ہوئی طلاق واقع نہیں ہوتی۔ ملاحظہ فرمائیے: انتہائی درجہ کا غضب جس میں عقل مغلوب ہو جائے اور انسان یہ نہ سمجھے کہ کیا کہہ رہا ہے اور کیا کر رہا ہے، یہ بھی وہ کیفیت ہے جس میں طلاق واقع نہیں ہوگی ۔نیز اسلامی قانون متعلق پرسنل لا میں ہے: دفعہ ۹: غصہ کی حالت میں دی ہوئی طلاق واقع ہو جاتی ہے۔ ہاں، اگر غصہ اس درجہ کا ہو کہ ہوش و حواس باقی نہ رہیں اور بوقتِ طلاق اسے اتنا بھی شعور نہ ہو کہ میری زبان سے کیا بات نکل رہی ہے، تو اس حال میں دی ہوئی طلاق واقع نہ ہوگی۔ (مجموعہ قوانینِ اسلامی، شائع کردہ مسلم پرسنل لا بورڈ، صفحہ ۱۳۳)۔”وللحافظ ابنِ قیم الحنبلی رحمہ اللہ رسالۃٌ فی طلاق الغضبان قال فيها : إن الغضب ثلاثة أقسام:أحدها: أن يحصل له مبادئ الغضب، بحيث لا يتغير عقله، ويعلم ما يقول ويقصده، فهذا لا إشكال في وقوع طلاقه.الثاني: أن يبلغ الغضب نهايته، فلا يعلم ما يقول، ولا ما يريده، فهذا لا ريب أنه لا ينفذ شيء من أقواله. الثالث: ما توسط بين المرتبتين، بحيث لم يصر كالمجنون، فهذا محل النظر، والأدلة تدل على عدم نفوذ أقواله(. ملخصاً من شرح النقایة الحنبلیة) البتہ الغایۃ میں تیسرے درجہ کے بارے میں ابن قیم رحمہ اللہ سے اختلاف ذکر کیا گیا ہے، چنانچہ فرمایا:ويقع طلاق الغضبان خلافاً لابن القيم، وهذا هو الموافق عندنا، لما مر في المدهوش (رد المحتار، كتاب الطلاق، جلد ۲، صفحہ ۵۸۷).مزید دیکھیے:اسلامی قانون متعلق پرسنل لا، صفحہ ۱۷۴
https://alsharia.org/2013/feb/aik-majlis-teen-talaqain-mufti-fazeelurrehman-usmani
حضرت! ان تمام تفصیلات کی روشنی میں عرض ہے کہ کیا اس صورتِ حال میں کوئی ایسی گنجائش نکل سکتی ہے کہ دونوں میاں بیوی اپنے چھوٹے بچوں کے ساتھ دوبارہ ہنسی خوشی زندگی گزار سکیں؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
طلاق عام طورپر غصے ہی حالت میں دی جاتی ہے اور غصے کی حالت میں دی جانے والی طلاق واقع ہوجاتی ہے ۔ سوال میں ذکرکردہ صورت سے معلوم ہوتاہے کہ شوہر کو معلوم تھا کہ وہ طلاق کے الفاظ بول رہے تھے اگرچہ شوہر غصے کی حالت میں بھی تھے ، لہذا صورت مسئولہ میں طلاق واقع ہوگئی ہے ، اور شوہر کا بعد میں نادم ہونا اس بات کا قرینہ ہے کہ وہ اپنے طلاق دینے کے عمل کو سمجھ رہاتھا ۔ اگر اس کا دماغ بالکل نہ سمجھتا تو لوگ اس کو بتاتے کہ طلاق کے الفاظ نکلے ہیں ، اسے خود سے ندامت نہیں ہوتی ۔
حوالہ جات
الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (3/ 244)
وسئل نظما فيمن طلق زوجته ثلاثا في مجلس القاضي وهو مغتاظ مدهوش، أجاب نظما أيضا بأن الدهش من أقسام الجنون فلا يقع، وإذا كان يعتاده بأن عرف منه الدهش مرة يصدق بلا برهان. اهـ. قلت: وللحافظ ابن القيم الحنبلي رسالة في طلاق الغضبان قال فيها: إنه على ثلاثة أقسام: أحدها أن يحصل له مبادئ الغضب بحيث لا يتغير عقله ويعلم ما يقول ويقصده، وهذا لا إشكال فيه. والثاني أن يبلغ النهاية فلا يعلم ما يقول ولا يريده، فهذا لا ريب أنه لا ينفذ شيء من أقواله. الثالث من توسط بين المرتبتين بحيث لم يصر كالمجنون فهذا محل النظر، والأدلة على عدم نفوذ أقواله. اهـ. ملخصا من شرح الغاية الحنبلية، لكن أشار في الغاية إلى مخالفته في الثالث حيث قال: ويقع الطلاق من غضب خلافا لابن القيم اهـ وهذا الموافق عندنا لما مر في المدهوش، لكن يرد عليه أنا لم نعتبر أقوال المعتوه مع أنه لا يلزم فيه أن يصل إلى حالة لا يعلم فيها ما يقول ولا يريده وقد يجاب بأن المعتوه لما كان مستمرا على حالة واحدة يمكن ضبطها اعتبرت فيه واكتفي فيه بمجرد نقص العقل، بخلاف الغضب فإنه عارض في بعض الأحوال، لكن يرد عليه الدهش فإنه كذلك.
الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (3/ 244)
والذي يظهر لي أن كلا من المدهوش والغضبان لا يلزم فيه أن يكون بحيث لا يعلم ما يقول بل يكتفى فيه بغلبة الهذيان واختلاط الجد بالهزل كما هو المفتى به في السكران على ما مر...
الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (3/ 244)
فالذي ينبغي التعويل عليه في المدهوش ونحوه إناطة الحكم بغلبة الخلل في أقواله وأفعاله الخارجة عن عادته، وكذا يقال فيمن اختل عقله لكبر أو لمرض أو لمصيبة فاجأته: فما دام في حال غلبة الخلل في الأقوال والأفعال لا تعتبر أقواله وإن كان يعلمها ويريدها لأن هذه المعرفة والإرادة غير معتبرة لعدم حصولها عن الإدراك صحيح كما لا تعتبر من الصبي العاقل..
محمد امداداللہ بن مفتی شہیداللہ
دارالافتاء جامعۃ الرشید کراچی
23/رجب/1447ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | امداد الله بن مفتی شہيد الله | مفتیان | فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب |


