| 89784 | سود اور جوے کے مسائل | مختلف بینکوں اور جدید مالیاتی اداروں کے سود سے متعلق مسائل کا بیان |
سوال
میرا کام زیورات یعنی گولڈ جیولری کا ہے، جس میں صرافہ بازار کے جیولرز اور سنار شامل ہیں۔ ہمیں مختلف بینکوں (جیسے HBL، میزان بینک، الائیڈ بینک وغیرہ) نے مشینیں فراہم کی ہیں تاکہ ہم اپنے گاہکوں سے کریڈٹ کارڈ یا ڈیبٹ کارڈ کے ذریعے رقوم وصول کر سکیں۔جب ہم گاہک سے ایک لاکھ روپے وصول کرتے ہیں تو بینک اپنی شرح کے مطابق 1.5 سے 2 فیصد یا جو بھی ان کا کمیشن ہو، کاٹ لیتا ہے اور باقی رقم ہمیں اگلے ورکنگ ڈے میں دیتا ہے۔
مثال: گاہک نے ہم سے ایک لاکھ روپے کی انگوٹھی خریدی۔ ہم نے کارڈ سوائپ کیا، گاہک کا معاملہ پورا ہو گیا اور ہم نے انہیں انگوٹھی حوالےکر دی،بینک چارجز کاٹ کر اگلے دن ہمیں باقی رقم دے گا۔
گاہکوں کی ضرورت اور سوائپ کا عمل:
گاہک، جن کو کریڈٹ کارڈ پر بعض اوقات 20 لاکھ تک کی لمٹ ملی ہوتی ہے، وہ اپنی ضروریات پوری کرنے اور نقد رقم نہ ہونے کی وجہ سے یہ سروس استعمال کرتے ہیں۔وہ ہمیں کہتے ہیں کہ "آپ ایک لاکھ روپیہ سوائپ کر لیں اور جو بینک کے چارجز ہیں یا جو آپ سروس دے رہے ہیں، وہ بھی لے لیں"۔دراصل، ATM سے رقم نکالنے پر انہیں زیادہ چارجز لگتے ہیں۔ اس لیے وہ کہتے ہیں کہ ہم آپ کو بینک کے چارجز اور آپ کی سروس فیس دونوں ملا کر دے دیتے ہیں۔ہم مجموعی طور پر 3 سے 4 فیصد لے لیتے ہیں، جبکہ ہمیں بینک کو صرف 2 فیصد دینا پڑتا ہے۔ باقی رقم کوہم اپنی سروس فیس شمار کر لیتے ہیں۔
مثال: گاہک نے ہم سے ایک لاکھ سوائپ کروایا۔ ہم نے ان سے 4000 روپے کاٹ کر، 96,000 روپے انہیں دے دیے۔ یہ پیسے ان کے کارڈ سے نکال کر انہیں ہی واپس دیے گئے ہیں۔ ہمیں یہ رقم اگلے دن آنی ہے۔
نکتہ: سوائپ کے اس کام کا بینک کو مکمل علم ہے۔ بینک کے ایجنٹوں اور نمائندوں کو معلوم ہے کہ یہ کام ہو رہا ہے، لیکن وہ کہتے ہیں کہ انہیں کمیشن مل رہا ہے، اس لیے انہیں کوئی مسئلہ نہیں ہے۔ یہ حکومتی طور پر شاید مناسب نہ ہو، مگر یہ ایک الگ بحث ہے۔
شرعی رہنمائی اور سوالات (حیلہ)
رقم کی مکمل سوائپنگ اور سروس چارجز کا متبادل:
پہلا حیلہ :میں نے ایک لاکھ روپیہ پورا سوائپ کر دیا اور گاہک کو پورا ایک لاکھ روپیہ دے دیا۔جو ہمارے 4000 روپے کے چارجز ہیں، اس کے بدلے میں میں انہیں اپنا ممبرشپ کارڈ یا کوئی بھی فزیکل چیز جیسے بال پوائنٹ دے دوں جو 4000 روپے کی قیمت پر شمار ہو۔یہ حیلہ مجھےدرج ذیل فتوی سے ذہن میں آیا ؛
سوال:
نئے نوٹوں کا کاروبار کیا سود کے زمرے میں آتا ہے؟ کہ خریدار کچھ اضافی رقم دیتا ہے تو کیا یہ اضافی رقم سود ہے۔
الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً
ایک ہی ملک کی کرنسی کا آپس میں تبادلہ کر کے نفع کمانا شرعاً ناجائز اور حرام ہے، چنانچہ نئے نوٹوں کے کاروبار میں اضافی رقم لینا بھی سود ہونے کی وجہ سے حرام ہے، البتہ نئے نوٹ دینے والا ان نوٹوں کے ساتھ کوئی جنس جیسے چھالیہ، چند ٹافیاں بھی دیدے تو پرانے نوٹ دینے والے کو اضافی رقم دینا اس چیز کا بدل ہونے کی وجہ سے جائز ہوگا۔واللہ اعلم باالصواب ،مفتی محمد دین عُفی عنہ،دار الافتاء جامعہ بنوریہ عالمیہ
اشکال: جب لینے والا اور دینے والا دونوں راضی ہیں تو کیا تیسرے بندے کو اعتراض ہو سکتا ہے؟ کیا یہ کم از کم سود تو نہیں ہو گا؟
بل کی ادائیگی اور چارجز کی کٹوتی:
دوسری صورت یہ ہے کہ گاہک اپنے کارڈ کی پوری لمٹ (مثلاً ایک لاکھ روپے) استعمال کر چکے ہوتے ہیں اور آج ان کی آخری تاریخ (Due Date) ہے۔وہ ہم سے کہتے ہیں کہ آپ ہمارے کارڈ میں پورا ایک لاکھ روپیہ ڈال کر بل ادا کر دیں اور انہیں سود سے بچا دیں۔بل ادا ہونے کے بعد، ہم ان کے کارڈ سے پیسے سوائپ کرتے ہیں۔
پہلی صورت: وہ اپنے پیسے بھی نکالیں اور ہمیں سروس چارجز بھی دیں۔
دوسری صورت: ہم صرف اپنے سروس چارجز ہی کاٹ کر لے لیں، اور باقی پیسے انہیں مل جائیں گے۔
سوال: یہ دو صورتیں ہیں: ایک ان کے کریڈٹ کارڈ کے پیسے اور ایک ہماری طرف سے سروس جو ہم نے انہیں سود سے بچانے کے لیے فراہم کی ہے۔ کیا یہ معاملہ گناہ یا سود کے زمرے میں آتا ہے؟ سود اور گناہ دو مختلف چیزیں ہیں۔
دوسرا حیلہ:اگر ہم کسٹمر کو 3 ہزار کا ممبرشپ کارڈجس میں مختلف ہماری سروس جیسا کہ گولڈ ریٹس واٹس ایپ پر،ہفتہ وار مارکیٹ اینالیسس،مفت گولڈ ویلیوچیک،آئٹمز کی مفت صفائی وغیرہ دیں۔
تیسرا حیلہ:اگر کارڈ سے کسٹمر ہمارے سے کوئ چیز خرید لے جیسے کہ 1 انگوٹھی ایک لاکھ کی خرید لی ہم نے 1 لاکھ کارڈ سوائپ کر لیا transection complete ہو گئ پھر مجلس تبدیل کرلے اسکے بعد وہ انگوٹھی بے شک باہر مارکیٹ میں بیچے یا پھر مجھے فروخت کرے۔
گزارش: میں یہ کاروبار کرتا ہوں اور اللہ پاک سے ہدایت کا طالب ہوں۔ مجھے اس معاملے میں واضح رہنمائی چاہیے کہ یہ معاملہ جائز ہے یا نہیں، کیونکہ میں رقم (Interest) میں پھنسنا نہیں چاہتا۔
نوٹ: بنک کو یہ دونوں صورتیں معلوم ہے، جو مارکیٹ میں چل رہی ہے اور بنک(نمائندے) اس سے ہم کو نہیں روکتے،اگر یہ ناجائز ہے تو مجھے اس کی اچھی یا بہتر صورت یا حیلہ بتائیں، جیسا کہ اسلامک بنک بھی حیلہ اختیار کرتے ہیں،بتائیں جس سے یہ کام میں اس انداز میں کر سکوں کہ میری کمائ حلال ہو، کم از کم سود نا ہو، دوسرا میرا یہ کام اچھا ہے کاروبار سے اتنی زیادہ آمدن نہیں ہے میرا یہی کمائی کا ذریعہ ہے۔میری آپ سے گزارش ہے کہ مجھے اس کا جائز حل /حیلہ ضرور تلاش کرکے دیجیے،میں آپ کا بہت شکر گزار رہوں گا،اللہ آپ سے راضی ہو۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
بینک کی طرف سے دی جانے والی مشین،جس کے ذریعے دوکاندار گاہک کو یہ سہولت فراہم کرتا ہے کہ وہ نقد رقم کی صورت میں ادائیگی کے بجائے کارڈ کے ذریعے سے ادائیگی کرلے، point-of-sale (POS)مشین کہلاتی ہے۔
یہ مشین بینک سے فقط اس مقصد کے لیے دی جاتی ہے کہ دوکاندار کے ایسے کسٹمرز جنہوں نے باقاعدہ کوئی چیز خریدی ہواور وہ نقد رقم ادا نہ کرسکتے ہوں یا نہ کرنا چاہتے ہوں تو وہ کارڈ کے ذریعہ بسہولت ادائیگی کرسکیں تاکہ دوکاندار کا کاروبار فقط اس وجہ سے متاثر نہ ہو کہ اس کے گاہک کے پاس ادائیگی کے لیے نقد رقم نہیں ۔
اس مشین کے عوض بینک دوکاندار سے ہر ٹرانزیکشن پر ایک کمیشن فیس چارج کرتا ہے،جو دوکانداروں کے ساتھ مختلف ترجیحات کےاعتبارسےفیصدی حساب سے طے کی جاتی ہے۔
یہ وضاحت معلوم ہوجانے کے بعد آپ کے سوالات کے جوابات درج ذیل ہیں؛
- دوکاندار کی طرف سے کوئی جائزچیز بیچنے یا کوئی جائز خدمت فراہم کرنے کے بعد اس کا متعین عوض،کارڈ سویپ کرکے وصول کرنا جائز ہے،لہٰذا آپ کے لیے بھی جیولری وغیرہ بیچ کر اس کاعوض کارڈ کے ذریعے وصول کرنا جائز ہے۔
- بیچی گئی جیولری کے متعین عوض کے بقدر کارڈ کے ذریعے رقم وصول کرناجائز ہے،اس سے زیادہ لینا جائز نہیں ہے،البتہ بینک، کمیشن فیس کی صورت میں جو کٹوتی آپ سے کرتاہے،صرف اس کے بقدر آپ اضافی رقم گاہک سے وصول کرسکتے ہیں،اس سے زیادہ نہیں۔
- ایسی صورت جس میں گاہک نے باقاعدہ آپ سے کوئی چیز خریدی اور عوض کارڈ کے ذریعے ادا کیا ،ایسی صورت میں متعین عوض اور بینک کی فیس کے بقدر رقم تو آپ لے سکتے ہیں لیکن اس سے زیادہ نہیں،البتہ جو اضافی رقم آپ کارڈ سویپ کرنے کی مد میں گاہک سے اس وجہ سے لینا چاہتےہیں کہ آپ نے گاہک کو کارڈ سے ادائیگی کی سہولت فراہم کی ہے یا آپ اس کاذریعہ بنے ہیں،تو اس اضافی رقم کو الگ سے لینے کے بجائے،جائز متبادل کے طور پرجیولری کی قیمت میں شامل کرکے لے سکتے ہیں،مثلاً ایک لاکھ روپے کی جیولری میں دو ہزار روپے مزید شامل کرکے آپ ایک لاکھ دوہزار روپے میں جیولری بیچیں،اب یہ مکمل رقم جیولری کا عوض سمجھی جائے گی، الگ سے سروس فیس وغیرہ کے نام پر نہیں ہوگی،اور اسے لینا جائزہوگا۔
- جس صورت میں گاہک آپ سے کوئی چیز باقاعدہ خریدتانہیں ہے بلکہ کریڈٹ کارڈ کے ماہانہ بل کی ادائیگی آپ سے پیسے لے کر کرتا ہےتو یہ آپ کی طرف سے قرض ہے،اور قرض پر کسی قسم کا مشروط اضافہ لینا جائز نہیں ہے،یہ اضافہ سود کے حکم میں ہوگا اور سود لینے اور دینے والے دونوں پر روایات میں لعنت وارد ہوئی ہے (البتہ بینک کی کمیشن فیس کے بقدر،اضافی رقم لے سکتے ہیں)۔
- جس صورت میں گاہک آپ سے کوئی چیز باقاعدہ نہیں خریدتا بلکہ اسے نقد رقم کی ضرورت ہے اور آپ اس کا کارڈ مشین میں سویپ کرکے اسے نقد رقم دے دیتے ہیں،اولاً تو ایسا کرنا جائز نہیں ہے کیوں کہ یہ دھوکہ دہی کے زمرے میں آتا ہے،اس لیے کہ کریڈٹ کارڈ ہولڈر کو(ہماری معلومات اور تحقیق کے مطابق) اس کی کریڈٹ لمٹ میں سے ایک مخصوص حد تک نقد رقم نکلوانے کی اجازت تو ہوتی ہے لیکن یہ اجازت اے ٹی ایم مشین کے ذریعے نکلوانے کی ہوتی ہے، کسی مرچنٹ کے پاس جاکر جعلی خریداری کا اظہار کرکے نقد رقم حاصل کرنے کی نہیں ہوتی،لہٰذا اس سے اجتناب کرنا ضروری ہے،اورگاہک/کریڈٹ کارڈ ہولڈراے ٹی ایم کے بجائے مرچنٹ سے اس لیے اس رقم کا انتظام کرتا ہے کیوں کہ اسے مرچنٹ کی بنسبت اے ٹی ایم سے رقم نکلوانےکی صورت میں زیادہ سود دینا پڑتا ہے،البتہ اگر پھر بھی آپ نے ایسا کرلیا تب بھی چونکہ یہ رقم آپ کی طرف سے قرض ہے،لہٰذا قرض سے زائد رقم(سوائے بینک کمیشن فیس کے) لینا جائز نہیں ہے،یہ مشروط اضافہ بحکم سود ہے۔
اب سوال میں مذکور مختلف شبہات وغیرہ کے جوابات ملاحظہ ہوں؛
شبہ(1): جب لینے والا اور دینے والا دونوں راضی ہیں تو کیا تیسرے بندے کو اعتراض ہو سکتا ہے؟
وضاحت:سود لینے والے اور سود دینے والی کی باہمی رضامندی سے سود کا لین دین جائز نہیں ہوجاتا ،بلکہ اللہ کے نزدیک پھر بھی دونوں سود خور کے حکم میں ہی رہتے ہیں،اس لیے تیسرے بندے کو بایں معنیٰ اعتراض کہ وہ اسے برا سمجھتا ہے،گناہ سمجھتا ہے اور آپ کو اس سے بچنے کی ترغیب دیتا ہے تو یہ ایک مستحسن اور پسندیدہ عمل ہے،آپ کو اس کی قدر کرنی چاہیے اور اپنے آپ کو سودی لین دین سے بچانے کی حتی الامکان کوشش کرنی چاہیے۔
شبہ(2) پہلاحیلہ:
میں نے ایک لاکھ روپیہ پورا سوائپ کر دیا اور گاہک کو پورا ایک لاکھ روپیہ دے دیا۔جو ہمارے 4000 روپے کے چارجز ہیں،وہ لے لوں،اس کے بدلے میں میں انہیں اپنا ممبرشپ کارڈ یا کوئی بھی فزیکل چیز جیسے بال پوائنٹ دے دوں، جو 4000 روپے کی قیمت پر شمار ہو۔
وضاحت:شریعت نے حیلے اختیار کرنے سے متعلق بھی تفصیلی احکامات بیان کیے ہیں،بعض حیلے جائز ہوتے ہیں اور بعض ناجائز،ناجائز حیلوں میں تین اقسام کو بنیادی طور پر ذکر کیا جاتا ہے؛
- نفس حیلہ حرام ہو اور اس سے کسی حرام کا ارادہ کیا جائے۔
- نفس حیلہ مباح ہو لیکن اس سے حرام کا ارادہ کیا جائے۔
- حیلہ،حرام تک رسائی کے لیے مقرر نہ ہولیکن حیلہ کرنے والااسے حرام تک رسائی کا ذریعہ بنالے۔
یہ تینوں قسم کے حیلے ناجائز ہیں۔
مذکورہ حیلے میں آپ اپنی چیز کا عوض پورا وصول کرچکنے کے بعد مزید اضافہ جو وصول کر رہے ہیں ،وہ بلا عوض ہے،نیز کسی چیز کو بیچ کر آپس کی رضامندی سے اس کا کوئی عوض طے کیا جائے تو اسے لینا فی نفسہ جائزتو ہے،لیکن کسی چیز کی ایسی غیر معمولی قیمت متعین کرنا جو حقیقی یا عرفی قیمت سے بہت مختلف ہو اور مقصد بلاعوض کچھ حاصل کرنا ہو،اس طرح کے حیلے مذکورہ حرام حیلوں میں سے نمبر دو یا تین میں شامل ہیں،لہٰذا اس سے اجتناب ضروری ہے۔لہٰذا مذکورہ حیلہ اختیار کرنے کی بجائےباقاعدہ جیولری وغیرہ کی خریداری کی صورت میں تفصیلی جواب کی شق نمبر تین میں مذکور جائز متبادل اختیار کیا جائے۔
شبہ (3) دوسرا حیلہ:اگر ہم کسٹمر کو 3 ہزار کا ممبرشپ کارڈجس میں مختلف ہماری سروس جیسا کہ گولڈ ریٹس واٹس ایپ پر،ہفتہ وار مارکیٹ اینالیسس،مفت گولڈ ویلیوچیک،آئٹمز کی مفت صفائی وغیرہ دیں۔
وضاحت:ایسی تمام خدمات جو عقد اول یعنی جیولری کی فروخت کا حصہ نہ ہوں بلکہ الگ سے دی جاتی ہوں اور اس کا عوض لیاجاتا ہو تو آپ کے لیے یہ جائز ہے کہ آپ ایسی خدمات عقد اول یعنی جیولری کی فروخت کے عقد سے علیحدہ کرکے گاہک کو بتادیں کہ فلاں فلاں خدمات اگر آپ لینا چاہتے ہیں تو اس کے یہ ماہانہ یا سالانہ یا لائف ٹائم چارجز ہیں وغیرہ، پھر اگر خریدار آپ سے یہ خدمات لینا چاہے تو علیحدہ عقد کے ذریعے سے لے سکتا ہے اور آپ اس کا عوض باہمی رضامندی سے لے سکتے ہیں،لیکن عقد اول یعنی جیولری کی فروخت کا لازمی حصہ اسے نہیں بناسکتے،کیوں کہ ایک عقد میں دوسرے عقد کو مشروط طور پر جمع کرنے سے شریعت نے منع کیا ہے۔
شبہ(4)تیسرا حیلہ:اگر کارڈ سے کسٹمر ہمارے سے کوئ چیز خرید لے جیسے کہ 1 انگوٹھی ایک لاکھ کی خرید لی، ہم نے 1 لاکھ کارڈ سوائپ کر لیا،ٹرانزیکشن مکمل ہو گئ، پھر مجلس تبدیل کرلے، اسکے بعد وہ انگوٹھی بے شک باہر مارکیٹ میں بیچے یا پھر مجھے فروخت کرے۔
وضاحت:اس حیلے کا تعلق بظاہر اس صورت سے ہے جس میں گاہک آپ سے باقاعدہ کوئی چیز خریدنا نہیں چاہتا اور اسے نقد رقم کی ضرورت ہے تو وہ اپنا کریڈٹ کارڈ آپ کی POS مشین سے سوائپ کرکے نقد رقم حاصل کرتا ہےاور آپ اس سے اپنا کمیشن یا عوض وصول کرتے ہیں،اس حوالے سےتفصیلی جواب کی شق نمبر 4 اور 5 میں وضاحت کی جاچکی ہے کہ یہ معاملہ دھوکہ دہی اور سود پر مشتمل ہونے کی وجہ سے ناجائز ہے،نیز اس کے لیے جائز متبادل بھی اختیار نہیں کیا جاسکتا، کیوں کہ کریڈٹ کارڈ ہولڈر کو نقد رقم حاصل کرنے کے لیےاس طرح کی مصنوعی ٹرانزکشن کی اجازت بینک کی طرف سے نہیں ہوتی۔
حوالہ جات
الموسوعة الفقهية الكويتية (19/ 360، بترقيم الشاملة آليا)
وهي الحيل الّتي تتّخذ للتّوصّل بها إلى محرّم ، أو إلى إبطال الحقوق ، أو لتمويه الباطل أو إدخال الشّبه فيه . وهي الحيل الّتي تهدم أصلاً شرعيّاً أو تناقض مصلحةً شرعيّةً . والحيل المحرّمة منها ما لا خلاف في تحريمه ومنها ما هومحلّ تردّدوخلاف.
والحيل المحرّمة ثلاثة أنواع وهي :
أ - أن تكون الحيلة محرّمةً ويقصد بها محرّم : ومثاله من طلّق زوجته ثلاثاً وأراد التّخلّص من عار التّحليل ، فإنّه يحال لذلك بالقدح في صحّة النّكاح بفسق الوليّ ، أو الشّهود فلا يصحّ الطّلاق في النّكاح الفاسد .
ب - أن تكون الحيلة مباحةً في نفسها ويقصد بها محرّم . كما يسافر لقطع الطّريق ، أو قتل النّفس المعصومة .
ج - أن تكون الحيلة لم توضع وسيلةً إلى المحرّم بل إلى المشروع ، فيتّخذها المحتال وسيلةً إلى المحرّم . كمن يريد أن يوصي لوارثه ، فيحتال لذلك بأن يقرّ له ، فيتّخذ الإقرار وسيلةً للوصيّة للوارث .
تبيين الحقائق شرح كنز الدقائق وحاشية الشلبي (4/ 171)
الحوالة :وهي في اللغة التحويل والنقل ومنه حوالة الغراس نقله قال - رحمه الله - (هي نقل الدين من ذمة إلى ذمة) هذا في الشرع وفي اللغة هو النقل مطلقا على ما بينا قال - رحمه الله - (وتصح في الدين لا في العين برضا المحتال والمحال عليه) وهذا من شرائطها.
مجلة مجمع الفقه الإسلامي (10/ 1088)
وقد كان هذا التفهم لطبيعة هذه الرسوم واضحًا في إصدار مجمع الفقه الإسلامي الدولي بجدة القرار رقم (1) في دورة مؤتمره الثالث بعمان عاصمة المملكة الأردنية الهاشمية من 8 - 13 صفر عام 1407/ 11- 16أكتوبر 1986 ، الذي انتهى إلى القرار التالي : " بخصوص أجور خدمات القروض في البنك الإسلامي للتنمية قرر مجلس المجمع اعتماد المبادئ التالية :
1 - جواز أخذ أجور عن خدمات القروض .
2 - أن يكون ذلك في حدود النفقات الفعلية .
3 - كل زيادة على الخدمات الفعلية محرمة ؛ لأنها من الربا المحرم شرعًا " . (2)
يعد هذا القرار سابقة في الفقه الإسلامي ، تخرج هذه الرسوم وأمثالها عليه بنفس الحدود والشروط ، كما أن لهذا نظيرًا في تفريعات الفقهاء في المسألة التالية :
(لو قال : اقترض لي مئة ولك عشرة ، لزمته العشرة لأنها جعالة ، كذا قالوه ، ولعله إن كان في الاقتراض كلفة تقابل المال " . (3)
[(2) منظمة المؤتمر الإسلامي ، مجمع الفقه الإسلامي ، قرارات وتوصيات ، 27
(3) عميرة ، شهاب الدين البرسلي ، حاشية على شرح المحلي للمنهاج ، الطبعة الرابعة ، ( بيروت : دار الفكر ) ، ج 2 / ص 258]
الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (5/ 166)
(قوله كل قرض جر نفعا حرام) أي إذا كان مشروطا كما علم مما نقله عن البحر، وعن الخلاصة وفي الذخيرة وإن لم يكن النفع مشروطا في القرض، فعلى قول الكرخي لا بأس به .
(شرح القواعد الفقهية، 1/55، دار القلم)
العبرة في العقود للمقاصد والمعاني لا للألفاظ والمباني۔۔۔ والمراد بالمقاصد والمعاني: ما يشمل المقاصد التي تعينها القرائن اللفظية التي توجد في عقد فتكسبه حكم عقد آخر كما سيأتي قريبا في انعقاد الكفالة بلفظ الحوالة، وانعقاد الحوالة بلفظ الكفالة، إذا اشترط فيها براءة المديون عن المطالبة، أو عدم براءته.
وما يشمل المقاصد العرفية المرادة للناس في اصطلاح تخاطبهم، فإنها معتبرة في تعيين جهة العقود، فقد صرح الفقهاء بأنه يحمل كلام كل إنسان على لغته وعرفه وإن خالفت لغة الشرع وعرفه: (ر: رد المحتار، من الوقف عند الكلام على قولهم: وشرط الواقف كنص الشارع).
مجلة مجمع الفقه الإسلامي (5/ 2266)
الربح عن طريق الغش والتدليس:
ومثل ذلك الربح عن طريق الغش والتدليس التجاري ، بإخفاء عيوب السلعة ، أو إظهارها بصورة خادعة ، تغاير حقيقتها ، تلبيسًا على المشتري وقد يدخل في ذلك الدعاية الإعلانية المبالغ فيها ، التي تضلل المشتري عن واقع السلعة.
وقد برئ النبي صلى الله عليه وسلم ، ممن غش ، وقال: (( من غشنا فليس منا )) [رواه الجماعة إلا البخاري والنسائي ] (4) .
}(4) انظر: المنتقى: 2/2937.{
تبيين الحقائق شرح كنز الدقائق (10/ 500)
قال ( أو يستخدم البائع شهرا أو دارا على أن يسكن أو يقرض المشتري درهما أو يهدي له أو يسلمه إلى كذا أو ثوبا على أن يقطعه البائع ويخيطه قميصا ) لأن هذه الشروط لا يقتضيها العقد وفيه منفعة لأحدهما فيفسد ولأنه إن كان بعض الثمن بمقابلة العمل المشروط فهو إجارة مشروطة في بيع وإن لم يكن بمقابلته شيء فهو إعارة مشروطة فيه { ونهى النبي صلى الله عليه وسلم عن صفقة في صفقة }…
محمد حمزہ سلیمان
دارالافتا ء،جامعۃالرشید ،کراچی
23.رجب1447ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد حمزہ سلیمان بن محمد سلیمان | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


