| 89874 | اجارہ یعنی کرایہ داری اور ملازمت کے احکام و مسائل | کرایہ داری کے جدید مسائل |
سوال
مجھے چند سال پہلے مارچ میں ایک سینئر عہدے پر ترقی دی گئی تھی۔ اس کے بعد اسی سال اگست میں یونیورسٹی نے ہمارے کیسز HECکو بھیجے۔ HECنے مجھے جولائی اور اگست کی تنخواہ کے فرق کے بقایا جات ادا کیے اور یہ وجہ بتائی کہ جنوری سے جون تک کی ادائیگی یونیورسٹی کرے گی۔ تاہم یونیورسٹی کا کہنا ہے کہ یہ ادائیگی HECنے کرنی ہے، اور میری بار بار درخواستوں کے باوجود آج تک یہ بقایا جات ادا نہیں کیے گئے۔ اب مجھے یہ بھی امید نہیں رہی کہ آئندہ کبھی یہ رقم ادا کی جائے گی۔میں نے سمر میں ریپیٹرز کے لیے کچھ کورسز پڑھائے۔ طلبہ نےتمام کلاسز میں حاضری نہیں دی، جبکہ نتائج جمع کروانے کے لیے کم از کم 75٪ حاضری لازمی تھی اس لیے میں نے جعلی حاضری لگائی اور ان تمام کلاسز کا اعزازیہ (اضافی رقم )حاصل کی جن میں وہ کلاسز بھی شامل ہیں جو میں نے درحقیقت نہیں لیں۔
تنقیح : سائل سے رابطہ کرنے سےمعلوم ہوا کہ وہ اس اضافی رقم کے متعلق پو چھناچاہتاہے جو جعلی حاضری اوران کلاسز(جو حقیقت میں نہیں لیں )کے نتیجہ میں حاصل ہوئی۔ کیا اسے بقایا جات کی رقم میں ایڈجسٹ کر سکتا ہے جو ابھی تک یونیورسٹی نے ادا نہیں کیے بغیر یونیورسٹی کو اطلاع دیے۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
آپ کاجعلی حاضری لگاناجائزنہیں تھا۔اس کے طلبہ اورنصاب وغیرہ پربھی اثرات پڑتے ہیں ،لہذایہ گناہ ہےاوراس سے بچناضروری ہے۔تاہم چونکہ آپ کےدعوے کے مطابق آپ کے بقایاجات ان پرلازم ہیں، جن کی واپسی کی امید نہیں،اس بناپرآپ کےلیےاپنےبقایاجات کی حد تک رقم واپس کرناضروری نہیں ۔اس سے زیادہ رقم آگئی ہوتوادارےکوواپس کرناضروری ہوگا۔
حوالہ جات
) بلوغ المرام من أدلة الأحكام:الرقم 784
باب شروطه وما نهي عنه منه۔۔۔۔۔ عن رفاعة بن رافع رضي الله عنه أن النبي صلى الله عليه وسلم سئل: أي الكسب أطيب? قال: «عمل الرجل بيده، وكل بيع مبرور». رواه البزار، وصححه الحاكم. (1)
مشروع لقانون الاسلامی للبیوع والدیون :264
ظفر الدائن بشيء من مملوكات المديون ۔۔۔۔وكذلك يحصل للدائن حق الحبس، إذا كان المديون مماطلاً أو رافضاً للدين، ووقع في يده شيء مملوك للمديون بسبب غير السبب الذي نشأ منه الدين، فله أن يحبسه إلى أن يستوفي دينه منه ،۔۔الخ
حاشية ابن عابدين:4/95
فإذا ظفر بمال مديونه له الأخذ ديانة بل له الأخذ من خلاف الجنس على ما نذكره قريبا (قوله ومنه الحلي) أي بسبب ما فيه من الصياغة التحق بالعرض (قوله ما لم يقل إلخ) ؛ لأنه لا يكون رهنا أو قضاء لدينه إلا بإذن مالكه فكأنه ادعى أخذه بإذنه فلا يقطع. وفي الفتح.
حنبل اکرم
دارالافتاء جامعۃ الرشید ،کراچی
30/رجب المرجب /1447ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | حنبل اکرم بن محمد اکرم | مفتیان | فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب |


