| 89946 | جائز و ناجائزامور کا بیان | جائز و ناجائز کے متفرق مسائل |
سوال
ہمارے گاؤں میں ایک ویلفیرسوسائیٹی نے مقامی علماء سے مشورہ کیے بغیر ختمِ بخاری کی تقریب رکھی ہے، جس میں صرف تلاوتِ بخاری ہوگی، اور اس پر لاکھوں روپے چندے سے خرچ کیے جا رہے ہیں۔ دوسری طرف، گاؤں میں ایک شخص فریقین کی باہمی دشمنی میں بے گناہ فائرنگ کا شکار ہو کر ریڑھ کی ہڈی سے زخمی ہو چکا ہے، ناف سے نیچے مکمل مفلوج ہو گیا ہے۔ فریقین میں صلح بھی ہو چکی، لیکن اس معذور کی خبرگیری کسی نے نہیں کی۔ شریعت مطہرہ کی روشنی میں بتائیں:
1. ان حالات میں ختمِ بخاری پر خرچ ترجیح رکھتا ہے یا اس معذور کی مدد؟
2. کیا پورا گاؤں اس مظلوم کی خبر نہ لینے پر شرعاً گناہگار اور جواب دہ ہے؟
3. اور کیا اس تقریب پر تنقید کرنے والا عالم دین شرعاً حق پر ہے؟
تنقیح: سائل سے معلوم ہوا کہ ختم بخاری سے مراد پوری بخاری شریف کی تلاوت کرکے ختم کرنا ہے ۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
بخاری شریف میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے فرامین ہیں ان کو پڑھنا اور پڑھانا ثواب کا کام ہے بعض اکابر سے اس کا ختم بھی ثابت ہے لیکن چندہ کی عمومی رقم سے اس کے انتظامات پر خرچ کرنا شرعاً درست نہیں ہے۔ اس کے جواز کی صرف دو صورتیں ہو سکتی ہیں۔پہلا یہ کہ کسی نے خاص اسی مقصد (ختمِ بخاری) کے لیے چندہ دیا ہو، یا پھر ادارے کے قواعد و ضوابط میں اس کی گنجائش ہو ۔اگر ویلفیئر سوسائٹی کے مقاصد میں مدارس کی معاونت یا تعلیم و تعلم کی مدات شامل ہوں، تب بھی عام تعلیمی چندے کو ایسی تقریبات کے اخراجات میں صرف کرنے سے احتیاط لازم ہے، کیونکہ چندہ دہندگان کی عمومی نیت تعلیمی ضروریات اور غریبوں کی فلاح وغیرہ کی ہوتی ہے۔ جس میں ایسی محافل کی نیت نہیں ہوتی۔اگر ختم بخاری سے مراد فضلاء کے دستار بندی کا جلسہ ہے تو وہ بھی عام چندے کا مصرف نہیں اس کے لیے بھی الگ فنڈ جمع کرنا چاہیے اور اس میں اسراف و تبذیر سے دور رہنا چاہیے۔
ویلفیئر انتظامیہ کو چاہیے کہ وہ اپنے وسائل کو دیکھتے ہوئے اہم مصارف پر توجہ دے، خاص طور پر جب علاقے کے عالمِ دین اس جانب توجہ دلا رہے ہوں۔ تاہم عالمِ دین کو بھی مشورےکی حد تک محدود رہنا چاہیے؛ ہر ادارہ اپنے قواعد و ضوابط کے تحت سرگرمیاں کرتا ہے، کسی بیرونی شخص کو اس بات کی اجازت نہیں دی جا سکتی کہ وہ جبراً فیصلے مسلط کرے۔ ہاں، مسلمانوں کے خیرخواہانہ مشوروں کو اہمیت دینی چاہیے۔
مزید یہ کہ اسی طرح بے آسرا معذور شخص کی کفالت علاقے والوں اور ویلفیئر اداروں کی ذمہ داری ہے۔ اولین ذمہ داری تو (واقعہ میں ملوث) فریقین کی ہے۔ مزید یہ کہ جو لوگ اس معذور کے جتنا قریب ہوں گے، وہ بے اعتنائی برتنے پر اسی قدر جواب دہ اور گناہگار ہوں گے۔
حوالہ جات
مدارك التنزيل وحقائق التأويل (تفسير النسفي)(242/2)
(ادْعُ إِلَى سَبِيلِ رَبِّكَ ) إلى الإسلام (بالحكمة) بالمقالة الصحيحة المحكمة، وهو: الدليل الموضح للحق، المزيل للشبهة (وَالْمَوْعِظَةِ الْحَسَنَةِ ) وهي التي لا يخفى عليهم أنك تناصحهم بها، وتقصد ما ينفعهم فيها، أو:بالقرآن أي ادعهم بالكتاب الذي هو حكمة وموعظة حسنة . أو : الحكمة: المعرفة بمراتب الأفعال والموعظة الحسنة : أن يخلط الرغبة بالرهبة والإنذار بالبشارة (وَجدِلْهُم بِالَّتِي هِيَ أَحْسَنُ) بالطريقة التي هي أحسن طرق المجادلة من الرفق واللين من غير فظاظة. أو: بما يوقظ القلوب، ويعظ النفوس، ويجلو العقول. وهو ردّ على مَن يأبى المناظرة في الدين و إِنَّ رَبَّكَ هُوَ أَعْلَمُ بِمَن ضَلَّ عَن سَبِيلِهِ وَهُوَ أَعْلَمُ بِالْمُهْتَدِينَ أي هو أعلم بهم، فمن كان فيه خير كفاه الوعظ القليل، ومَن لا خير فيه عجزت عنه الحيل .
مدارك التنزيل وحقائق التأويل (تفسير النسفي)(253/2)
( وَلَا تُبَذِر تبذيرا) ولا تسرف إسرافاً. قيل : التبذير : تفريق المال في غير الحلّ والمحلّ. فعن مجاهد : لو أنفق مداً في باطل كان تبذيراً. وقد أنفق بعضهم نفقة في خير فأكثر، فقال له صاحبه: لا خير في السرف فقال : لا سرف في الخير . ٢٧ - هو إِنَّ الْمُبَذِّرِينَ كَانُوا إِخْوَانَ الشَّيَطِينِ ﴾ أمثالهم في الشرارة، وهي غاية المذمة؛ لأنه لا شرّ من الشيطان، أو هم إخوانهم، وأصدقاؤهم؛ لأنهم يطيعونهم فيما يأمرونهم به من الإسراف ﴿ وَكَانَ الشَّيْطَانُ لِرَبِّهِ كَفُورًا فما ينبغي أن يُطاع، فإنّه لا يدعو إلا إلى مثل فعله .
اللباب فى شرح الكتاب - الميداني (156/3)
(ومن ضرب عضواً فأذهب منفعته ففيه دية كاملة) أي دية ذلك العضو وإن بقى قائما ، ويصير (كما لو قطعه) وذلك (كاليد إذا شلت والعين إذا ذهب ضوءها) ، لأن المقصود من العضو منفعته ، فذهاب منفعته كذهاب عينه.
المحيط البرهاني(455/5)
أن المتبرع إذا حصل مقصوده من التبرع لا يكون له أن يرجع بما تبرع به (كما لو وهب لذى رحم محرم، أو وهب لأجنبي فعوضه، وإذا لم يحصل مقصوده من التبرع كان له أن يرجع بما تبرع به).
الإمام البخاري فقيه المحدثين ومحدث الفقهاء سيرته صحيحه فقهه(137)
ولا عجب بعد إذ أن تكون له الكرامة والقبول عند الله عز وجل بحيث يستسقى بقراءته الغمام كما قال ابن كثير ( البداية والنهاية : ١١ / ٢٤ ). وقد قال السبكي من قبل : وأما الجامع الصحيح وكونه ملجأ للمعضلات ومجربا لقضاء الحوائج، فأمر مشهور ولو اندفعنا في ذكر تفصيل ذلك وما اتفق فيه لطال الشرح (طبقات الشافعية : ٢ / ١٥). وقال الإمام القدوة أبو محمد بن أبي جمرة ( عبد الله بن سعد بن سعيد بن أبي جمرة ، الأزدي الأندلسي ، أبو محمد : من العلماء بالحديث مالكي ، توفي بمصر سنة ٦٩٥ . من كتبه : (جمع النهاية ) و ( المرائي الحسان ) في الحديث ( الأعلام : ٤ / ٢٢١ ) ) في اختصاره للبخاري : قال لي من لقيته من العارفين عمن لقي من السادة المقر لهم بالفضل أن صحيح البخاري ما قرىء في شدة إلا فرجت ولا ركب به في مركب فغرق ( مقدمة الفتح : ١٣)
تالیفاتِ رشیدیہ ، ص: 152
قرونِ ثلاثہ میں بخاری شریف تالیف نہیں ہوئی تھی مگر اس کا ختم درست ہے کہ ذکرِخیر کے بعد دعاقبول ہوتی ہے ، اس کا اصل شرع سے ثابت ہے ، بدعت نہیں ہے۔
ظہوراحمد
دارالافتا ءجامعۃالرشید کراچی
28 رجب المرجب 1447ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | ظہوراحمد ولد خیرداد خان | مفتیان | فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب |


