| 89867 | نماز کا بیان | جمعہ و عیدین کے مسائل |
سوال
ہمارے مسجد میں باقاعدگی سے نمازِ جمعہ ادا کی جا رہی ہے، مگر سردیوں کے موسم میں اس علاقے کی آبادی نہ ہونے کے برابر رہ جاتی ہے۔ عام دنوں میں باجماعت نماز کے لیے کبھی کبھار صرف تین چار افراد ہی موجود ہوتے ہیں، جبکہ جمعہ کے دن عموماً پندرہ سے بیس افراد شریک ہو جاتے ہیں۔ایسی صورتِ حال میں شرعی رہنمائی درکار ہے کہ آیا آبادی کی اس کیفیت کے پیشِ نظر نمازِ جمعہ ادا کی جائے یا نمازِ ظہر؟علمائے کرام اور مفتی حضرات سے مؤدبانہ گزارش ہے کہ اس مسئلے پر قرآن و سنت کی روشنی میں ہماری رہنمائی فرمائیں۔
تنقیح: اس دیہات میں ہسپتال، بازار، ڈاک خانہ اور دیگر تمام حوائجِ اصلیہ دستیاب ہیں۔ عام موسم میں یہاں آبادی بھرپور طور پر رہائش پذیر ہوتی ہے، البتہ سردی کے موسم میں بعض لوگ ادھر اُدھر یا شہروں کی طرف منتقل ہو جاتے ہیں۔ تاہم نمازِ جمعہ کے موقع پر عموماً پندرہ سے بیس افراد شریک ہوتے ہیں۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
صورتِ مسئولہ میں اس دیہات کے رہائشیوں پر سردیوں کے موسم میں بھی نمازِ جمعہ قائم کرنا واجب ہے۔ البتہ اگر کبھی ایسی صورتِ حال پیش آجائے کہ امام کے علاوہ نمازِ جمعہ کے لیے کم از کم تین افراد بھی موجود نہ ہوں، تو اس وقت جمعہ ادا کرنا صحیح نہ ہوگا، بلکہ اس کی جگہ نمازِ ظہر ادا کی جائے گی۔
حوالہ جات
بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع:(2/260)
"عن أبي حنيفة رحمه الله: أنه بلدة كبيره فيها سكك وأسواق ولها رساتيق، وفيها وال يقدر على إنصاف المظلوم من الظالم مجشمته وعلمه أو علم غيره، والناس يرجعون إليه فيما يقع من الحوادث، وهذا هو الأصح.
البناية شرح الهداية :3/63
ومن شرائطها الجماعة لأن الجمعة مشتقة منها،وأقلهم عند أبي حنيفة - رحمه الله - ثلاثة سوى الإمام، وقالا اثنان سواه قال - رضي الله عنه - والأصح أن هذا قول أبي يوسف - رحمه الله - وحده له أن في المثنى معنى الاجتماع، وهي منبئة عنه، ولهما أن الجمع الصحيح إنما هو الثلاث؛ لأنه جمع تسمية ومعنى، والجماعة شرط على حدة، وكذا الإمام فلا يعتبر منهم،
المحيط البرهاني في الفقه النعماني (2/ 72)
وقول أبي يوسف رحمه الله: إن للمثنى حكم الجماعة فاسد؛ لأن ما دون الثلاث ليس بجمع مطلق بدليل أن أهل اللغة، فصلوا بين التثنية والجمع، والجمع والشرط هو الجماعة المطلقة، وقوله الثاني أنه إذا كان مع الإمام إثنان كان مع الإمام جماعة فاسد؛ لأن الإمام شرط للجواز سوى الجماعة، فإن كل واحد منهما شرط على حدة، ولا يعتبر الإمام مع القوم في الجماعة بخلاف سائر الصلوات؛ لأن الإمام في سائر الصلوات ليس بشرط.
عبداللہ المسعود
دارالافتاء جامعۃ الرشید ،کراچی
۱/شعبان /۱۴۴۷ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | عبدالله المسعود بن رفيق الاسلام | مفتیان | فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب |


