| 89771 | جائز و ناجائزامور کا بیان | جائز و ناجائز کے متفرق مسائل |
سوال
موجودہ دور میں کاروباری اور دیگر اداروں کو تشہیری اور تعارفی مقاصد کے لیے مختلف مصنوعی طور پر بنائی گئی تصاویر بھی استعمال کرنے کی ضرورت پڑتی ہے جو کہ حسی اشیاء کاغذ ، کپڑے وغیرہ پر بھی پرنٹ کی جاتی ہیں، بعض تصاویر واضح طور پر جاندار کی ہوتی ہیں تاہم بعض کو جائز حد میں لانے کے لیے ان میں کچھ تبدیلی کر دی جاتی ہے ، مثلاً چہرے کا مٹانا، یانا مکمل بنانا غیرہ، چو نکہ ان کے مباح یا ممنوع ہونے کے ساتھ کئی شرعی احکام متعلق ہوتے ہیں،مثلاً ایسے لباس میں نماز پڑھنا، ایسی شکل کو بنانا یار کھنا وغیرہ، اس لیےبطورِ نمونہ کچھ صورتوں کو پیش کر کے ان کے حوالے سے واضح شرعی رہنمائی مطلوب ہے، تاکہ اس کی روشنی میں مباح اور ممنوع صورت میں امتیاز کیا جا سکے اور اس کے مطابق عمل کیا جائے،تصاویر ساتھ منسلک ہیں:
- ایسی تصویر جس میں مکمل جسم کا ہیولا ہو، لیکن مکمل جسم یا چہرے کو سپاٹ کر دیا جائے یاڈھک دیا جائے اور چہرے کے اعضاء دکھائی نہ دے رہے ہوں۔
- ایسی تصاویر جس میں چہرہ ہی نامکمل ہو، مثلا چہرے کا کچھ حصہ کاٹ دیا گیا ہو یا چہرے کی صرف ایک جانب دکھائی گئی ہو یا آنکھیں مٹا دی گئی ہوں وغیرہ، (ایسی شبیہ مردانہ بھی ہو سکتی ہے اور زنانہ بھی)۔
- جاندار کا صرف ہیولی یعنی ایسی تصویر جس میں جاندار کی شبیہ یا اس کا عکس نظر آئے، تاہم چہرے کے بعض نقوش (آنکھوں کے علاوہ) کی جھلک نظر آئے یا قابل ِستر حصوں کا اظہار محسوس ہو ( مثلاً عورت کے بال یا اس کے جسم کے دیگر حصے وغیرہ)
- لباس وغیرہ کی نمائش کے لیے استعمال ہونے والے پتُلے /ڈمی جن میں چہرہ یا چہرے کے نقوش موجود نہ ہوں البتہ جسم کے بعض قابل ستر اعضاء مثلاًران، یا عورت کی کلائی، پنڈلی ، سینہ یا نقلی بال وغیرہ نظر ائیں اور یہ پتلے مردانہ اور زنانہ دونوں طرح کے ہوتے ہیں۔
- جسم کے کسی ایک آدھ عضو کی "مصنوعی" تصویر مثلا سرمے کے لیے صرف آنکھوں کی شیمپو کے لیے لمبے بالوں کی یا ٹانگوں کی پٹی یا موزوں کے لیے صرف گھٹنے یا یا ران یا پنڈلی کی تصویر۔(ایسی شبیہ مردانہ بھی ہو سکتی ہے اور زنانہ بھی)
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
سوالات کے جوابات سے پہلے بطورِتمہید دو باتيں جاننا چاہیے:
پہلی بات: فقہائے کرام رحمہم اللہ نے تصریح کی ہے کہ اگرکسی جاندار کی تصویر کا سر یا چہرے کے اکثراعضاء مٹا دیے جائیں تو اس پر تصویر محرّم کا حکم نہیں لگایا جاتا، بلکہ اس کا حکم غیر جاندار کی تصویر کا سا ہوتا ہے، کیونکہ چہرے اور سر کے بغیر آدمی زندہ نہیں رہ سکتا، اس لیے جاندار کی ہر ایسی تصویر جس کے چہرے کے اکثر اعضاء(مثلا: پیشانی،آنکھیں اور ناک یا ٹھوڑی، منہ اور ناک) مٹا دیے گئے ہوں اس کا استعمال جائز ہے، لیکن اگر اکثر اعضاء موجود ہوں اور بعض اعضاءجيسےپيشانی اور آنکھیں مٹائی گئی ہوں اورباقی اعضاء یعنی ناک، منہ اور ٹھوڑی باقی ہوتو للاکثر حکم الکل کے قاعدہ کے تحت اس کا حکم غیر شرعی تصویر کا ہو گا۔
دوسری بات: اگر جاندار کی تصویر فقہی اعتبار سے تصویرِمحرم کے حکم کے تحت داخل نہ ہو، لیکن اس میں کوئی اور غیر شرعی عنصر موجود ہو تو پھراس کی وجہ سے اس کا بنانا اور استعمال کرنا ممنوع ہو گا، جیسے آدمی کے جسم کے اعضاء مستورہ کا ظاہر ہونا یا عورت کا کوئی ایسا عضو بنانا کہ جس سے فحاشی عریانی کو فروغ ملتا ہو تو ایسی تصاویر بنانا بھی شرعاً جائز نہیں ہے۔
اس تمہید کے بعد آپ کے سوالات کے جوابات بالترتیب درج ذیل ہیں:
- سوال نمبر(1)میں بنائی گئی تینوں شکلیں تصویرِ محرّم کے حکم میں داخل نہیں، کیونکہ ان میں چہرے کے اعضاء مٹے ہوئے ہیں، اس کے علاوہ باقی تمام جسم ہونے سے حکم پر اثر نہیں پڑتا، کیونکہ چہرے کے بغیرجاندار چیز زندہ نہیں رہ سکتی۔ اس لیے ان کی ڈمی یا ماڈل بنانا بھی جائز ہے۔
- سوال نمبر(2) میں بنائی گئی تصویر نمبر4 میں چہرے کے اکثراعضاء جیسےناک، مونچھیں، ڈاڑھی اور پیشانی موجود ہیں، اگرچہ زیادہ واضح نہیں ہیں، اس لیے اس کے بنانے میں بھی پرہیز کرنا چاہیے، البتہ تصویر نمبر5 تصویرِ محرّم میں داخل نہیں، کیونکہ اس میں چہرے کے اعضاء واضح نہیں، نیز اس میں سر بھی موجود نہیں۔ اس لیے اس کے بنانے میں حرج نہیں۔۔
- سوال نمبر3 کے تحت بنائی تصویر نمبر6 میں چہرے کے اعضاء سایہ اور شبیہ کے مشابہ ہیں، نیز یہ عورت کی تصویر معلوم ہوتی ہے، اس لیے ایسی تصویربنانے سے بھی پرہیزکرنا چاہیے۔
- سوال نمبر4 میں بنائی گئی تصویر نمبر7 اگرچہ تصویرِ محرّم میں داخل نہیں، مگر اس میں ستر کے اعضاء ظاہر ہو رہے ہیں، اس لیے اس کی بنانے کی بھی اجازت نہیں۔ تصویر نمبر8اور9میں چہرے کے اعضاء مٹے ہوئے ہونے کی وجہ سےاگرچہ یہ ممنوع تصویر میں داخل نہیں ، لیکن تصویر نمبر8 میں عورت کا گلاظاہرکیا گیا ہےاور تصویر نمبر9 میں عورت کا سینہ ظاہر ہو رہا ہے، جو کہ ڈمی بنانے کی صورت میں اور بھی زیادہ ظاہر ہوگا، اس لیے ان دونوں کی بھی شرعاً اجازت نہیں۔
- سوال نمبر5 میں بنائی گئی تصویر نمبر10اور11 میں آنکھوں کے ابرو ایک خاص ڈیزائن سے بنائے گئے ہیں، جس میں ایک ناجائز اور غیر شرعی کام کی طرف دعوت دینا لازم آتا ہے، کیونکہ شریعت میں ابرو کاٹنے سے صراحتاً منع کیا گیا ہے اور ايسی عورت پر لعنت کی گئی ہے جو بلاضرورت (اگر کسی عورت یا مرد کے ابرو اِدھر اُدھر پھیلے ہوئے ہوں تو ایسی صورت میں ازالہٴ عیب کی وجہ سےزائد بالوں کو کاٹنے کی شرعاً اجازت ہے) اپنے ابرو کاٹتی ہے، اس لیے اس سے بھی احتراز کیا جائے، البتہ اگر ان تصاویر میں ابرؤوں کو کسی خاص ڈیزائن سے بنانے کی بجائے اپنی حالت پر چھوڑا گیا ہو اور اس میں عورت کی آنکھیں بھی معلوم نہ ہوتی ہوں کہ جس سے ایک قسم کی دلکشی اور جاذبیت ظاہر ہو تو ایسی صورت میں اس طرح آنکھیں بنانے کی اجازت ہے۔
[1] فقہائے کرام رحمہم اللہ نے اصول تو یہی بیان فرمایا ہے کہ جس عضو کو کاٹنے سے آدمی زندہ نہ رہ سکے تو اس کے بغیر تصویر محرم شمار نہیں ہوگی، لیکن دھڑ کے بغیر صرف چہرہ اور سر بنانے کا حکم اس اصول سے مستثنی ہے، کیونکہ اس میں حضرت ابن عباس اور حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہما کے بعض آثار موجود ہیں، جن میں وضاحت کی گئی ہے، اصل تصویر سرسمیت چہرے کی ہی ہوتی ہے، اس لیے فقہائے کرام رحمہم اللہ نے دھڑ کے بغیرسرسمیت چہرے کی تصویر کو بھی تصویر محرم میں شامل کیا ہے، آثار صحابہ درج ذیل ہیں:
شرح معاني الآثار (4/ 287) الناشر: عالم الكتب، بيروت:
عن عكرمة , عن أبي هريرة قال: «الصورة الرأس , فكل شيء ليس له رأس , فليس بصورة»
السنن الكبرى للبيهقي (7/ 441) دار الكتب العلمية، بيروت:
عن عكرمة، عن ابن عباس رضي الله عنهما قال: " الصورة الرأس فإذا قطع الرأس فليس بصورة "
حوالہ جات
سنن أبي داود ت الأرنؤوط (6/ 235) الناشر: دار الرسالة العالمية،بيروت:
عن مجاهدٍحَدّثنا أبو هُريرة، قال: قال رسولُ الله - صلَّى الله عليه وسلم -: أتاني جبريلُ عليه السلام، فقال لي: أتيتُكَ البارحَةَ فلم يمنعْني أن أكونَ دخلتُ إلا أنَّه كانَ على الباب تماثيلُ، وكان في البيت قِرَامُ سِتْرٍ فيه تماثيلُ، وكان في البيت كلْبٌ، فَمُرْ برأسِ التِّمثَالِ الذي على بابِ البيت يقْطَعُ فيصيرُ كهيئةِ الشجرة، ومُرْ بالسِّترِ، فليُقْطَع، فيُجعَلُ منه وسادَتَان مَنبوذتانِ تُوطآن، ومُرْ بالكلب فليُخرَج" ففعل رسولُ الله - صلَّى الله عليه وسلم -، وإذا الكلبُ لحَسَنٍ أو حُسين كان تحتَ نَضَدٍ لهم، فأمر به فأخْرِجَ.
مسند أحمد ت شاكر (4/ 99) الناشر: دار الفكر-بيروت:
عن قبيصة بن جابر الأسدي قال: انطلقت مع عجوز إلى ابن مسعود، فذكر قصة، فقال عبد الله: سمعت رسول الله - صلى الله عليه وسلم - يلعن المتنمصات، والمتفلجات، والموشمات، اللاتي يغيرن خلق الله عز وجل.
الدر المختار وحاشية ابن عابدين (1/ 648) الناشر: دار الفكر-بيروت:
(قوله أو مقطوعة الرأس) أي سواء كان من الأصل أو كان لها رأس ومحي، وسواء كان القطع بخيط خيط على جميع الرأس حتى لم يبق له أثر، أو بطليه بمغرة أو بنحته، أو بغسله لأنها لا تعبد بدون الرأس عادة وأما قطع الرأس عن الجسد بخيط مع بقاء الرأس على حاله فلا ينفي الكراهة لأن من الطيور ما هو مطوق فلا يتحقق القطع بذلك، وقيد بالرأس لأنه لا اعتبار بإزالة الحاجبين أو العينين لأنها تعبد بدونها وكذا لا اعتبار بقطع اليدين و الرجلين بحر (قوله أو ممحوة عضو إلخ) تعميم بعد تخصيص، وهل مثل ذلك ما لو كانت مثقوبة البطن مثلا. والظاهر أنه لو كان الثقب كبيرا يظهر به نقصها فنعم وإلا فلا؛ كما لو كان الثقب لوضع عصا تمسك بها كمثل صور الخيال التي يلعب بها لأنها تبقى معه صورة تامة تأمل.
بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع (5/ 127) الناشر: دار الكتب العلمية:
ولو لم يكن لها رأس فلا بأس؛ لأنها لا تكون صورة بل تكون نقشا فإن قطع رأسه بأن خاط على عنقه خيطا فذاك ليس بشيء لأنها لم تخرج عن كونها صورة بل ازدادت حلية كالطوق لذوات الأطواق من الطيور ثم المكروه صورة ذي الروح فأما صورة ما لا روح له من الأشجار والقناديل ونحوها فلا بأس به.
رد المحتار علی الدر المختار: 2/416، مکروھات الصلاة:
وظاھر کلام النووي الإجماع علی تحریم تصویر الحیوان وقال سواءٌ صنعہ لما یُمْتَھنُ أو لغیرہ فصنعتہ حرام بکل حل وسواء کان في ثوب أو بساط أو دراھم أو إناء أو حائط .
الدر المختار وحاشية ابن عابدين (6/ 373) الناشر: دار الفكر-بيروت:
النمص: نتف الشعر ومنه المنماص المنقاش اهـ ولعله محمول على ما إذا فعلته لتتزين للأجانب، وإلا فلو كان في وجهها شعر ينفر زوجها عنها بسببه، ففي تحريم إزالته بعد، لأن الزينة للنساء مطلوبة للتحسين، إلا أن يحمل على ما لا ضرورة إليه لما في نتفه بالمنماص من الإيذاء. وفي تبيين المحارم إزالة الشعر من الوجه حرام إلا إذا نبت للمرأة لحية أو شوارب فلا تحرم إزالته بل تستحب اهـ، وفي التتارخانية عن المضمرات: ولا بأس بأخذ الحاجبين وشعر وجهه ما لم يشبه المخنث اهـ ومثله في المجتبى تأمل.
مرقاة المفاتيح شرح مشكاة المصابيح (7/ 2855) دار الفكر، بيروت:
(وكان في البيت كلب) : أي أيضا (فمر برأس التمثال) : أي (الذي على ستر باب البيت) :
أي بقطع رأسه (فيقطع): بصيغة المجهول مخففا، وفي نسخة بالتشديد وهو مرفوع، وفي نسخة صحيحة بالنصب، والضمير راجع إلى رأس التمثال.
قال الطيبي في جامع الأصول: وأكثر نسخ المصابيح بالرفع على أنه خبر مبتدأ محذوف، وفي بعضها بالنصب على أنه جواب الأمر، فإن أمر الشارع سبب للامتثال والأول ألطف معنى (فيصير) : بالوجهين أي يرجع التمثال المقطع رأسه (كهيئة الشجرة): إن قلت ما الفائدة في ذكر هذا ; قلت: الإعلام بأن القطع ليس المراد به نحر موضع الرأس من القرام، بل فصله منه، لأنه لا يصير كهيئة الشجر إلا إذا فصل منه الرأس، فأما مادام الرأس باقيا أو ممحوا فلا. كذا ذكره ابن الملك، وهو خلاف المعقول والمنقول، أما الأول فلأنه إذا محي الرأس وما به من صورة الوجه المتميز به، فلا شك أنه يصير على هيئة الشجرة وهو أمر مشاهد، وأما الثاني ; فلأنه خلاف المذهب، ففي فتاوى قاضيخان، يكره أن يصلي وبين يديه أو فوقه أو عليه، أو يساره أو ثوبه تصاوير. وفي البساط روايتان، والصحيح أنه لا يكره على البساط إذا لم يسجد على التصاوير. قال: وهذا إذا كانت الصورة تبدو للناظرين من غير تكلف، فإن كانت صغيرة أو ممحوة الرأس لا بأس به، هذا وفي شرح السنة: فيه دليل على أن الصورة إذا غيرت هيئتها بأن قطعت رأسها أو حلت أوصالها حتى لم يبق منها إلا الأثر على شبه الصور فلا بأس به، وعلى أن موضع التصوير إذا نقض حتى تنقطع أوصاله جاز استعماله.
الدر المختار وحاشية ابن عابدين (6/ 372) الناشر: دار الفكر-بيروت:
(قوله النظر إلى ملاءة الأجنبية بشهوة حرام) قدمنا عن الذخيرة وغيرها لو كان على المرأة ثياب لا بأس بأن يتأمل جسدها، ما لم تكن ملتزقة بها تصف ما تحتها لأنه يكون ناظرا إلى ثيابها وقامتها، فهو كنظره إلى خيمة هي فيها ولو كانت تصف يكون ناظرا إلى أعضائها، ويؤخذ مما هنا تقييده بما إذا كان بغير شهوة فلو بها منع مطلقا والعلة والله أعلم خوف الفتنة، فإن نظره بشهوة إلى ملاءتها أو ثيابها وتأمله في طول قوامها ونحوه قد يدعوه إلى الكلام معها إلى غيره، ويحتمل أن تكون العلة كون ذلك استمتاعابما لا يحل بلا ضرورة، ولينظر هل يحرم النظر بشهوة إلى الصورة المنقوشة محل تردد ولم أره فليراجع.
شرح النووي، كتاب اللباس والزينة، باب تحريم صورة الحيوان: 2/199):
قال أصحابنا وغيرهم من العلماء تصوير صورة الحيوان حرام شديد التحريم، وهو من الكبائر؛ لأنه متوعد عليه بهذا الوعيد الشديد المذكور في الأحاديث، وسواء صنعه بما يمتهن أو بغيره، قصنعته حرام بكل حالٍ؛ لأن فيه مضاهاة لخلق الله تعالى، وسواء ما كان في ثوب أو بساط أو درهم، أو دينار أو فلس، أو إناء أو حائط أو غيرها، وأما تصوير صورة الشجر ورحال الإبل وغير ذلك مما فيه ليس فيه صورة حيوان فليس بحرام... ولا فرق في
هذا كله ما له ظل وما لا ظل له، هذا تلخيص مذهبنا في المسألة، وبمعناه قال جماهير العلماء من الصحابة والتابعين ومن بعدهم، وهو مذهب الثوري ومالك وأبي حنيفة وغيرهم، وقال بعض السلف: إنما ينهي عما كان له ظل، ولا بأس بالصور التي ليس لها ظل، وهذا مذهب باطل؛ فإن السر الذي أنكر النبي صلي الله عليه وسلم الصورة فيه لا يشك أحدٌ أنه مذموم وليس لصورته ظل مع ما في الأحاديث المطلقة في كل صورة.
تكملة فتح الملهم(4 (225/ مكتبة دارالعلوم كراتشي:
إن للحجاب الشرعي المأمور به في الكتاب والسنة ثلاث درجات، بعضها فوق بعض فی الاحتجاب والاستتار، وکلها مذکورة فی الکتاب والسنة، ولم يتسخ منها شيئ، و لكنها مأمورة بها في أحوال مختلفة، وهي :
-1حجاب أشخاص النساءبالبيوت والجدر، والخدور والهوادج وأمثالها،بحيث لايري الرجال الأجانب شيئاًمن أشخاصهن ولا لباسهن وزينتهن الظاهرة أوالباطنة ،ولا شيئاً من جسدهن من الوجه والكفين وسائر البدن .
-2الحجاب بالبرقع والجلباب،بحيث لا يبدو شيئ من الوجه والكفين ،وسائر الجسد ولباس الزينة ،فلايري إلا أشخاصهن مستورة من فوق الرأس إلي القدم.
-3الحجاب بالجلابيب وأمثالهامع كشف الوجه والكفين والقدمين.
محمد نعمان خالد
دارالافتاء جامعة الرشیدکراچی
24/رجب المرجب1447ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد نعمان خالد | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


